
رسولﷺ نے متعدد بار اس بات کی پیشین گوئی فرمائی تھی کہ میرے بعد اس امت میں اختلاف پیدا ہوگا اور یہ اختلاف قتل و قتال تک بھی پہنچ جائے گا رسولﷺ نے اپنی امت میں آنے والے فتنوں کی خبر دی اور فرمایا جب وہ فتنے رونما ہوں تو ان میں داخل اور شمار ہونے سے اجتناب کرنا کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ فتنے تمہیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں زرارہ بن عمرو نخعی نے ایک مرتبہ ایک خواب دیکھا کہ زمین سے ایک آگ نکلی جو ان کے اور ان کے بیٹے کے درمیان حائل ہوگئی انہوں نے اپنا یہ خواب رسولﷺ کو سنایا تو آپﷺ نے اس پر فرمایا
اما النار فھی فتنۃ تکون بعدی قال ومال الفتنۃ یا رسولﷺ قال یقتل الناس امامھم ویشتجرون اشتجار اطباق الراس وخالف بین اصابعه دم المؤمن عند المؤمن احلی من الماء یحسب المسیئ انه محسن ان مت ادرکت ابنک و ان مات ابنک ادرکت قال فادع اللّٰہ ان لا تدرکنی فدعاله
ترجمہ: جو آگ تم نے دیکھی ہے اس کی تعبیر ایک فتنہ ہے پوچھا گیا کہ وہ کیسا فتنہ ہوگا تو ارشاد فرمایا کہ لوگ اپنے امام کو قتل کر دیں گے اور اس طرح لڑائیوں اور فتنوں میں داخل ہو جائیں گے جیسے سر کی ہڈیاں ایک دوسرے میں گھسی ہوئی ہیں اور آپ نے اپنی انگلیوں کے درمیان انگلیاں ڈال کر ارشاد فرمایا مومن کا خون مومن کے نزدیک پانی سے زیادہ خوشگوار ہوگا بدکام کرنے والا یہ خیال کرے گا کہ میں اچھا کام کر رہا ہوں اگر تو مر گیا تو وہ فتنہ تیرے بیٹے کو پکڑے گا اور اگر تیرا بیٹا مر گیا تو وہ فتنہ تجھے پکڑے گا زرارہ نے کہا اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے اس فتنے سے بچائے رکھے رسولﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔
(استیعاب ماخوذ: ازالہ جلد 1 صفحہ397)
عبداللہ بن حوالۃ اسدی کہتے ہیں کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا۔ “من نجا من ثلاثہ فقد نجا قالوا ماذا یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال موتی وقتل خلیفۃ مصطبر بالحق یعطیہ ومن الدجال”
ترجمہ: جو شخص تین باتوں سے محفوظ رہا وہ بس بچ گیا۔
1) میری موت (کے معاملہ میں پھسل نہ جانا)۔
2) ایک خلیفہ کے قتل پر (اپنے ہاتھ اور منہ کو بند رکھنا) جو حق کے ساتھ اس مصیبت پر صبر کرنے والا ہوگا۔
3) اور دجال (کے فتنے سے بچے رہنا اس کے قریب نہ جانا)۔
( مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 108، تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ 181)
30 ہجری کے قریب سیدنا عثمانؓ مدینہ کے ایک کنواں بئر اریس کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے وہ مہر نبوت گر گئی جس سے رسولﷺ اپنے مکتوبات پر مہر لگایا کرتے تھے اور آپﷺ کے بعد حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ بھی اسی سے مہر لگاتے تھے سیدنا عثمانؓ خلیفہ ہوئے تو آپؓ بھی اس سے مہر لگاتے تھے اس پر محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا۔
(صحیح مسلم: جلد 2 صفحہ 196)
سیدنا عثمانؓ کو اس کا شدید دکھ ہوا آپ رضی اللہ عنہ نے اس کنویں کا سارا پانی نکال دیا مگر وہ مہر آپؓ کو نہ ملی اس مہر کے گم ہو جانے کے بعد سیدنا عثمانؓ اور آپ کی خلافت آزمائش میں آ گئی اور یہ اشارہ تھا کہ اب فتنے بڑی تیزی سے ابھریں گے۔
رسولﷺ کی دی ہوئی فتنوں کی پیشگوئی حضرت عثمانؓ کے دور خلافت کے آخری چند سالوں میں کھل کر سامنے آئی فتنے اور اختلافات نے زور پکڑا آپ نے اس فتنے میں جس امام کے شہید ہونے کی پیش گوئی فرمائی وہ امام سیدنا عثمانؓ ہوئے آپؓ خود بھی فرماتے ہیں وہ امام مظلوم میں ہوں آپؓ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے کہا کہ رسولﷺ نے فرمایا: سیقتل امیر وینتزی منتز وانی انا المقتول ولیس عمر انما قتل عمر واحد وانہ یجتمع علی
ایک امیر قتل کیا جائے گا اور کوئی حملہ کرنے والا حملہ کرے گا (آپ نے جس کے بارے میں یہ بات فرمائی) وہ امیر مقتول میں ہی ہوں حضرت عمرؓ نہیں ہیں حضرت عمرؓ کو ایک شخص نے قتل کیا تھا جبکہ مجھے قتل کرنے والا ایک پورا گروہ ہوگا
(تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ 182)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃاللہ لکھتے ہیں
رسولﷺ نے ان حدیثوں میں جو حد تواتر کو پہنچ چکی ہیں بیان فرمایا کہ سیدنا عثمانؓ شہید ہوں گے اور ان کی شہادت کے قریب ایک عظیم فتنہ برپا ہوگا جو لوگوں کی وضع اور رسموں کو بدل دے گا اور اس کی آفت عالمگیر ہوگی جو زمانہ کہ اس فتنہ سے پہلے کا ہے اس کو آپ نے طرح طرح کی خوبیوں کے ساتھ موصوف کیا اور جو زمانہ اس کے بعد کا ہے اس کو انواع و اقسام کی برائیوں سے یاد کیا ہے اور اس فتنے کے بیان میں آپ نے انتہاء درجے کی توضیح کی یہاں تک کہ اس بیان کا اس فتنہ پر منطبق ہونا جو واقع ہوا کسی شخص پر پوشیدہ نہ رہا اور حضرت نے اس نہایت واضح عبارت میں یہ بیان فرمایا کہ اس فتنہ سے خلافتِ خاصہ کا انتظام ٹوٹ جائے گا اور زمانہ نبوت کی جو برکتیں باقی ہوں گی وہ چھپ جائیں گی اس بات کو ابھی آپ نے ایسا کھول کر بیان فرمایا کہ اصل حقیقت کے اوپر سے پردہ اٹھ گیا اور حجت الہٰی اس کے ثبوت سے قائم ہوگئی۔
(ازالۃ الخفا: جلد 1 صفحہ 379)
اس فتنے کے ظہور میں آنے کے جو اسباب تھے وہ یکے بعد دیگرے ابھرتے گئے ایک طرف اسلامی مملکت کا دائرہ بڑھتا جا رہا تھا تو دوسری طرف مسلمان فقر و فاقہ کی زندگی سے نکل کر خوشحالی اور دولتمندی میں داخل ہو رہے تھے دنیاوی آسائش و آرائش ان کے قریب ہوتی جارہی تھی اجلہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین یکے بعد دیگرے اپنے خیمے جنت میں لگا رہے تھے اور نئی نسل اس بات سے پوری طرح واقف نہ تھی کہ ان کے اسلاف نے کن قربانیوں اور جدوجہد سے اسلام کی خدمت کی تھی اور سوکھے پتے کھا کر اللہ کے دین کا پرچم تھامے رکھا تھا ظاہر ہے جب دولت کی ریل پیل ہو جائے مال غنیمت اور فتوحات کے دروازے یکے بعد دیگرے وا ہونے لگیں وہ تقویٰ بھی باقی نہ رہے جو ان سے پہلوں کا تھا تو پھر اس کے اثرات بھی ظاہر ہو کر رہتے ہیں سیدنا عثمانؓ اس سے بےخبر نہ تھے آپ جانتے تھے کہ لوگ ان فتوحات کے نتیجے میں گم ہو جائیں گے اور اپنی منزل کھو دیں گے تو آپ انہیں وعظ و نصیحت فرماتے تھے ایک موقع پر آپﷺ نے اس طرح نصیحت فرمائی تھی اے لوگو! اللہ نے تمہیں دنیا اس لیے دی ہے کہ تم اس کے ذریعے آخرت کماؤ اس لیے نہیں دی کہ تم اسی کہ ہوکر رہ جاؤ یہ دنیا فنا ہو جائے گی جبکہ آخرت باقی رہنے والی ہے دنیاوی خواہشات اور آسائشوں میں پڑ کر اپنی آخرت سے غافل نہ ہو جانا۔
سیدنا عمرؓ کے دورِ خلافت میں یہود و نصاریٰ اور دوسری قومیں جس طرح شکست سے دو چار ہوئیں ان کا اقتدار مسلمانوں کو ملا وہ اس پر سخت غصے میں تھے اور ان کا دل انتقام کے لیے بے چین تھا سیدنا عمرؓ کے بعد بعض علاقوں میں بغاوتیں پھیلائی گئیں مگر سیدنا عثمانؓ نے حسن تدبیر سے ان بغاوتوں کو ختم کیا اور انہیں اپنی سازش میں کامیاب نہ ہونے دیا بظاہر یہ فتنہ گو دبا نظر آرہا تھا مگر اندر ہی اندر یہ بڑی تیزی سے اپنے منصوبہ پر کام کر رہا تھا اس کا پہلا قدم یہ تھا کہ مسلمانوں کے خلیفہ اور اس کے گورنروں کے خلاف ایسا خطرناک پراپیگنڈہ کیا جائے جس کے نتیجے میں لوگ ان کی جانب مائل ہو جائیں اور انہیں ان کی ہمدردی مل جائے نیز سیدنا عثمانؓ اور حضرت علیؓ اور ان کے معتقدین کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کی جائے اور حضرت علیؓ کی محبت کا نعرہ لگا کر خلیفہ وقت سے چھٹکارا حاصل کیا جائے اور انہیں آپس میں اتنا الجھا دیا جائے کہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی قوت اور فتوحات کے قدم کچھ عرصہ کے لیے رک جائیں اس تحریک میں گو اسلام کے نام لیواؤں کی ایک بڑی تعداد کے شامل ہونے کا انکار نہیں مگر درحقیقت ان کے پیچھے یہود و نصاریٰ اور منافقین تھے
محمد بن جریر طبری(310ھ) نے لکھا:
ابن سباء نے یہ بات پھیلائی کہ گزشتہ زمانے میں بہت سے انبیاء گزرے اور ہر نبی کا ایک وصی (جانشینی کی جس کے بارے وصیت کی گئی ہو) ہوتا ہے اور رسولﷺ کے وصی علی بن ابی طالب ہیں اور رسولﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور علی خاتم الاوصیاء ہیں اس نے یہ بھی کہا کہ اس سے زیادہ ظالم کون ہے جس نے رسولﷺ کی وصیت پر عمل نہ کیا اور رسول اللہ کے وصی کے حق کو غصب کر کے امت کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا پھر اس نے کہا کہ عثمانؓ نے خلافت پر ناحق قبضہ کر رکھا ہے جبکہ یہاں رسول اللہ کا وصی خود موجود ہے اس لیے تم اس کی مخالفت کرو اور اسے معزول کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہو اور اس کام کا آغاز اپنے اپنے علاقوں کے حکام پر طعن و تشنیع سے کرو اور یہ ظاہر کرو کہ تم نیک کام کا حکم دیتے ہو اور برے کام سے روکتے ہو پھر اس طرح تم عوام کو اپنی طرف مائل کر سکو گے جب وہ تمہاری طرف مائل ہو جائیں تو پھر انہیں اس کام کے لیے بلاؤ۔
