
بیسویں صدی کے آغاز میں جب خلافتِ عثمانیہ کے سلطان عبد الحمید ثانیؒ نے دمشق سے مدینہ منورہ تک ریلوے لائن بچھانے کا اعلان کیا تو اس وقت بہت سے یورپی مبصرین نے اسے ایک “ناممکن خواب” قرار دیا تھا۔ مگر صرف آٹھ برس کی مسلسل محنت، اسلامی دنیا کی مالی معاونت اور عثمانی عزم نے ریگستانوں، پہاڑوں اور وادیوں کو چیرتے ہوئے ایک ایسی تاریخی ریل لائن تعمیر کر دی جو صرف لوہے کی پٹریاں نہیں تھی بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، تجارت، حج، دفاع اور سیاسی خودمختاری کی علامت بن گئی۔
آج، تقریباً ایک سو چھبیس برس بعد، وہی خواب ایک نئی شکل میں دوبارہ زندہ ہو رہا ہے۔ ترکی، سعودی عرب، اردن اور شام کے درمیان جاری سفارتی رابطے اور ٹرانسپورٹ معاہدے اس امر کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ “سکۂ حجاز” کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ منصوبہ عملی صورت اختیار کر لیتا ہے تو یہ صرف ایک ریلوے لائن نہیں ہوگی بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے پورے جیو اکنامک منظرنامے کو تبدیل کرنے والا ایک عظیم اسٹرٹیجک منصوبہ بن سکتا ہے۔
یہ منصوبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا شدید جغرافیائی کشیدگی، سمندری راستوں کے عدم استحکام اور عالمی تجارتی جنگوں کے دور سے گزر رہی ہے۔ آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرۂ احمر میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے عالمی تجارت کو مسلسل خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایران، اسرائیل، امریکہ اور یمن کے گرد گھومنے والی حالیہ جنگی صورتحال نے دنیا کو یہ احساس دلایا ہے کہ صرف سمندری راستوں پر انحصار مستقبل میں خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب خطے کی ریاستیں متبادل زمینی تجارتی راہداریوں کی تلاش میں ہیں۔
اسی تناظر میں استنبول سے ریاض تک مجوزہ جدید حجاز ریلوے منصوبہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ترکی، شام اور اردن کے درمیان ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سہ فریقی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب بھی الگ سطح پر ان ممالک سے ریلوے تعاون پر مذاکرات کر رہا ہے۔ منصوبے کے ابتدائی خاکے کے مطابق یہ ریلوے نیٹ ورک تقریباً تین ہزار کلومیٹر طویل ہوگا اور ترکی کو شام، اردن اور سعودی عرب کے ذریعے خلیجی خطے سے جوڑے گا، جبکہ بالآخر یہ یورپ تک رسائی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
یہ منصوبہ دراصل سلطنتِ عثمانیہ کے اس تاریخی خواب کی جدید توسیع ہے جس کے تحت استنبول کو مقدس شہروں سے جوڑنا مقصود تھا۔ سن 1900 میں شروع ہونے والا اصل حجاز ریلوے منصوبہ دمشق سے مدینہ منورہ تک پہنچا تھا اور اس نے حج کے سفر کو ہفتوں سے کم کرکے چند دنوں میں سمیٹ لیا تھا۔ اس سے پہلے حجاج کو اونٹوں کے قافلوں کے ذریعے سخت صحرائی راستے طے کرنے پڑتے تھے، جہاں بیماری، ڈاکوؤں اور موسم کی شدت جیسے خطرات عام تھے۔ ریلوے کی آمد نے نہ صرف سفر آسان کیا بلکہ حجاز کے شہروں میں معاشی سرگرمیوں، تعمیرات اور تجارت کو بھی نئی زندگی دی۔
لیکن پہلی جنگِ عظیم نے اس خواب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ برطانوی حمایت یافتہ عرب بغاوت کے دوران اس ریلوے لائن کو بار بار نشانہ بنایا گیا۔ مشہور برطانوی افسر ٹی ای لارنس اور اس کے اتحادیوں نے عثمانی سپلائی لائن توڑنے کے لیے حجاز ریلوے پر حملے کیے، جس کے بعد خلافت کے خاتمے اور نوآبادیاتی تقسیم نے اس پورے منصوبے کو تاریخ کا حصہ بنا دیا۔
اب ایک صدی بعد، حالات ایک مرتبہ پھر اسی خطے کو زمینی راہداریوں کی اہمیت کی طرف واپس لے آئے ہیں۔ ترک ماہرین اس منصوبے کو “مشرقِ وسطیٰ کی نئی معاشی تقدیر” قرار دے رہے ہیں۔ ترکی کے محقق صالح کایا کے مطابق یہ منصوبہ صرف ریل لائن نہیں بلکہ پورے خطے کے جغرافیائی اور معاشی مستقبل کی ازسر نو تشکیل ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ منصوبہ مکمل ہوتا ہے تو ترکی بحیرۂ روم، بلادِ شام، عراق اور خلیج کے درمیان ایک مرکزی لوجسٹک حب بن سکتا ہے۔