ان سبب تالب الاھزاب علی عثمانؓ رجلا یقال له عبداللہ بن سبا کان یھودیا فاظھر الاسلام وصار الی مصر فاوحی الی طائفۃ من الناس کلاما اخترعه من عند نفسه مضمونه انہ یقول للرجل الیس قد ثبت ان عیسی بن مریم سیعود الی ھذہ الدنیا فیقول الرجل نعم فیقول لہ فرسول اللّٰہ افضل منہ فما تنکر ان یعود الی ھذہ الدنیا وھو اشرف من عیسیٰ ابن مریم ثم یقول وقد کان اوصی الی علی بن ابی طالب فمحمد خاتم الانبیاء و علی خاتم الاوصیاء ثم یقول فھو احق بالامرۃ من عثمانؓ و عثمانؓ معتمد فی ولایۃ ما لیس لہ فانکروا علیہ واظھروا الامر بالمعروف والنھی عن المنکر فافتتن بہ بشر کثیر من اھل مصر و کتبوا الی جماعات الی عوام اھل الکوفۃ و البصرۃ فتمالوا علی ذالک وتکاتبوا فیہ وتواعدوا ان یجتمعوا فی الانکار علی عثمانؓ وارسلوا الیہ من یناظرہ ویذکر لہ ما ینقمون علیہ من تولیتہ اقربائہ وذوی رحمہ و عزلہ کبائر الصحابۃ فدخل ھذا فی قلوب کثیر من الناس
ترجمہ: حضرت عثمانؓ کی دشمنی پر لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنے کا طریقہ کار یہ بنا کہ ایک شخص جسے عبداللہ بن سباء کہا جاتا ہے اور وہ یہودی تھا اس نے کہا کہ وہ مسلمان ہو گیا ہے اور پھر مدینہ سے مصر چلا گیا اس نے کچھ لوگوں سے کچھ خفیہ باتیں کیں جسے اس نے خود وضع کیا تھا اور وہ کہنے لگا کہ کیا یہ ثابت نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عنقریب اس دنیا کی طرف دوبارہ لوٹیں گے وہ آدمی کہے گا ہاں تو وہ اسے کہے گا کہ رسولﷺ تو ان سے افضل ہیں تو تم ان کے دوبارہ آنے کا کیوں انکار کرتے ہو پھر وہ کہنے لگا کہ محمدﷺ تو خاتم الانبیاء ہیں اور علی بن ابی طالب خاتم الاوصیاء ہیں پھر وہ کہنے لگا کہ حضورﷺ نے علیؓ کو اپنا وصی بنایا ہے اور وہ عثمانؓ کی بہ نسبت اس خلافت کے زیادہ حق دار ہیں عثمانؓ تو خلافت میں زیادتی کرنے والے ہیں جو انہیں نہیں کرنی چاہیے پس ان لوگوں نے حضرت عثمانؓ پر عیب لگائے اور بظاہر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اظہار کیا اس سے بہت سے اہل مصر ان کے اٹھائے فتنے میں پڑ گئے اور انہوں نے کوفہ اور بصرہ کے لوگوں کو اور جماعتوں کی طرف خطوط لکھے تو وہ ان کی مدد کے لیے تیار ہوگئے اور آپس میں خط و کتابت کی اور وعدے معاہدے ہوئے کہ وہ عثمان غنیؓ پر عیب لگائیں گے اور پھر انہوں نے اپنے آدمیوں کو حضرت عثمانؓ کے پاس بھیجا کہ وہ ان سے اس بارے میں بات چیت کریں اور بتائیں کہ وہ آپ سے اس لیے ناراض ہیں کہ انہوں نے اپنے قرابت داروں کو کیوں عہدے دیے اور صحابہ کو کیوں معزول کیا ان کے پروپیگنڈے سے بہت سے لوگ متاثر ہوگئے۔
یہ بات صرف اہل سنت مؤرخین نہیں کہتے بلکہ شیعہ مؤرخین بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے خلاف بات اسی عبداللہ بن سباء نے اٹھائی تھی
عبداللہ ابن سباء مرد یہود بود در زمان عثمانؓ بن عفان مسلمانی گرفت چوں مسلمان شد خلافتِ عثمانؓی در خاطر او پسند نے فتاد پس در مجالس و محافل اصحاب بہ نشستے وقبائح اعمال و مثالب عثمانؓ را ہرچے تواناتے باز گفتے۔ عبداللہ بمصر آمد۔ گفت ہاں اے مردم گر نشیندہ اید نصاریٰ گویند۔ چوں ایں سخن در خاطر پاجائے گیر ساخت گفت خداوند صد و بیست و چہار ہزار پیغمبر بدیں زمین فرد فرستاد ہر پیغمبرے را وزیرے و خلیفتے بود چگونہ می شود پیغمبرے از جہاں برود خاصہ وقتیکہ صاحب شریعت باشد ونائبے و خلیفتے بخلق نگمار دوکار امت کا مہمل بگزار ہمانا محمد را علی علیہ السلام وصی و خلیفہ بود۔ علی علیہ السلام خلیفہ محمد است وہ عثمانؓ ایں منصب را غصب کردہ و باخود بستہ عمر نیز بنا حق ایں کار بشوری افگند عبد الرحمن بن عوف بہوائے نفس دست بر دست عثمانؓ زود دست علی را کہ گرفتہ بود او بیعت کند رہا داد ہنوز آں نیر نیست کہ بتوانیم عثمانؓ را دفع داد واجب میکند کہ چندانکہ بتوانیم عمال عثمانؓ را کہ آتش جور و ستم را وامن ہمی زنند ضعیف داریم و قبائح اعمال ایشاں رابر عالمیاں روشن سازیم و دلہائے مردم را از عثمانؓ و عمال او بگر دانیم۔ و او را از خلیفتے خلع فرمانید
ترجمہ:عبداللہ بن سباء ایک یہودی شخص تھا عثمانؓ کے دور میں (منافقانہ طور پر) مسلمان ہوا اسے حضرت عثمانؓ کی خلافت اچھی نہیں لگتی تھی اپنے دوست یار کی مجلسوں اور محفلوں میں حضرت عثمانؓ کی ہر ممکنہ برائیاں کرتا تھا پھر وہ مصر آیا اور یہاں کے لوگوں کے یہ کہہ کر کان بھرے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں آسکتے ہیں تو ان سے زیادہ افضل محمدﷺ کیوں نہیں آ سکتے پھر اس نے کہا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے اور ہر پیغمبر کا کوئی وزیر اور جانشین ہوا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حضورﷺ دنیا سے اس طرح جائیں کہ ان کا وزیر و خلیفہ تک نہ ہو اور وہ اپنی امت کو یوں بےکار ہی چھوڑ کر چلا جائے حضرت علی بن ابی طالب اس پیغمبر کے وصی اور خلیفہ تھے عثمانؓ نے اس منصب خلافت پر بزور قوت قبضہ کر رکھا تھا عمر فاروقؓ نے بھی ناحق طور پر اس معاملہ کو مجلس شوریٰ کے سپرد کر دیا اور عبدالرحمٰن بن عوف نے خواہش نفسانی کے تحت عثمانؓ کی بیعت کر لی اور علیؓ کو بھی زبردستی بیعت کرا کر ہی چھوڑا۔ اب شریعت ہم پر لازم کرتی ہے کہ ہم س باب میں کسی کی رعایت نہ کریں۔ اگرچہ ہمارے پاس اتنی طاقت نہیں کہ ہم عثمانؓ کو بزور قوت خلافت سے اتار دیں لیکن اتنا تو کر سکتے ہیں کہ عثمانؓ کے گورنروں کو ظلم و ستم کے نام پر بدنام کرکے ان کو کمزور کردیں اور ان کی برائیوں کا پروپیگنڈا کریں اور عوام کے دلوں کو عثمانؓ اور اس کے کارندوں سے برگشتہ کر دیں سو انہوں نے کئی مقامات پر خطوط لکھے اور ابن سعد بن ابی سرح کے خلاف پروپیگنڈہ کیا لوگوں کو ان کے خلاف منظم کیا تاکہ وہ ایک گروہ ہوکر مدینہ آئیں اور سیدنا عثمانؓ کو خلافت سے نکالیں۔
سیدنا عثمان غنیؓ کے خلاف فتنہ اور فساد برپا کرنے والا عبداللہ بن سباء تھا جو اصلاً یہودی تھا اور اس نے ہی شیعہ مذہب کی ایجاد کی۔ آج بہت سے اہلِ تشیع اس عبداللہ بن سباء کا سرے سے انکار کرتے ہیں۔ آئیے اہل تشیع کی معتبر اور بنیادی کتب سے عبداللہ بن سباء کے متعلق چند حوالے پڑھ لیں، پھر حضرت عثمانؓ کے واقعۂ شہادت کی طرف بڑھتے ہیں۔
تیسری صدی کے معروف رافضی مؤرخ ابو محمد الحسن بن موسیٰ النوبختی نے اپنی کتاب فرق الشیعہ صفحہ 44 میں چوتھی صدی کے مشہور شیعہ عالم ابو عمرو محمد بن عبد العزیز نے اپنی کتاب رجال کشی جلد 2 صفحہ 183 میں اور شیعہ ملّا محمد بن یعقوب کلینی نے اصول کافی جلد 7 صفحہ 257 میں ابنِ سباء کی ذات کو تسلیم کیا ہے اور مانا ہے کہ یہ ایک یہودی تھا جس نے مسلمان ہونے کا دعویٰ کیا اور اسی نے سب سے پہلے حضرت علی المرتضیٰؓ کو حضورﷺ کا وصی (جانشین) قرار دیا اور آپﷺ کی رجعت (قیامت سے پہلے رسولﷺ کے دنیا میں آنے) کا عقیدہ بیان کیا، اسی نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبرا بازی (گالی گلوچ) شروع کی اور حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کی خلافت سے کھلے عام برأت کا اظہار کیا تھا۔
اب ایک نظر مستشرقین کے بیانات پر ڈال لیجیے کہ وہ ابن سباء کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔
سر ولیم مور، جس کی اسلام دشمنی کسی سے مخفی نہیں، لکھتا ہے کہ:
ابن سباء نے مصر میں سکونت اختیار کرلی اور وہاں سے اسلام کے خلاف نظریاتی جنگ شروع کر دی اس نے کہا کہ حضرت عیسیٰؑ کی طرح محمدﷺ کی بھی رجعت(قیامت سے پہلے دنیا میں واپسی) ہوگی اور علیؓ نبیﷺ کے وصی تھے جن سے حضرت عثمانؓ نے خلافت چھین لی ہے اور اب انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے
(خلافت کا عروج وزوال: صفحہ 217 از سر ولیم مور)
پروفیسر نکلسن اپنی کتاب تاریخِ عرب میں لکھتا ہے:
ابن سباء نے مصر سے اعلان کیا کہ نبی(ﷺ) کی رجعت ہوگی اور جس طرح سابقہ ایک ہزار نبیوں کے وصی تھے اسی طرح حضرت علیؓ نبیﷺ کے وصی تھے لیکن ابوبکر و عمر و عثمان (رضی اللہ عنہم) نے ان سے خلافت چھین لی تھی (تاریخِ عرب: صفحہ 215)
ڈاکٹر ڈونالڈسن نے اپنی کتاب ”اسلام میں شیعہ مذہب“ میں ایک پوری فصل ابن سباء کے حال پر لکھی ہے، اس میں موصوف نے لکھا کہ
“ابن سباء نے اپنے اس عقیدے کی تبلیغ کے لیے اسلامی ممالک کا دورہ بھی کیا اور ساتھ ہی اس نے ابوبکر و عمر و عثمان (رضی اللہ عنہم) کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہوئے ان پر خلافت غصب کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرح مسلمانوں کے نبی بھی دنیا میں آئیں گے اور ہر نبی کے وصی کی طرح علیؓ بھی نبی(ﷺ) کے وصی تھے لیکن محمد(ﷺ) کے بعض ساتھیوں نے ان کی وصیت کا احترام نہیں کیا اور علیؓ کے ساتھ غداری کی اس لیے مسلمانوں پر ضروری ہے کہ وہ غاصبوں پر زور ڈالیں کہ وہ علیؓ سے چھینے ہوئے حقوق ان کو واپس کریں۔
موصوف نے آخر میں یہ بھی لکھا ہے کہ:
ابن سباء حضرت عثمانؓ کو مفسد اور تخریب پسند گردانتا تھا اور یہ بات علی الاعلان کہتا تھا کہ نبیﷺ کی وفات کے بعد الوہیت حضرت علیؓ میں منتقل ہو گئی ہے۔
(ماخوذ از حقیقتِ رافضیت از ڈاکٹر محمد یوسف نگرامی: صفحہ 98)
سبائیوں نے سیدنا عثمانؓ کے خلاف اس طرح پروپیگنڈہ کیا کہ نوجوان اور نئے مسلمان ہونے والے اس سے متاثر ہوگئے اور اس کو حقیقت سمجھ لیا انہوں نے اس پر غور کرنے کی زحمت نہ کی کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا مقصد اسلامی خلافت کی اساس کو اکھاڑنا اور فتح ہونے والے علاقوں میں قوت کے ساتھ بغاوت اٹھانا تھا تاکہ مسلمانوں کے قدم نہ صرف یہ کہ آگے بڑھنے سے رکیں بلکہ خود مسلم فوجیں ان مفتوحہ علاقوں سے بھی نکلنے پر مجبور ہو جائیں۔ حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف جن الزامات کو بڑے شد و مد کے ساتھ اٹھایا گیا اور جگہ جگہ ان کو پھیلایا گیا۔ ان میں سے کچھ یہ تھے:
1) حضرت عثمان ذوالنورینؓ اپنے رشتہ داروں کا زیادہ خیال رکھتے ہیں اور زیادہ تر حکومتی مناصب انہوں نے اپنے خاندان کے لوگوں کو دیے ہیں۔
2) حضرت عثمان ذوالنورینؓ نے ان صحابہ (رضی اللہ عنہم) کو، جو حضرت عمرؓ کے دور سے گورنر چلے آ رہے تھے، معزول کردیا اور ان کی جگہ دوسروں کو متعین کر دیا۔
3) حضرت عثمان ذوالنورینؓ بیت المال میں بےجا تصرف کرتے ہیں اور اپنے اقرباء کو بیت المال سے نوازتے رہتے ہیں۔
4) حضرت عثمان ذوالنورینؓ نے بعض مسائل میں اپنے پیشرو خلفاء کی مخالفت کی ہے لہٰذا اب وہ اس لائق نہیں رہے کہ انہیں مسلمانوں کا خلیفہ رکھا جائے۔
یہ اور اس قسم کے اور بہت سے الزامات کی بوچھاڑ کر کے یہ مطالبہ کیا جانے لگا کہ سیدنا عثمانؓ خلافت سے دستبرداری کا اعلان کریں ورنہ ان کے خلاف بغاوت کی جائے گی۔ جیسا کہ ہم بتا آئے ہیں کہ اس فتنہ کا سرغنہ بلکہ بانی عبداللہ ابن سباء نامی ایک یہودی تھا جس نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر حضرت عثمانؓ کے خلاف یہ تحریک شروع کی۔
کان مبدا الطعن علی امیر المؤمنین عثمان بن عفان افساد عبداللہ بن سباء
(مختصر تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ 182)
اور خواہش پرستوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ ہوگئی۔ اس کے بعد اس نے اپنے ہم خیال گروپ کو دعوت دی کہ سیدنا عثمانؓ سے خلافت چھین لو، ان کا اب اس خلافت پر کوئی حق نہیں ہے۔ پھر اس نے مختلف علاقوں کے لوگوں کو خطوط بھیج کر اس پر اکسایا اور اس کے لیے ایک اچھی خاصی جماعت تیار کرلی۔ انتہاء تو یہ تھی کہ اس کی طرف سے مختلف علاقوں میں بھیجے گئے خطوط میں حضرت علی، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم کا نام استعمال کیا گیا اور ان کے نام سے سیدنا عثمانؓ کے خلاف اٹھنے کی ترغیب دی گئی اور کہا گیا کہ ان کے خلاف اٹھنا دین کی مدد کرنا ہے۔
وزورت کتب علی لسان الصحابۃ الذین بالمدینۃ علی لسان علی و طلحۃ و زبیر یدعون الناس الی قتال عثمان ونصر الدین وانہ اکبرالجہاد الیوم۔
(البدایہ والنہایہ: جلد 7 صفحہ 173)
حضرت عثمان غنیؓ کو جب معلوم ہوا کہ اندرون خانہ کوئی سازش ہو رہی ہے تو آپؓ نے قسم کھا کر کہا کہ فتنے کی چکی اب بس گھومنے والی ہے، عثمانؓ کے لیے اچھا ہے کہ وہ دنیا سے رخصت ہو جائیں اور ان کا شمار ان لوگوں میں نہ ہو جائے جو فتنے بھڑکانے والے ہیں۔
(طبری: جلد 3 صفحہ 249)
پھر آپؓ نے اپنے گورنروں کے بارے میں پھیلائی جانے والی خبروں کے بارے میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا سب کی رائے یہ تھی کہ ان خبروں کی تحقیق کے لیے ایک جماعت بھیجی جائے تاکہ اس کے سچ یا جھوٹ ہونے کا پتہ چلے چنانچہ حضرت عثمان غنیؓ نے مختلف علاقوں میں اپنے اصحاب بھیجے۔
(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 348)
آپؓ نے جن لوگوں کو اس کام پر مقرر فرمایا ان میں
1: حضرت محمد بن مسلمہؓ تھے جن کی دیانت و شرافت مسلمہ تھی اور ان کی تفتیش پر حضرت عمرؓ بھی اعتماد فرماتے تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں کوفہ بھیجا۔
2: حضرت اسامہ بن زیدؓ کو منتخب کیا یہ وہی اسامہؓ ہیں جنہیں حضورﷺ نے اپنے آخری دنوں میں ایک فوج کا امیر بنایا تھا اور آپؓ کی قیادت و امارت میں لشکر بھیجنے کی وصیت فرمائی تھی۔ حضرت عثمان غنیؓ نے انہیں بصرہ بھیجا۔
3: حضرت عمار بن یاسرؓ ہیں، جن کی عظمت و جلالت کسی مسلمان سے مخفی نہیں۔ حضرت عثمان غنیؓ نے انہیں مصر بھیجا۔
4: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جن کی بزرگی اور دیانتداری میں کوئی شبہ نہیں۔ آپؓ نے انہیں شام بھیجا اور ان کے علاوہ دوسرے ذمہ دار اصحاب کو دوسرے علاقوں کی طرف روانہ فرمایا۔ انہوں نے پوری تحقیق کے بعد آکر بتایا کہ یہ صرف پروپیگنڈہ ہے جو حضرت عثمان غنیؓ کے گورنروں کے خلاف کیا جارہا ہے، ہم نے وہاں ایسی کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں دیکھی اور نہ ہی وہاں کے خواص و عوام کو کسی ناخوش گوار معاملہ کا علم ہے۔ مسلمانوں کو اپنے معاملات پر اختیار ہے اور ان کے حکام ان کے درمیان عدل و انصاف کرتے ہیں اور ان کی خبر گیری کرتے ہیں۔
(طبری: جلد 3 صفحہ 347)
جبکہ آپؓ کے مخالفین چاہتے ہیں کہ اسلامی خلافت کے بارے میں مسلمانوں کو فتنہ میں ڈال دیا جائے۔ سیدنا عثمانؓ نے پوچھا کہ ان فتنہ بازوں اور مملکت اسلامیہ کے خلاف خطرناک کھیل کھیلنے والوں سے کس طرح نمٹا جائے آپؓ کے بعض رفقاء نے ان کے ساتھ سختی سے کام لینے پر زور دیا۔ آپؓ نے فرمایا کہ میری رائے یہ ہے کہ سختی سے کام نہ لیا جائے، البتہ حدود اللہ میں کسی نے کوتاہی کی تو اس کے بارے میں تساہل نہ برتا جائے۔
حضرت عثمان غنیؓ نے باوجود اس کے کہ یہ صرف پروپیگنڈہ تھا آپؓ نے مختلف شہروں کے لوگوں کے نام ایک خط لکھا تاکہ ان علاقوں کے لوگوں پر بھی اس پروپیگنڈے کی حقیقت کھل جائے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے لکھا کہ:
میں نے تمام حکام کے لیے لازم کردیا ہے کہ وہ ہر موسمِ حج میں میرے ساتھ ملاقات کریں اور جب سے میں خلیفہ ہوا ہوں اس وقت سے میں نے ملت اسلامیہ کے لیے یہ اصول بنا دیا ہے کہ نیکی کا حکم دیا جائے اور برے کاموں سے روکا جائے، اس لیے جو بھی میرے سامنے اور میرے حکام کے سامنے مطالبہ حق پیش کرے گا وہ حق ادا کیا جائے گا اور میری رعایا کے حقوق میرے اہل و عیال کے حقوق پر مقدم ہوں گے۔ نیز اہل مدینہ کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ کچھ لوگ اہل مدینہ کو برا بھلا کہ رہے ہیں اور کچھ لوگ مار پیٹ بھی کر رہے ہیں تو پوشیدہ حالات میں طعن کرنا ملامت کرنا، گالی دینا اور زد و کوب کرنا ایک انتہائی برا فعل ہے اور جو کوئی کسی حق کا دعویدار ہو وہ موسم حج میں میرے پاس آئے اور اپنا حق حاصل کرے خواہ اس کا تعلق مجھ سے ہو یا میرے کسی گورنر سے یا پھر خود ہی تم اسے معاف کرو تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ معاف کرنے والوں کو جزائے خیر دے گا۔ (طبری: جلد 3 صفحہ 348)
حضرت عثمان غنیؓ کا گرامی نامہ جب مختلف شہروں کے لوگوں کے سامنے پڑھا گیا تو عوام رونے لگے اور انہوں نے آپؓ کے حق میں دعائیں کیں اور کہنے لگے کہ مصیبت کے آثار نظر آرہے ہیں (ایضاً)۔
پھر جن سازشی لوگوں کے آپؓ پر الزام لگائے گئے آپؓ نے ان پر پوری صفائی پیش کی اور ان کی ہر بات کا جواب دیا انہیں مسلمانوں میں دراڑیں پیدا کرنے سے روکا اور کوشش کی کہ وہ اپنی اس شرارت سے باز آجائیں مگر یہ لوگ اپنی شرارت سے باز نہ آئے اور لوگوں کو حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف بھڑکاتے رہے۔
پھر سیدنا عثمانؓ نے مختلف شہروں کے گورنروں کو اپنے پاس بلایا تاکہ ان سے بھی مشاورت کی جائے ان حضرات نے اپنی اپنی رائے سے حضرت عثمان غنیؓ کو آگاہ کیا آپؓ نے ان کی بات سنی اور حمد و ثناء کے بعد ان سے فرمایا: تم نے مجھے جو مشورے دیے ہیں وہ میں نے سن لیے تاہم یاد رکھو کہ ہر بات کو انجام دینے کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے اور وہ بات جس کا امت کو شدید اندیشہ ہے وہ تو ہو کر رہے گی اور فتنہ کا جو دروازہ بند ہے اسے نرمی اور صبر و تحمل کے ساتھ بند رکھنے کی کوشش کی جائے، تاہم اللہ کی حدود اور قوانین کی حفاظت میں کوئی کمی کوتاہی نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ گواہ ہے کہ میں نے اپنی ذات اور لوگوں کی خیر و بھلائی کے لیے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ تم لوگوں کو فتنہ فساد کی طرف جانے سے روکو، ان کے حقوق ادا کرتے رہو اور ان سے درگزر کا معاملہ کرو۔
(طبری: جلد 3 صفحہ 349)
پھر حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے گورنروں کو اہم نصیحتیں فرما کر رخصت کیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ان ہدایات پر عمل کریں حضرت امیر معاویہؓ جب واپس ہونے لگے تو انہوں نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے حضرت عثمان غنیؓ سے عرض کیا کہ ان حالات میں آپؓ کا یہاں ٹھہرنا مناسب نہیں، بہتر ہے کہ کچھ عرصے کے لیے میرے پاس ملک شام آ جائیں۔ سیدنا عثمانؓ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ میں کسی قیمت پر بھی حضورﷺ کی ہمسائیگی کو نہیں چھوڑ سکتا اگرچہ اس میں میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ حضرت معاویہؓ نے عرض کیا کہ اگر آپ اجازت دیں تو آپؓ اور اہل مدینہ کی حفاظت کے لیے فوج بھیج دی جائے، آپؓ نے فرمایا کہ نہیں! ان کے یہاں آنے اور رکنے سے یہاں کے معاشی حالات پر اثر پڑے گا اور میں نہیں چاہتا کہ اس سے حضورﷺ کے پڑوسیوں (یعنی اہل مدینہ) کو تکلیف پہنچے، اور میں انہیں ہرگز کسی تنگی میں نہیں اتارنا چاہتا۔ حضرت معاویہؓ نے کہا کہ حالات بتا رہے ہیں کہ آپؓ پر اچانک حملہ ہوگا اور پھر آپؓ کو جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سیدنا عثمانؓ نے فرمایا کہ میرے لیے اللہ کافی ہے اور وہی سب سے اچھا کارساز ہے۔ (طبری: جلد 3 صفحہ 352)
انا لا ابیع جوار رسول اللہ بشئ ولو کان فیہ قطع خیط عنقی۔۔ قال عثمان لا اقترن علی جیران رسول اللّٰہ الارزاق بجند تساکنھم ولا اضیق علی اھل ہجرۃ والنصرۃ۔۔ قال عثمان حسبی اللہ ونعم الوکیل(تاریخ طبری)