درحقیقت گزشتہ چند برسوں سے دنیا میں “کوریڈور وارز” یعنی تجارتی راہداریوں کی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔ ایک طرف چین کا “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” ہے، دوسری جانب امریکہ، بھارت، یورپ اور خلیجی ممالک “انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ اکنامک کوریڈور” (IMEC) کو فروغ دے رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں ترکی کی کوشش ہے کہ وہ اپنے تاریخی جغرافیہ کو جدید لاجسٹکس کے ساتھ ملا کر ایک ایسا متبادل راستہ بنائے جو ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کو براہِ راست جوڑ دے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض تجزیہ کار اس منصوبے کو IMEC کے لیے ایک سنجیدہ متبادل قرار دے رہے ہیں۔ اگر ترکی سے شام، اردن اور سعودی عرب تک ریل رابطہ قائم ہو جاتا ہے تو خلیجی تجارت براہِ راست یورپی ریلوے نیٹ ورک سے منسلک ہو سکتی ہے۔ اس طرح بحری جہازوں پر انحصار کم ہوگا، نقل و حمل کا وقت گھٹے گا اور تجارتی لاگت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
ترکی کے ٹرانسپورٹ ماہر طارق دوندار کے مطابق دو ہزار کلومیٹر تک فاصلے پر سامان کی ترسیل کے لیے ریل نیٹ ورک سمندری اور سڑک کے راستوں سے زیادہ مؤثر اور کم خرچ ثابت ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اگر چاروں ممالک کے درمیان جدید ریلوے رابطہ قائم ہو گیا تو تجارتی سرگرمیوں میں زبردست اضافہ ہوگا اور سامان کی ترسیل میں تنوع پیدا ہوگا۔
یہ منصوبہ صرف تجارت تک محدود نہیں۔ سعودی عرب کے لیے یہ حج اور عمرہ ٹرانسپورٹ کے نظام میں انقلاب لا سکتا ہے۔ مستقبل میں اگر استنبول، دمشق، عمّان اور مدینہ کے درمیان تیز رفتار ریل سروس چلتی ہے تو لاکھوں زائرین نسبتاً کم خرچ اور آسان سفر کے ذریعے حجاز پہنچ سکیں گے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میں 2034 کے فٹبال ورلڈ کپ کے دوران بھی یہ ریلوے نظام شائقین کی نقل و حرکت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اردن کے لیے یہ منصوبہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے ملک ایک بڑے علاقائی ٹرانزٹ ہب میں تبدیل ہوگا۔ شام کے لیے یہ منصوبہ جنگ سے تباہ حال انفراسٹرکچر کی بحالی اور علاقائی معیشت میں واپسی کا ذریعہ بنے گا، جبکہ ترکی کے لیے یہ یورپ اور خلیج کے درمیان پل کی حیثیت کو مزید مضبوط کرے گا۔
تاہم اس عظیم خواب کے راستے میں بڑے چیلنجز بھی موجود ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ شام میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر ہے۔ برسوں کی خانہ جنگی نے ریلوے لائنوں، پلوں اور اسٹیشنوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین کے مطابق صرف شامی حصے کی بحالی پر اربوں ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح سیکورٹی کا مسئلہ بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ ریلوے لائن ایسے علاقوں سے گزرے گی جو ماضی میں مسلح تنازعات کا مرکز رہے ہیں۔
دوسرا بڑا مسئلہ مالی وسائل ہیں۔ اتنے بڑے منصوبے کے لیے وسیع سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ ترک ماہرین تجویز دے رہے ہیں کہ اس مقصد کے لیے متعلقہ ممالک اور اسلامی ترقیاتی بینک کی شراکت سے ایک مشترکہ ریلوے ہولڈنگ کمپنی قائم کی جائے، جو مالیاتی اور تکنیکی نگرانی سنبھال سکے۔ اس کے علاوہ سیاسی استحکام بھی نہایت ضروری ہوگا۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور شام بھی بتدریج علاقائی سفارت کاری میں واپس آ رہا ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ غیر متوقع رہی ہے۔ کسی بھی نئی جنگ، پابندی یا سیاسی بحران سے یہ منصوبہ متاثر ہو سکتا ہے۔
اس تمام صورتحال کے باوجود ایک حقیقت واضح دکھائی دیتی ہے: دنیا ایک نئی معاشی جغرافیہ کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں طاقت صرف فوجی قوت سے نہیں بلکہ تجارتی راہداریوں، لاجسٹک نیٹ ورکس اور انفراسٹرکچر سے متعین ہوگی۔
ایک صدی پہلے حجاز ریلوے سلطنتِ عثمانیہ کی سیاسی بقا، حج کے تحفظ اور عرب خطے پر مرکزی کنٹرول کی علامت تھی۔ آج وہی تصور جدید دور میں اقتصادی انضمام، علاقائی تعاون اور متبادل تجارتی راستوں کی ضرورت بن کر سامنے آ رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج جب استنبول سے ریاض تک نئی ریل لائن کی بات ہو رہی ہے تو تاریخ ایک بار پھر سلطان عبد الحمید ثانی کے اُس ادھورے خواب کو یاد کر رہی ہے، جو کبھی ریگستانوں میں گونجتی بھاپ کے انجن کی سیٹیوں میں سنائی دیتا تھا اور اب جدید تیز رفتار ٹرینوں کی شکل میں دوبارہ زندہ ہونے کے انتظار میں ہے۔
خدا کرے کہ یہ خواب جلد حقیقت میں بدل جائے۔ آمین۔
Credit : Difa e Islam
WhatsApp us