انہی دنوں حج کے ایام بھی قریب تھے مصر سے غافقی بن حرب کی قیادت میں پانچ سو کے قریب لوگ مکہ کی جانب چل پڑے ادھر اہل کوفہ اور اہل بصرہ بھی ایک بڑی تعداد لے کر مدینہ کے راستے مکہ کی جانب چلے۔ یہ تینوں گروپ اپنے اپنے مقاصد کے تحت چلے تھے لیکن ان سب کا مشترکہ مقصد حضرت عثمان غنیؓ کی خلافت کا خاتمہ تھا۔ کوفہ والے حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو پسند کرتے تھے، بصرہ کے لوگ زبیر بن العوامؓ کو اور مصر کے لوگوں نے سیدنا علیؓ کو منتخب کیا ہوا تھا، چنانچہ ہر جماعت کا ایک ایک وفد اپنی اپنی پسندیدہ شخصیت کے پاس گیا۔ اہل مصر جب حضرت علیؓ کے پاس آئے اور اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو سیدنا علیؓ نے انہیں نکال باہر کیا اور فرمایا کہ اللہ کے رسولﷺ کی زبان سے تم ملعون لوگ ہو۔ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی انہیں سخت لہجے میں جواب دیا تو انہیں احساس ہوا کہ وہ اپنے مقصد میں اس طرح کامیاب نہیں ہو سکتے۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ایک بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حضرت عثمانؓ سے عامل کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا تو آپؓ نے ان کا مطالبہ مان لیا تھا۔ سیدنا عثمانؓ نے محمد بن مسلمہؓ کو بلا کر کہا کہ ان سے جا کر کہو کہ وہ جو چاہتے ہیں انہیں مل جائے گا۔
اذھب الیہم فارددھم عنی واعطھم الرضی واخبرھم انی فاعل باالامور التی طلبوا ونازع عن کذا بالامور التی تکلموا فیھا۔
(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 47)
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے بعض اقدامات کے باعث یہ فتنہ اٹھا تھا، ان کی یہ بات قابلِ تسلیم نہیں۔ درحقیقت یہ ایک سازشی گروہ کی تخریب کاری کی تحریک تھی اور انہوں نے چند باتوں کو عنوان بنا کر سیدنا عثمانؓ کی کردار کشی شروع کی تھی۔
فتنہ پرداز لوگوں کی یہ چال تھی کہ حضورﷺ کے بعض جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا نام استعمال کر کے عام اور سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کیا جائے اور ان کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کر دیا جائے۔ حضرت امام آجری لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت علی حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم کو ان سازشی گروہ کے فتنہ سے محفوظ رکھا ان ظالموں نے ان کا نام اس لیے استعمال کیا کہ عام مسلمان ان کے دھوکے میں آجائیں اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں تاہم اللہ نے اس فتنہ سے ان صحابہ رضی اللہ عنہم کو بچا لیا۔
چنانچہ یہ لوگ (سبائی) واپس چلے گئے اور بظاہر مسئلہ ختم ہوگیا، لیکن جن کے دلوں میں بغض اور دشمنی تھی اور وہ مسلمانوں کو ہنستا بستا نہیں دیکھنا چاہتے تھے انہوں نے ایک اور چال چلی اور پھر سے مدینہ میں داخل ہو گئے۔
دراصل سیدنا عثمان غنیؓ کو شہید کرنے کا منصوبہ اس باغی گروہ ( عبداللہ ابن سباء اور اس کے پیروکاروں) نے ایک جعلی خط کی روشنی میں تیار کیا گیا اور اسے سیدنا عثمانؓ کے نام پر ڈال دیا گیا جب یہ لوگ واپس مدینہ آئے اور انہوں نے سیدنا عثمانؓ کے مکان کا محاصرہ(گھیراؤ) کیا تو محمد بن مسلمہؓ ان مصریوں کے پاس آئے اور ان سے مدینہ واپس آنے کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے راستہ میں سیدنا عثمانؓ کا ایک خط پکڑا ہے جو انہوں نے مصر کے گورنر(حضرت عمرو بن عاصؓ) کے نام لکھا ہے اور اس میں ہمیں قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔
محمد بن مسلمہؓ نے اہل بصرہ سے واپسی کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مصری بھائیوں کی مدد میں آئے ہیں یہی جواب اہل کوفہ کے گروہ نے دیا محمد بن مسلمہؓ نے کہا کہ تم سب کو ایک ہی وقت میں یہ سب معلوم کیسے ہو گیا؟ حالانکہ کہ تم میں ایک دوسرے کے درمیان کئی منزلوں کا فاصلہ ہے اور تم سب یہاں اکٹھے نظر آرہے ہو ایسا لگتا ہے کہ سب تمہاری سازش ہے انہوں نے جواب میں کہا کہ تمہارا جو جی چاہے سمجھو ہم تم پر یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اس شخص(سیدنا عثمانؓ) کی اب ضرورت نہیں، اس کو ہٹائے بغیر ہم پیچھے نہ ہٹیں گے۔
اے اہل کوفہ و بصرہ تمہیں مصریوں کی اس بات کا کیسے پتا چلا کہ ان کو ایک خط ملا ہے جس میں انہیں قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تم لوگ بہت دور جا چکے تھے اور اتنی جلدی واپس آگئے ہو اللہ کی قسم مجھے معلوم ہوتا ہے کہ تم نے اس منصوبہ کو مدینہ میں ہی تیار کر دیا تھا۔
محمد بن مسلمہؓ نے ان سے وہ خط لیا اور سیدنا عثمانؓ کی خدمت میں تشریف لائے اور اس خط کی حقیقت معلوم کی سیدنا عثمانؓ نے قسم کھا کر فرمایا کہ نہ میں نے کوئی خط لکھا ہے اور نہ میں نے کسی کو حکم دیا ہے اور نہ مجھے اس خط کے بارے میں کوئی علم ہے۔
سیدنا علیؓ اور دوسرے حضرات نے کہا کہ سیدنا عثمانؓ درست کہتے ہیں، مصری کہنے لگے: پھر یہ خط کس نے لکھا ہے؟ آپؓ نے لاعلمی کا اظہار فرمایا تو کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپؓ کو اس کا پتہ نہ ہو حالانکہ یہ خط آپؓ کے آدمی کے ہاتھ سے ملا ہے اور اس خط پر آپؓ کی مہر بھی لگی ہے۔
اس وقت کسی کی سمجھ میں نہ آیا کہ اس بارے میں پوری تحقیق کیسے کی جائے۔ یہ بھی کہا گیا کہ کہیں مروان نے یہ خط نہ لکھا ہو۔ ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے قسم کھا کر اس سے انکار کیا۔
سیدنا عثمانؓ کے خلاف محاذ بنانے والوں نے جس طرح سیدنا علیؓ، سیدنا زبیرؓ اور سیدنا طلحہؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ کے ناموں سے جعلی خطوط مختلف علاقوں میں بھیجے ان کے لیے یہ کیا مشکل تھا کہ وہ اس قسم کا فرضی خط بنائیں اور اسے سیدنا عثمانؓ کے سر لگا دیں اور پھر پوری قوت کے ساتھ اس بات کو اچھالیں اور عوام کی ہمدردیاں حاصل کر لیں۔
سیدنا عثمانؓ کے بارے میں یہ کہنا کہ انہوں نے کسی کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا یہ صریح افتراء پردازی ہے۔ جو شخص سیدنا عثمانؓ کی سیرت و کردار سے واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ کھلا جھوٹ ہے۔ لوگ ان کو قتل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے اس کے باوجود آپؓ اپنے ساتھیوں کو روکتے تھے، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپؓ ایک انسان کو بلا وجہ قتل کرنے کا حکم دیں۔(المنتقی: صفحہ 572 اردو)
جن لوگوں نے سیدنا عثمانؓ کی خلافت پر حملہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا، یہ کوئی اچانک حملہ نہ تھا ایک نہایت منظم انداز میں اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا رہا تھا۔ آپؓ کے نام پر جو خط تیار کیا گیا وہ بھی کوئی پہلا اور انوکھا خط نہ تھا بلکہ اس قسم کے خطوط اس سے پہلے بھی تیار کیے گئے تھے۔ کیا ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ، امیر المؤمنین سیدنا علیؓ، سیدنا طلحہؓ اور سیدنا زبیرؓ کے نام پر جعلی خطوط نہیں پھیلائے گئے اور پھر ان بزرگوں نے کھلے عام ان خطوط سے لاتعلقی کا اعلان نہیں کیا تھا؟
سیدنا علی المرتضیٰؓ نے قسم کھا کر کہا کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں میں نے انہیں کوئی خط نہیں لکھا تھا واللہ ما کتبت لکم کتابا
(سیر الشہداء للسحیبانی: صفحہ 51)
سیدنا عثمانؓ نے قسم کھا کر اس خط سے برأت کا اظہار کیا سیدنا علی المرتضیٰؓ اور دوسرے اکابرین صحابہؓ نے کھل کر آپؓ کی تائید کی مگر ابنِ سباء یہودی کے کارندوں نے سیدنا عثمانؓ کی بات ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ پہلے سے ہی یہ طے کرکے آئے تھے کہ وہ ہر حال میں سیدنا عثمان غنیؓ کو خلافت سے دستبردار کر کے رہیں گے اور ہوا بھی یہی، وہ اپنی بات پر اڑے رہے، سیدنا عثمانؓ نے ان کا یہ مطالبہ سختی سے مسترد کر دیا اور آپؓ بھی اپنے مؤقف پر سختی سے ڈٹے رہے آپؓ نے ان سے کہا کہ جہاں تک میرے اعمال کے بارے میں کوئی بات ہے تو میں وہ مطالبہ پورا کر دیتا ہوں لیکن تمہاری یہ بات کہ تم خلافت سے دستبردار ہوجاؤ یہ نہیں ہوسکتا، یہ قمیض اللہ نے مجھے پہنائی ہے اور حضورﷺ کی زبان سے میں نے یہ بات سنی کہ یہ قمیض اللہ نے مجھے پہنائی ہے میں اسے نہیں اتاروں گا۔
لا انزع سربالا سربلنیہ اللّٰہ ولکن انزع عما تکرھون
(طبقات: جلد 3 صفحہ 49)
چنانچہ انہوں نے آپؓ کے مکان کا محاصرہ کر لیا اور آپؓ کو مسجد نبوی میں نماز پڑھنے سے بھی روک دیا، معاملہ جب حد سے بڑھنے لگا تو سیدنا عثمانؓ نے سیدنا علیؓ اور سیدنا طلحہؓ کو بلایا وہ تشریف لے آئے تو آپؓ نے ان سب کے سامنے فرمایا کہ: اے اہل مدینہ میں تمہیں خدا کے سپرد کرتا ہوں اور اللہ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے بعد تم پر بہتر شخص خلافت کرے، میں تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ تم نے وفاتِ عمر پر دعا مانگی تھی کہ اللہ تمہیں تمہارے بہترین پر جمع کردے اگر تم کہتے ہو کہ خدا نے تمہاری دعا قبول نہیں کی تم خدا کے نزدیک کم مرتبہ ہو تو کہو کہ اللہ کا دین اس کے ہاں اس قدر بےحقیقت ہے کہ وہ اس کا فیصلہ نہ کر پایا کہ اپنے دین کا والی کس کو بنا رہا ہے یا کہو کہ خلافت شوریٰ سے نہیں ہوئی تو پھر امت نے خدا کی نافرمانی کی یا کہو کہ اللہ نے میرا انجام نہیں جانا۔ میں تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا مجھے اسلام میں سبقت اور تقدم حاصل نہیں ہے اللہ نے ہر بعد والے پر مجھے مقدم کیا اور فضیلت عطاء فرمائی ہے۔
ابن کثیر رحمۃاللہ لکھتے ہیں کہ پھر آپؓ ایک جمعہ کو منبر پر کھڑے ہوئے اس وقت آپؓ کے ہاتھ میں وہی عصا تھا جس پر حضورﷺ دوران خطبہ ٹیک لگایا کرتے تھے اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے تو مجمع میں سے جحیاہ نامی شخص اٹھ کر آپؓ کو برا بھلا کہنے لگا اور آپؓ کے منبر سے اترنے کا مطالبہ کیا اور آپؓ کے ہاتھ سے عصا لیکر اسے اپنے دائیں گھٹنے پر رکھ کر توڑ دیا جس سے اس کا پیر زخمی بھی ہوا(اللہ نے اسے پھر یہ سزا دی کہ اس کا یہ پیر گل سڑ گیا تھا اور اس میں کیڑے پڑ گئے تھے) سیدنا عثمانؓ منبر سے نیچے اترے اور عصا کو دوبارہ جوڑنے کا حکم دیا۔
اسی طرح ایک اور موقع پر باغیوں نے سیدنا عثمانؓ کے ساتھ گستاخی سے پیش آنے کی کوشش کی تو سیدنا زید بن ثابتؓ وغیرہ نے انہیں باز آنے کے لیے کہا تو باغیوں کے ٹولے نے انہیں مارا اور جو لوگ سیدنا عثمانؓ کی حمایت میں کھڑے ہوئے ان پر بھی پتھر مارے حتیٰ کہ سیدنا عثمانؓ کو بھی نہ چھوڑا، آپؓ اس حملہ میں منبر سے بیہوش ہو کر گر گئے تھے پھر لوگوں نے آپؓ کو اٹھا کر آپؓ کے گھر پہنچایا۔
سیدنا علی، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم اس دوران حضرت عثمان غنیؓ کی عیادت کو آئے اور بتایا کہ مصریوں اور دیگر باغیوں نے دوسرے مسلمانوں کو بھی اپنی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے تو آپؓ کو اس کا افسوس ہوا۔ اس دوران صحابہؓ کی ایک جماعت حضرت عثمان غنیؓ کے پاس آئی اور عرض کیا کہ آپؓ اجازت دیں تاکہ ہم ان کے خلاف قتال کرکے ان کی شرارتوں کو روک دیں حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا کہ نہیں، اور انہیں قسم دی کہ وہ ہتھیار نہیں اٹھائیں گے اور پرسکون رہیں گے۔
باغیوں نے آپؓ کے گھر کا محاصرہ کر کے آپؓ کا باہر نکلنا بند کردیا۔ بہت سے لوگ معاملہ کی نزاکت کو سمجھ نہ پائے تھے جبکہ بہت سے اس امید پر تھے کہ یہ مسئلہ کسی نہ کسی مصالحت پر منتج ہو جائے گا، ان میں سے کسی کو بھی یہ امید نہ تھی کہ یہ لوگ اس حد تک بھی جائیں گے کہ سیدنا عثمانؓ کو شہید کردیں گے۔ باغیوں کا اصرار تھا کہ سیدنا عثمانؓ خلافت چھوڑ دیں جبکہ سیدنا عثمانؓ اس بات پر سختی سے قائم تھے کہ وہ خلافت نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ انہیں حضورﷺ نے سختی سے اس پر ڈٹے رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ جن دنوں بیمار تھے آپؓ نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ کوئی آپؓ کے پاس ہوتا ہم نے کہا حضورﷺ فرما دیں تو ابوبکرؓ کو بلا دیں، آپﷺ نے کوئی جواب نہ دیا ہم نے کہا سیدنا عمرؓ کو بلالیں، آپؓ پھر بھی خاموش رہے ہم نے کہا عثمانؓ کو بلا لیں حضورﷺ نے فرمایا ہاں انہیں بلاؤ۔ چنانچہ سیدنا عثمانؓ جب تشریف لائے تو حضورﷺ نے تنہائی میں ان سے کچھ گفتگو فرمائی حضورﷺ کی باتیں سن کر سیدنا عثمانؓ کا رنگ بار بار بدلتا تھا۔ حضورﷺ نے سیدنا عثمانؓ سے کیا فرمایا اسے خود سیدنا عثمانؓ سے سنیے۔ آپؓ نے یہ بات اس وقت فرمائی جب آپؓ اپنے گھر میں قید کر دیے گئے تھے آپؓ نے فرمایا۔
ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عھد الی امرا فانا صابر نفسی علیہ
(مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 106)
حضورﷺ نے مجھ سے ایک خاص عہد لیا تھا اور میں اس بارے میں صبر کرنے والا ہوں۔
قیس کہتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت عثمان غنیؓ کو اس دن بڑے صبر کے ساتھ وہ لمحات گزارتے دیکھا تھا۔
اور یہ خاص عہد جس معاملے میں لیا گیا ہے اس کا بیان بھی حضورﷺ نے فرما دیا ہے
یا عثمان ان ولاک اللّٰہ ھذا الامر یوما فارادک المنافقون ان تخلع قمیصک الذی یقمصک اللّٰہ فلا تخلعہ۔
(ابن ماجہ: صفحہ 11)
(مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 107)
(الصواعق المحرقہ: صفحہ 10)
اے عثمانؓ اللہ اگر کسی دن تمہیں خلافت سے نوازے اور منافقین چاہیں کہ یہ قمیض جو اللہ نے تجھے پہنائی ہے تو اتار دے تو تم اسے ہرگز نہ اتارنا
حضورﷺ نے اس میں اشارہ فرما دیا کہ جب بھی وہ وقت آئے اور لوگ آپؓ سے خلافت سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کریں تو ان کی بات نہ ماننا، یہ خلافت اللہ نے تمہیں عطاء فرمائی ہے اس میں جان تو دی جاسکتی ہے مگر اللہ کی پہنائی خلعت پر کسی طور حرف نہ آنے دینا، آپﷺ نے ان لوگوں کو جو آپؓ سے دستبرداری کا مطالبہ کر رہے تھے منافق اور ظالم قرار دیا ہے، چنانچہ سیدنا عثمانؓ کو اپنی جان سے زیادہ حضورﷺ کی بات کا احترام تھا، آپؓ نے جان تو دے دی مگر خلافت سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ آپؓ کی مظلومانہ شہادت کی خبر حضورﷺ نے پہلے دے دی تھی۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے ایک فتنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا
(جامع ترمذی: جلد 2 صفحہ 212)
( الصواعق المحرقہ: صفحہ 110)
️اس میں عثمانؓ مظلوم ہونے کی حالت میں مارا جائے گا۔
ان دنوں صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی تعداد حج کے لیے مکہ مکرمہ میں جا چکی تھی بہت سے صحابۂ کرامؓ غزوہ کے لیے گئے ہوئے تھے، ادھر مدینہ میں صحابہؓ کی تعداد کم تھی ان میں بہت سے حضرات اس خوش فہمی میں رہے کہ گفت وشنید کے بعد معاملہ رفع دفع ہو جائے گا اور بات دور تک نہ جائے گی چنانچہ باغیوں نے لوگوں کی کمی اور حج کی وجہ سے ان کی غیر حاضری کا فائدہ اٹھایا
وانتھزوا الفرصۃ بقلۃ الناس وغیبتھم فی الحج
ان میں سے بعض بزرگوں نے باغیوں کو سمجھانے کی کوششیں جاری رکھیں مگر وہ اس ایک مطالبہ کے سوا کوئی بات سننے کے لیے تیار نہ تھے اور ادھر سیدنا عثمانؓ اس ایک بات کے سوا باقی باتوں کو تسلیم کر سکتے تھے معاملہ دن بدن بڑھتا رہا تقریباً چالیس روز تک سیدنا عثمانؓ کے گھر کا گھیراؤ جاری رہا اور اس دوران سیدنا عثمانؓ کے گھر کا پانی بند کر دیا گیا اور آپؓ تک پانی پہنچانے کی بھی اجازت نہ دی گئی۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اپنے غلاموں کے ذریعہ آپؓ تک پانی پہنچانا چاہا مگر وہ بھی بڑی مشکل سے آپؓ تک پہنچایا گیا اس میں آپؓ کا غلام زخمی ہوا۔
سیدنا علیؓ نے ان لوگوں سے کہا: اے لوگو جو کچھ تم کر رہے ہو یہ نہ تو مسلمانوں کا کام ہے اور نہ ہی کافروں کا، تم سیدنا عثمانؓ سے کھانے پینے کی چیزیں کیوں روک رہے ہو، روم اور فارس کے لوگ بھی اگر کسی کو قید کرتے ہیں تو وہ اسے کھلاتے پلاتے ہیں اور سیدنا عثمانؓ نے تو تم لوگوں سے کوئی تعرض بھی نہیں کیا ہے تم کس بنا پر ان کا محاصرہ کر رہے اور ان کے قتل کو جائز سمجھتے ہو؟
ان ظالموں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی ایک نہ سنی اور کھانے پینے کی چیزیں روک رکھیں، ام المؤمنین حضرت ام حبیبہؓ کو پتہ چلا کہ انہوں نے حضرت عثمانؓ کا پانی بند کر دیا ہے تو سیدہ ام حبیبہؓ ان کے لیے ایک مشکیزہ میں پانی لے کر آئیں، باغیوں نے ان کے خچر پر تلوار سے حملہ کیا تو خچر بدک کر بھاگنے لگا۔ اس دوران حضرت ام المومنینؓ گرتے گرتے بچیں، پھر آپؓ کو اپنے گھر پہنچا دیا گیا۔ ام المؤمنین حضرت صفیہؓ نے بھی حضرت عثمانؓ کی حمایت و نصرت میں کوئی کمی نہ کی سیدہ صفیہؓ نے کوشش کی کہ حضرت عثمانؓ تک کھانا اور پانی پہنچتا رہے۔
اس قدر سخت حالات میں بھی حضرت عثمانؓ صبر و تحمل کا پیکر بنے رہے، آپؓ نے ایک بیان میں لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
️تم اللہ کو گواہ بنا کر بتانا کہ جب مسجد مسلمانوں کے لیے تنگ ہوگئی تھی اور حضورﷺ نے ساتھ والی زمین خریدنے کی ترغیب دی تو میں نے اپنے خالص مال سے وہ جگہ خریدی اور اسے مسلمانوں کے لیے وقف کردیا تھا اور آج یہ وقت آ گیا ہے کہ تم مجھے اسی مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے کے لیے بھی جانے سے روک رہے ہو۔
وانتم تمنعونی ان اصلی فیہ رکعتین
(البدایہ والنہایہ: جلد 7 صفحہ 178)
تم اللہ کو گواہ بن کر بتانا کہ جب حضورﷺ مدینہ تشریف لائے تو مسلمانوں کو میٹھے پانی کی سخت ضرورت تھی حضورﷺ نے بئر رومہ خریدنے کی ترغیب فرمائی تو میں نے اسے بھاری قیمت دے کر مسلمانوں کے لیے خرید لیا اور آج یہ وقت آگیا ہے کہ تم نے اسی کا پانی میرے لیے روک دیا ہے۔
آپؓ نے انہی دنوں ایک اور بیان میں فرمایا کہ
️تم میرے قتل کے درپے کیوں ہو میں نے کسی کو قتل نہیں کیا، نہ کبھی زنا کیا اور نہ میں اسلام سے پھرا ہوں۔
انی اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ وان محمدا عبدہ ورسولہ
آپؓ نے ان سے یہاں تک فرمایا کہ اے لوگو! میرے خون سے اپنے ہاتھوں کو نہ رنگنا، خدا کی قسم اگر تم نے ایسا کیا تو تم پھر کبھی اکٹھے نماز نہ پڑھ سکو گے، کبھی دشمنوں کے خلاف اکٹھے ہوکر جہاد نہ کر سکو گے، تم آپس میں مختلف ہو جاؤ گے۔
(طبقات: جلد 3 صفحہ 49)
(المصنف لابن ابی شیبہ: جلد 7 صفحہ 441)
پھر آپؓ نے قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت فرمائی:
وَیٰقَوۡمِ لَا یَجۡرِ مَنَّکُمۡ شِقَاقِیۡۤ اَنۡ یُّصِیۡبَکُمۡ مِّثۡلُ مَاۤاَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ ہُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّنۡکُمۡ بِبَعِیۡدٍ
(سورۂ ہود: آیت 89)
ترجمہ: اور اے میری قوم! میرے ساتھ ضد کا جو معاملہ تم کر رہے ہو، وہ کہیں تمہیں اس انجام تک نہ پہنچا دے کہ تم پر بھی ویسی ہی مصیبت نازل ہو جیسی نوحؑ کی قوم پر یا ہودؑ کی قوم پر یا صالحؑ کی قوم پر نازل ہوچکی ہے اور لوطؑ کی قوم تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے۔
(المصنف لابن ابی شیبہ: جلد 7 صفحہ 442، ابن سعد: جلد 3 صفحہ 52)
آپؓ نے فرمایا کہ کیا تمہیں پتہ نہیں کہ جب میں رسول اللہﷺ کے ساتھ پہاڑ پر کھڑا تھا اور پہاڑ حرکت کرنے لگا تو آپﷺ نے فرمایا اے احد ٹھہر جا تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید کھڑے ہیں۔ کیا تم اس بات سے بے خبر ہو کہ جب حضورﷺ نے مکہ میں مشرکین کے پاس مجھے بھیجا اور میرے قتل کی افواہ پھیلی تو آپﷺ نے بیعت لی تھی اور اپنے دستِ مبارک کو میرا ہاتھ فرما کر بیعت لی تھی۔ (ایضاً: صفحہ179)
حضرت عثمانؓ انہیں بار بار پوچھ رہے تھے کہ اگر انہوں نے کوئی سنگین جرم کیا ہو کہ جس کے نتیجے میں انہیں قتل کر دیا جائے یا ان سے خلافت چھین لی جائے تو وہ انہیں بتائیں مگر وہ ایک بھی ایسا جرم ثابت نہ کرسکے جس سے وہ اپنا مؤقف درست بتا سکیں۔ حضرت عثمان غنیؓ انہیں اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ کی جانے والی ان خدمات کو یاد دلاتے رہے جن کی حضورﷺ نے تعریف فرما کر آپؓ کو دعاؤں سے نوازا تھا مگر انہوں نے آپؓ کی ایک نہ سنی کیونکہ وہ سننے کے لیے آئے ہی نہ تھے، ان کا مقصد سوائے اس کے کچھ اور نہ تھا کہ اسلامی خلافت کا تختہ الٹ جائے اور مسلمانوں کو اندرونی خلفشار اور انتشار میں مبتلا کر دیا جائے تاکہ وہ دشمنوں کے بارے میں بالکل غافل ہو جائیں۔
جیسا کہ ہم بتا آئے ہیں کہ صحابہؓ کی ایک بڑی تعداد حج کے لیے جاچکی تھی اگر انہیں یہ بات معلوم ہوجاتی کہ مصر، کوفہ، بصرہ اور دیگر جگہوں سے جو لوگ حج کے نام پر آ رہے ہیں اور ایک جگہ آہستہ آہستہ جمع ہو رہے ہیں وہ صرف ایک دھوکہ ہے تو صحابہؓ کی بڑی تعداد کبھی مکہ مکرمہ نہ جاتی، اسی طرح اگر مدینہ والوں پر یہ بات کھل جاتی کہ یہ لوگ حضرت عثمانؓ کے عمال کے ظلم کے نام پر درحقیقت حضرت عثمانؓ اور آپؓ کی خلافت کا خاتمہ چاہتے ہیں تو وہ بھی پہلے ہی مرحلہ پر ان کا راستہ روک دیتے، یہ حضرات اس گمان میں رہ گئے کہ بات اتنی دور تک نہ جائے گی۔ انہیں پتہ نہ چلا کہ یہ لوگ حضرت عثمانؓ کے خلاف انتہائی ظالمانہ قدم اٹھانے سے بھی نہ چوکیں گے۔
وکان اصحاب النبیﷺ الذین خذلوہ کرھوا الفتنۃ وظنوا ان الامر لا یبلغ قتلہ فندموا علی صنعوا فی امره ولعمری ولو قاموا او قام بعضھم فحثا وجہہم التراب لانصرفوا خاسرین۔
(طبقات: جلد 3 صفحہ 53)
( تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ 210)
حضورﷺ کے صحابہؓ محض فتنہ کے اندیشہ کے پیشِ نظر آگے نہ بڑھے اور ان کا گمان تھا کہ معاملہ اس انتہاء تک نہ پہنچے گا پس بعد میں جو کچھ ہوا انہیں اپنے اس کردار پر ندامت ہوئی بخدا اگر یہ لوگ اٹھ کھڑے ہوتے یا ان میں سے کچھ ہی کھڑے ہو جاتے اور ان کے منہ پر مٹی ہی پھینک دیتے تو وہ ناکام ہو کر لوٹ جاتے۔
حضرت علیؓ نے جب حالات کی سنگینی بڑھتی دیکھی تو آپؓ نے اپنے دونوں صاحبزادوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو حضرت عثمانؓ کے دروازے پر کھڑا ہونے کا حکم دیا اور فرمایا کہ حضرت عثمانؓ کی حفاظت کرنا اور کسی بھی باغی کو آپؓ تک پہنچنے نہ دینا، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی اپنے جوان بچوں کو آپؓ کی حفاظت پر مامور کر دیا یہ نوجوان حضرت عثمانؓ کے دروازے پر کھڑے ہوگئے تاکہ باغی اندر جانے میں کامیاب نہ ہوں۔
سیدنا علیؓ کا عقیدہ تھا کہ اس موقع پر حضرت عثمانؓ کی نصرت اور ان کی حفاظت نہ کرنا گناہ ہے، آپؓ خود فرماتے ہیں:
واللہ قد دفعت عنہ قد خشیت ان اکون آثما۔
(نہج البلاغہ: جلد 2 صفحہ 261)
خدا کی قسم میں نے حضرت عثمانؓ کی طرف سے پورا دفاع کیا یہاں تک کہ مجھے خوف ہوا کہ کہیں میں گنہگار نہ ٹھہروں۔
حضرت عثمانؓ کے آس پاس جو حضرات موجود تھے یا جو لوگ کسی نہ کسی طریقے سے آپؓ کے پاس آسکتے تھے انہوں نے حالات کی سنگینی دیکھ کر حضرت عثمانؓ سے عرض کیا کہ اگر آپؓ ہمیں اجازت دیں تو ہم ان لوگوں سے قتال کریں اور انہیں ان کی اس حرکت کا سختی سے جواب دیں۔ حضرت عثمانؓ نے انہیں اس کی اجازت نہ دی اور نہایت سختی سے ان سب کو ہاتھ اٹھانے سے روک دیا، حضرت علیؓ نے پیغام بھیجا کہ میرے ساتھ پانچ سو کے قریب زرہ پوش لوگ موجود ہیں اگر آپ اجازت دیں تو انہیں آپؓ کے دفاع کے لیے بھیج دیا جائے اس لیے کہ آپؓ نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا جس کی بناء پر آپؓ کا خون کرنا حلال ٹھہرے، آپؓ نے حضرت علیؓ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ آپؓ کو اس کی جزا دے میں پسند نہیں کرتا کہ میری وجہ سے یہاں خون خرابہ ہو۔
فانک لم تحدث شیئا یستحل بہ دمک فقال جزیت خیرا ما احب ان یھراق دم فی سببی
(تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ 220)
اب یہاں تک کہ اس جھوٹ کو بھی دیکھیں جو شیعہ علماء دن رات بولتے ہیں اور حضرت عثمانؓ کی شہادت پر خوش ہوتے ہوئے نہیں شرماتے
ہندوستان کے علاقہ اودھ کے ایک رافضی ملا حسین بخش کا بغضِ باطنی ملاحظہ کیجیے: وہ لکھتا ہے۔
قتل عثمان قطعی کوئی جرم نہیں تھا بلکہ یہ تو اسلامی معاشرے کے اعلیٰ مقاصد کے عین مطابق تھا اور خود حضرت علیؓ حضرت عثمانؓ کے دفاع کے لیے راضی نہ تھے۔
(امامت و ملوکیت: صفحہ 123)
یہ جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا حضرت علیؓ نے حضرت عثمانؓ کو دفاع کی پیشکش نہیں کی؟ آپؓ نے اپنے بچوں کو حضرت عثمانؓ کی حفاظت کے لیے نہیں بھیجا؟ کیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ حضرت عثمانؓ کی مدافعت کرنے میں زخمی نہیں ہوئے تھے؟ ان سب کے باوجود بھی اگر ملا حسین بخش اور اس قبیل کے لوگ جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہیں تو پھر اس یقین سے چارہ نہیں کہ یہ لوگ واقعی ابن سبا کی روحانی اولاد ہیں۔
جلیل القدر صحابی حضرت زید بن ثابتؓ حضرت عثمانؓ کے پاس آئے اور کہا کہ بہت سے لوگ آپؓ کے پاس آنا چاہتے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر آپؓ چاہیں تو ہم اللہ کے لیے آپؓ کی مدد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں ہم اللّٰہ کی فوج بن جائیں اور انہیں ان کے بھولے ہوئے دن پھر سے یاد دلا دیں اور ان کی شرارتوں کا مزہ انہیں چکھا دیں، آپؓ ہمیں اس کی اجازت دیں؛ حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا کہ نہیں میں تمہیں قتال کی اجازت نہیں دیتا۔
ان شئت کنا انصار اللہ مرتین قال فقال عثمانؓ اما القتال فلا
(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 51)
آپؓ سے جن لوگوں نے بھی قتال کی اجازت مانگی اور کہا کہ انہیں مقابلہ کی اجازت دیں تو آپؓ نے انہیں منع کر دیا اور فرمایا کہ میرے دفاع کی ضرورت نہیں اور تم اپنے ہاتھوں اور ہتھیاروں کو روکے رکھو۔ عامر بن ربیعہؓ کہتے ہیں
ان اعظمکم عنی غناء رجل کف یدہ و سلاحہ
(سنن سعید بن منصور: جلد 2 صفحہ 336)
میرا سب سے بڑا مددگار وہ ہے جو میرے دفاع میں ہاتھ اور تلوار نہ اٹھائے۔
آپؓ کے غلام آپ کی حمایت میں آگے بڑھنے اور آپؓ پر جان نچھاور کرنے کے لیے تیار تھے، صرف انہیں آپ کے حکم کا انتظار تھا۔ حضرت عثمانؓ نے جب انہیں دیکھا تو ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جو شخص بھی اپنے ہاتھوں کو روک رکھے وہ آزاد ہے۔
من کف یدہ فھو حر
اعزم علی کل من رأی ان علیہ سمعا وطاعۃ الا کف یدہ و سلاحہ
حضرت حسنؓ نے حضرت عثمان غنیؓ سے کہا کہ امیر المومنینؓ میں حسن بن علیؓ ہوں آپؓ امام برحق ہیں آپؓ مجھے حکم دیں تو میں اس بلوہ کا راستہ روکوں
تو امام برحق مرا فرمان دہ تابلائے ایں از قوم تو دفع کنم
(کشف المحجوب: صفحہ 52)
آپؓ نے فرمایا بھتیجے بیٹھ جائیے اور انتظار کیجیے کہ اللہ کیا فیصلہ فرماتے ہیں میرے لیے اب اس دنیا میں کوئی دلچسپی نہیں ہے یا فرمایا کہ میرے لیے جنگ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
اجلس یا ابن اخی حتیٰ یاتی اللّٰہ بامرہ فانہ لا حاجۃ لی فی الدنیا او قال فی القتال
حضرت حسنؓ گلے میں تلوار ڈالے حضرت عثمان غنیؓ کی مدافعت کے لیے تیار تھے حضرت عثمانؓ کو اس بات کا ڈر ہوا کہ کہیں حضرت حسنؓ کو کوئی نقصان نہ پہنچے، حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت حسنؓ کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر جائیں یہ بات حضرت علیؓ کی دلجوئی کے لیے بھی تھی اور اس لیے بھی کہ حضرت حسنؓ کو گزند نہ پہنچے۔
حضرت عثمانؓ جانتے تھے کہ حضورﷺ کو مدینہ سے بڑی محبت تھی، یہ آپ ﷺ کا دار الہجرت ہے اور حضورﷺ یہاں آرام فرما ہیں۔ اب اگر آپؓ اپنے ساتھیوں کو بھی قتال کی اجازت دیں گے تو نتیجہ مسلمانوں کے خون کے ساتھ ساتھ مدینہ منورہ کی بےحرمتی کی صورت میں ہوگا اور حضرت عثمان غنیؓ یہ برداشت نہ کر سکتے تھے کہ مدینہ کی حرمت کسی طرح بھی پامال ہو۔
جب حضرت ابوھریرہؓ حضرت عثمانؓ کی حمایت میں تلوار لٹکائے نکلنے لگے تو حضرت عثمانؓ نے انہیں روکا اور فرمایا آپؓ اپنی تلوار پھینک دو میں تمہارے ہاتھوں کسی کا خون ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا، کیا تو چاہتا ہے کہ تو ہم سب کو قتل کردے؟ اگر تو نے ایسا کیا تو یہ ایک آدمی کا قتل نہ ہوگا بلکہ پوری انسانیت کا قتل ہوگا.
فانک واللہ ان قتلت رجلا واحدا فکانما قتل الناس جمیعا قال فرجعت ولم اقاتل
(دیکھیے طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 51)
فقال واللہ لئن قتلت رجلا واحدا فکانما قتل الناس جمیعا فرجعت ولم اقاتل
(سنن سعید بن منصور: جلد 2 صفحہ 334)
(سنن ابنِ ماجہ: صفحہ 11)
چونکہ حضورﷺ نے مجھے صبر کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور میں نے آپﷺ سے اس بارے میں وعدہ کیا ہے سو میں اپنے وعدہ پر قائم ہوں، کوئی شخص بھی میرے لیے اپنی تلوار نہ اٹھائے۔ پھر آپؓ نے ہر اس شخص کو روک دیا جو آپؓ کی طرف سے ان باغیوں کا مقابلہ کرنا چاہتا تھا۔
انہی دنوں حضرت مغیرہ بن شعبہؓ آپؓ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپؓ عوام کے امام ہیں اور آپؓ جس حال سے دوچار ہیں وہ بھی آپ سے مخفی نہیں اس وقت تین باتوں میں سے کوئی ایک بات اختیار کرلیں
1) آپؓ باہر نکلیں اور ان کا مقابلہ کریں ہم آپؓ کے ساتھ ہیں آپؓ حق پر ہیں آپؓ کی حمایت میں لوگ کھڑے ہیں۔
2) آپؓ کے لیے پیچھے سے دروازہ کھولتے ہیں آپؓ وہاں سے نکل جائیں اور مکہ مکرمہ چلے جائیں وہاں کوئی شخص آپ کے خون سے ہاتھ رنگنے کی ہمت نہ کرے گا۔
3) ملک شام چلے جائیں وہاں حضرت معاویہؓ موجود ہیں، وہاں یہ لوگ کسی طرح آپؓ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے.
حضرت عثمان غنیؓ نے اس کے جواب میں فرمایا
اما ان اخرج فاقاتل فلن اکون اول من خلف رسول اللّٰہﷺ فی امتہ بسفک الدماء واما ان اخرج الی مکۃ فانہم لن یستحلونی بہا فانی سمعت رسول اللّٰہﷺ یقول یلحد رجل من قریش بمکۃ یکون علیہ نصف عذاب العالم فلن اکون ایاہ وانا ان الحق بالشام فانھم اہل الشام و فیھم معاویۃ فلم افارق دار ھجرتی ومجاورۃ رسول اللّٰہﷺ ۔
(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 108)
(تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ217)
یہ نہیں ہو سکتا کہ میں حضورﷺ کا خلیفہ ہو کر امت مسلمہ کو خون ریزی میں جھونک دوں۔ اور مکہ مکرمہ اس لیے نہیں جا سکتا کہ حضورﷺ سے میں نے سنا ہے کہ جو قریشی حرم مکہ میں خون خرابہ کرے گا اور ظلم کرانے کا باعث بنے گا اس پر آدھی دنیا کے باشندوں کا عذاب ہوگا جہاں تک شام جانے کا تعلق ہے تو یہ اس لیے نہیں ہو سکتا کہ میں دار الہجرت اور حضورﷺ کی مجاورت اور ہمسائیگی نہیں چھوڑ سکتا۔
قسط پنجم
سیدنا عثمانؓ کو اپنے گھر میں قید ہوئے تقریباً چالیس دن ہو رہے تھے آپؓ کے لیے پانی بند کر دیا گیا آپؓ کو مسجد نبوی میں جانے سے روک دیا گیا آپؓ یہ سب کچھ صبر کے ساتھ برداشت کر رہے تھے مگر باغیوں کا مطالبہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے اور مانتے بھی کیسے حضورﷺ نے آپؓ کو سختی سے منع کر دیا تھا اور فرمایا تھا کہ تم کبھی خلافت سے دستبردار نہ ہونا خواہ کچھ ہو جائے۔
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عثمانؓ کے پاس آیا آپؓ کو سلام کیا تو آپؓ نے فرمایا کہ رات میں نے حضورﷺ کو خواب میں دیکھا آپﷺ نے فرمایا کہ تمہیں محصور(بند) کیا ہے میں نے کہا ہاں آپﷺ نے فرمایا ان لوگوں نے تمہیں پیاسا رکھا ہے میں نے کہا جی ہاں پس آپﷺ نے ایک ڈول لٹکایا جس میں پانی تھا میں نے وہ پیا یہاں تک کہ میں سیر ہو گیا اور میں اب بھی اپنے سینے میں اس کی ٹھنڈک پاتا ہوں آپﷺ نے فرمایا اگر تو چاہے کہ دشمنوں پر تجھے فتح ملے اور اگر تو چاہے کہ ہمارے ساتھ افطار کر لے۔ سو میں نے ان دونوں میں سے آپﷺ کے ساتھ افطار کرنا چن لیا۔ حضرت عبداللہ بن سلامؓ کہتے ہیں کہ اسی دن سیدنا عثمان غنیؓ شہید کر دیے گئے۔
(البدایہ والنہایہ: جلد 7 صفحہ 182)
سو حضرت عثمانؓ کو اس بات کا اشارہ مل چکا تھا کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہیں گے بہت جلد اپنے رب کے حضور پہنچنے والے ہیں حضرت عثمان غنیؓ کی اہلیہ حضرت نائلہؓ کہتی ہیں کہ شہادت سے ایک روز قبل آپؓ کمزوری کی وجہ سے غنودگی میں تھے جب ہوش میں آئے تو آپؓ نے فرمایا کہ ایسا لگتا ہے کہ میری قوم مجھے قتل کر دے گی حضرت نائلہؓ نے کہا امیرالمؤمنین ایسا نہیں ہوگا۔ آپؓ نے فرمایا
رایت رسول اللّٰہﷺ و ابابکر وعمر فقالوا افطر عندنا اللیلۃ او قالوا انک تفطر عندنا اللیلۃ
(طبقات: جلد 3 صفحہ 55)
(مستدرک: جلد 3 صفحہ 110)
میں نے خواب میں حضورﷺ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی الله عنہما کو دیکھا اور وہ سب کہہ رہے تھے کہ آج تم ہمارے ساتھ روزہ افطار کرنا یا کہا تم آج شام ہمارے ساتھ افطار کرو گے۔
سیدنا عثمانؓ نے یہ خواب دیکھ کر اندازہ کر لیا تھا کہ وہ وقت شہادت آن پہنچا ہے جس کی پیشگوئی حضورﷺ دے کر گئے ہیں آپؓ نے خادم سے فرمایا کہ میرا پائجامہ لے آؤ آپؓ نے کبھی پائجامہ نہیں پہنا تھا مگر اس دن آپؓ نے پہنا
دعا بسراویل فشدھا علیہ یلبسھا فی جاھلیۃ ولا اسلام
(ریاض: جلد 3 صفحہ 67)
ہمارے نزدیک اس کا سبب شدت حیاء تھا آپؓ کو خطرہ ہوا کہ اگر باغی میرے ساتھ ظلم و زیادتی کا ارتکاب کریں تو اس کے نتیجے میں کہیں میرا ستر نہ کھل جائے نیز اگر میں شہید بھی کر دیا جاؤں تو بھی میرے ستر کی حفاظت رہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپؓ کس قدر حیاء والے تھے آپؓ کی شدت حیاء پر تو پیغمبرﷺ کی گواہی بھی موجود ہے۔
باغی اس بات پر پکے تھے کہ حضرت عثمانؓ خلافت چھوڑ کر نکل جائیں آپؓ ان کا ہر مطالبہ تسلیم کرنے کے لیے تیار تھے مگر آپؓ نے صاف کہہ دیا تھا کہ ترک خلافت کا مطالبہ کسی صورت منظور نہیں سو باغیوں کا پیمانۂ ظلم اب لبریز ہو چکا تھا وہ معاملہ کو اب اپنے اس آخری انجام تک لے جانا چاہتے تھے جس کا وہ پہلے سے پلان بنا چکے تھے اور انہیں یہ خدشہ بھی لاحق تھا کہ کہیں دوسرے علاقوں سے سیدنا عثمانؓ کی حمایت میں لوگ نہ نکل آئیں اور حاجی حج سے واپس نہ آجائیں وہ آپس میں کہنے لگے کہ اس معاملہ کو جلدی مٹاؤ نعاجلہ قبل ان تقدم الامداد(طبقات: جلد 3 صفحہ 53)
قبل اس کے کہ آپؓ کے پاس باہر سے کوئی مدد پہنچے جلدی کرو۔
چنانچہ انہوں نے آپؓ پر تیر برسانے شروع کیے ان میں سے حضرت حسن بن علیؓ کو بھی ایک تیر لگا اور وہ زخمی ہو کر گر پڑے مگر حضرت عثمان غنیؓ اپنی جگہ سے نہ ہٹے کنانہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسنؓ کو زخمی حالت میں اٹھا کر ان کے گھر پہنچایا۔
محمد بن طلحہ بھی زخمی ہوئے حضرت علیؓ کے غلام قنبر کے سر پر بھی ایک تیر لگا باغیوں کو جب حضرت حسن بن علیؓ علی کے زخمی ہونے کی خبر ملی تو وہ چونک پڑے اور کہا کہ حضرت حسنؓ کے زخمی ہونے میں اگر بنو ہاشم ہم سے بگڑ بیٹھے تو ہمارا سارا منصوبہ خاک میں مل جائے گا قبل اس کے کہ یہ بات ان تک پہنچے کوشش کرو کہ کسی جانب سے دیوار پھاند یا کسی پڑوسی کے مکان سے نقب لگا کر سیدنا عثمانؓ کے گھر میں داخل ہو جاؤ اور جتنی جلدی ہو سکے ان کا کام تمام کر دو چنانچہ یہ لوگ کسی نہ کسی طرح اندر داخل ہوگئے۔ کسی کو اس کی خبر نہ ہوسکی کیونکہ سیدنا عثمانؓ کے محافظین بالا خانے پر تھے۔
ابن تیمیہ رحمۃاللہ نے ان لوگوں کو مفسد اور اللہ کی مخلوق میں بدترین بتایا ہے
(منہاج السنہ: جلد 2 صفحہ 186)
(فتاویٰ جلد 3 صفحہ 411)
اور کہا ہے کہ یہ لوگ فتنہ پرور اوباش تھے وانما قتلہ طائفۃ من المفسدین فی الارض من اوباش القبائل واھل الفتن
(ہدیۃالشیعہ: صفحہ 210)
سیدنا عثمانؓ مقامِ شہادت پر سیدنا عثمانؓ اپنے گھر کے ایک حصہ میں تھے آپؓ کی اہلیہ آپؓ کے ہمراہ تھی باغی گروہ بڑی ہوشیاری سے حضرت عثمان غنیؓ کے گھر داخل ہو گیا اور پھر گھر کے دروازہ کو آگ لگا دی جس کی وجہ سے گھر کا ایک حصہ بھی جل گیا حضرت عثمانؓ نے یہ دیکھ کر کہا کہ دروازہ اس لیے جلایا گیا ہے کہ اس سے بڑھ کر انہیں کوئی اور اہم کام کرنا مقصود ہے سو اب تم لوگ منتشر ہو جاؤ گے اگر میں تم سے دور رہوں گا تو بھی یہ لوگ مجھے قتل کر دیں گے میں حضورﷺ کے اس ارشاد پر سر تسلیم خم کر کے صبر کروں گا۔
حضرت حسان بن ثابتؓ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سیدنا عثمانؓ کے گھر کا دروازہ جلایا گیا تھا آپؓ فرماتے ہیں
آج ابن اروی یعنی عثمانؓ کا گھر تباہ ہو گیا ہے اس کا ایک دروازہ گرا ہوا ہے اور دوسرا جل کر ویران ہو گیا ہے یہ وہ گھر تھا جہاں حاجت مند لوگ آتے اور وہ ان کی حاجت روائی کرتا تھا اور اس گھر میں ذکر الہیٰ اور شرافت کے کاموں کا ہی چرچا تھا۔
آپؓ کے گھر میں داخل ہونے والوں میں محمد بن ابی بکر اور ان کے کچھ ساتھی تھے محمد ابی بکر جب آپؓ کے کمرہ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ حضرت عثمانؓ اپنی اہلیہ حضرت نائلہؓ کے ساتھ ہیں اور قرآن کریم آپؓ کی گود میں رکھا ہوا ہے آپؓ اس کی تلاوت فرما رہے ہیں محمد بن ابی بکر نے آگے بڑھ کر حضرت عثمانؓ کی داڑھی پکڑی تو حضرت عثمانؓ نے اس سے فرمایا کہ اللہ کی قسم اگر تمہارے والد تمہیں یہ کام کرتے دیکھتے تو انہیں بہت دکھ ہوتا یہ سنتے ہی محمد بن ابی بکر نے آپؓ کی داڑھی چھوڑ دی اور گھر سے نکل گیا۔
علامہ ابن کثیر رحمۃاللہ کا بیان ہے کہ محمد بن ابی بکر وہاں سے باہر چلا گیا اور جو لوگ حضرت عثمان غنیؓ کو شہید کرنا چاہتے تھے ان سے بات چیت کی اور انہیں اس سے روکنے کی کوشش کی مگر انہوں نے محمد بن ابی بکر کی بات نہ مانی اور وہ اندر داخل ہو گئے۔
حضرت عبداللہ بن سلامؓ نے بھی ان لوگوں کو روکنے کی کوشش کی اور ان سے کہا کہ اے لوگو! اپنے اوپر اللہ کی تلوار نہ نکالو خدا کی قسم اگر تم اس تلوار کو نیام سے نکالو گے تو دوبارہ اس تلوار کو نیام کے اندر نہیں رکھ سکو گے تم پر افسوس ہے کہ تمہارا مدینہ فرشتوں کی حفاظت پر ہے اگر آج تم نے انہیں قتل کر دیا تو وہ فرشتے اس شہر کو چھوڑ کر چلے جائیں گے۔
(طبری: جلد 3 صفحہ 399)
آپؓ نے ان سے یہ بھی کہا کہ خدا کے لیے حضرت عثمانؓ پر ہاتھ نہ اٹھاؤ یہ دنیا میں زیادہ نہیں جئیں گے خدا کی قسم اگر تم نے آپؓ کو شہید کردیا تو پھر تم کبھی اکٹھے نماز نہ پڑھ سکو گے۔
سیدنا عثمانؓ اپنی شہادت کے وقت تلاوت قرآن مجید میں مصروف تھے جب قاتلوں نے آپؓ کے سر پر لوہے کی لاٹ ماری تو حضرت عثمان غنیؓ کی زبان سے (بسم اللّٰہ توکلت علی اللہ) بےساختہ نکلا اور خون آپؓ کے سر سے بہہ کر آپؓ کی داڑھی کو تر کر رہا تھا قرآن حضرت عثمان غنیؓ کی گود میں تھا آپؓ نے بائیں جانب سہارا لیا اور آپؓ کی زبان پر(سبحان اللّٰہ العظیم) کے الفاظ جاری تھے اور آپؓ کے خون کا قطرہ سامنے رکھے ہوئے قرآن کریم پر آگرا اور قرآن کریم کی آیت( فسیکفیکھم اللّٰہ وھو السمیع العلیم) آپؓ کے خون سے سرخ ہوگئی۔
قال عثمانؓ بسم اللّٰہ توکلت علی اللہ واذا الدم یسیل علی اللحیۃ یقطر و المصحف بین یدیہ فاتکا علی شقہ الایسر وھو یقول سبحان اللّٰہ العظیم وھو فی ذالک یقرء المصحف و الدم یسیل علی المصحف حتی وقف الدم عند قولہ تعالیٰ فسیکفیکھم اللّٰہ وھو السمیع العلیم
عبداللہ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمانؓ کا وہ مصحف جس پر آپؓ کا خون گرا تھا دیکھا تھا
رأیت مصحف عثمانؓ ونضح الدماء فی علی اشیاء من الوعد و الوعید فکان ذالک عند الناس من الآیات
اور اس طرح آپؓ کو شہید کردیا گیا۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
آپؓ زندگی کی آخری سانسوں میں بھی حضورﷺ کی امت کے درمیان اتحاد کی دعا کرتے رہے حضرت عبداللہ بن سلامؓ کہتے ہیں کہ حضرت عثمانِ غنیؓ خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے اور ان کی زبان پر اللہ کے حضور یہ دعا تھی
اللھم اجمع امۃ محمدﷺفلا ریب ان عثمان ان تولی ثنتی عشرۃ سنۃ ثم قصد الخارجون علیہ قتلہ و حصروہ وھو خلیفۃ الارض و المسلمون کلھم رعیۃ وھو مع ھذا کم یقتل مسلما ولا دفع عن نفسہ بقتال بل صبر حتی قتل (منہاج السنہ: جلد 8 صفحہ 221)
فعثمان حاصروہ و طلبوا خلعہ من الخلافۃ او قتلہ ولم یزالوا بہ حتی قتلوہ وھو یمنع الناس من مقاتلتھم الی ان قتل شہیدا وما دافع عن نفسہ فھل ھذا الا من اعظم الصبر علی المصائب
سبائی باغی ٹولے نے حضرت عثمان غنیؓ کو شہید کر دیا اللہ انہیں غارت کرے آپؓ نے صبر کا مظاہرہ کیا اپنے ہاتھ کو روکے رکھا اور اپنے خادموں کو بھی اس سے روک دیا حتیٰ کہ آپؓ کو آپؓ کے گھر میں شہید کر دیا گیا آپؓ اس وقت قرآن کی تلاوت کررہے تھے حضرت عثمان غنیؓ کی اہلیہ آپؓ کے پاس تھیں۔
شہادت کے بعد قاتلوں میں سے ایک شخص جب آپ کے قریب سے گزرا تو دیکھا کہ حضرت عثمان غنیؓ کا سر قرآن پر ہے تو اس بدبخت نے اپنا پاؤں آپؓ کے سر پر مارا اور اسے مصحف سے دور کر دیا اور کہنے لگا کہ میں نے آج تک کسی کافر (معاذ اللہ) کا چہرہ اتنا حسین اور کسی کافر (معاذ اللہ) کے لیٹنے کی جگہ (یعنی قرآن) اتنی باعزت نہیں دیکھی۔
ما رایت کالیوم وجہ کافر احسن ولا مضجع کافر اکرم۔
(البدایہ والنہایہ: جلد 7 صفحہ 175)
یہ بدبخت شیعہ سبائی لوگ سیدنا عثمانؓ کو شہید کرنے کے بعد جب فرار ہوئے تو حضرت نائلہ رضی اللہ عنہا نے آواز دی کہ لوگوں امیرالمؤمنین کو شہید کر دیا گیا ہے تو قریب کھڑے لوگ آمد کی جانب دوڑے اور گھر آ کر دیکھا تو پتا چلا سیدنا عثمانؓ شہید کئے جا چکے تھے اور جونہی یہ خبر حضرت علی حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کو پہنچی تو وہ بھی دوڑے دوڑے آئے اور سیدنا عثمانؓ کے جسد خاکی کو دیکھا تو ان کے ہوش اڑ گئے انہیں آپؓ کی شہادت پر بڑا رنج ہوا حضرت علیؓ نے وہیں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو سخت ڈانٹا اور کہا کہ
تم دونوں کو میں نے ان کے دروازے پر پہرہ بٹھانے کے لیے بھیجا تھا تمہارے ہوتے ہوئے قاتل کس طرح اپنے کام میں کامیاب ہوگئے پھر آپؓ نے حضرت حسنؓ کو زور سے ایک تھپڑ مارا اور سیدنا حسینؓ کے سینہ پر بھی زور سے ہاتھ مارا آپ نے سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کے بچوں کو بھی ڈانٹا اور وہاں سے انتہائی رنج اور غصہ کے ساتھ واپس نکل آئے۔
(تاریخ الخلفاء: صفحہ 165)
حضرت عثمانؓ کی شہادت 18 ذوالحج 35 ہجری جمعہ کے روز عصر کے وقت ہوئی۔
(تاریخ الخلفاء: صفحہ 167)
اس وقت آپؓ کی عمر 82 یا 84 سال کے قریب تھی۔
سیدنا عثمان غنیؓ کے ساتھ بُغض رکھنے کی سزا
حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے اصحاب کے بارے میں اللہ سے ڈرنا ان کے بارے میں زبان نہ کھولنا، میرا ان کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے، ان کے ساتھ محبت میری محبت اور ان کا بغض میرا بغض ہے، آپﷺ نے یہ بات صرف ارشاد ہی نہیں فرمائی بلکہ اس کا عملاً مظاہرہ بھی فرمایا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص کا جنازہ آیا اور حضورﷺ سے درخواست کی گئی کہ آپ اس کی نماز پڑھا دیں، آپﷺ نے نماز پڑھانے سے انکار فرما دیا۔ لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو آپﷺ نے فرمایا کہ یہ شخص حضرت عثمانؓ سے بغض و کینہ رکھتا تھا پس اللہ نے بھی اس کے ساتھ عداوت رکھی ہے۔
ایک مرتبہ حضرت عثمان غنیؓ خلافت کے آخری دنوں میں خطبہ دے رہے تھے، آپ کے ہاتھ میں عصا تھا، اس وقت مفسدین اور باغیوں کا ایک گروہ وہاں موجود تھا، ان میں سے جحیاہ نامی ایک شخص اٹھا اور اس نے آپؓ کے ہاتھ سے عصا چھین لیا اور اپنے گھٹنوں پر رکھ کر اسے توڑ دیا۔ اس کے کچھ دن بھی نہ گزرے تھے کہ وہ آکلۃ (یعنی کینسر) کے مرض میں مبتلا ہوگیا اور یہ مرض اسکی ٹانگ میں شروع ہوا لوگوں نے دیکھا کہ اسکی ٹانگ میں کیڑے پڑے ہیں۔
فتناول عصا عثمانؓ وکسرھا رکبتیہ فاخذتہ الآکلۃ فی رجلہ۔
جناب قلابہ کہتے ہیں کہ میرا ملک شام جانا ہوا تو وہاں میں نے ایک شخص کو کراہتے ہوئے سنا کہ ہائے افسوس آگ۔ ہائے افسوس آگ۔ میں اسکے پاس گیا تو دیکھا کہ اسکے دونوں ہاتھ اور دونوں ٹانگیں قدموں کے اوپر سے کٹی ہوئی ہیں اور وہ دونوں آنکھوں سے بھی اندھا ہے اور وہ منہ کے بل پڑا ہوا یہ الفاظ کہہ رہا تھا میں نے جب اس سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے کہا:
انی کنت ممن دخل الدار فلما دنوت منہ صرخت زوجتہ فلطمتہا فقال مالک قطع اللّٰہ یدیک و رجلیک و اعمی عینیک و ادخلک النار، فاخذنی رعدۃ عظیمۃ و خرجت ھاربا واصابنی ماتری ولم یبق من دعائہ الا النار قال فقلت لہ بعدا لک و سحقا
میں باغیوں اور مفسدوں کے ساتھ حضرت عثمانؓ کے مکان میں داخل ہوا تھا، جب میں ان کے قریب گیا تو ان کی اہلیہ نے زور سے چیخ ماری تو میں نے اس کے منہ پر طمانچہ مارا۔ حضرت عثمانؓ نے جب یہ بات دیکھی تو کہا تجھے کیا ہوا ہے، اللہ تیرے دونوں ہاتھ اور ٹانگوں کو کاٹ دے اور تجھے اندھا کردے اور تجھے آگ میں داخل کرے۔ چنانچہ مجھے ایک زلزلے نے آ دبوچا اور میں نکل بھاگا اور یہ مصیبت مجھ پر گر پڑی جو تو دیکھ رہا ہے اور اب ان کی بددعا میں صرف جہنم کی آگ کا انتظار ہے۔ میں نے یہ بات سن کر اسے کہا کہ چل مجھ سے دور ہوجا۔ تجھ پہ لعنت اور ذلت ہو۔
عثمانؓ پر ہاتھ اٹھانے والے کا ہاتھ سوکھ جانا
حضرت امام بخاری رحمۃاللہ اپنی تاریخ میں امام ابن سیرین رحمۃاللہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے طواف کعبہ کے دوران ایک شخص کو یہ کہتے سنا کہ اے اللہ مجھے بخش دے اور مجھے یقین ہے کہ تو مجھے معاف نہیں کرے گا۔
میں نے اس سے اس عجیب دعا کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ میں نے قسم کھائی تھی کہ مجھے موقع ملا تو میں حضرت عثمانؓ کو تھپڑ ماروں گا، چنانچہ جب انہیں شہید کیا گیا اور ان کی میت ان کے گھر پر تھی تو میں بھی داخل ہونے والوں کے ساتھ وہاں داخل ہوا جب میں نے دیکھا کہ ان کی میت کے آس پاس کوئی نہیں تو میں ان کے چہرے پر سے کپڑا ہٹا کر تھپڑ مار دیا اور باہر نکلا ہی تھا کہ اچانک میرا وہ ہاتھ خشک ہو گیا۔ امام محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے جب اس کے ہاتھ کو چھوا تو وہ بری طرح سوکھ گیا تھا گویا کہ وہ لکڑی ہے۔
قال محمد بن سیرین رأیتھا یابسۃ کانھا عود
( تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ 250)
حضرت عثمانؓ کے گستاخوں پر پاگل پن کا عذاب
یزید بن حبیب کہتے ہیں کہ مجھے اس بات کی خبر ملی کہ جن لوگوں نے حضرت عثمانؓ کے گھر پر چڑھائی کی تھی وہ سب کے سب مجنون اور پاگل ہوگئے تھے۔
ان عامۃ الرکب الذین ساروا الی عثمانؓ جنوا
سعید بن مسیب نے کہا کہ یہ شخص حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کو گالیاں دیا کرتا تھا اور میں اسے اس گستاخی سے منع کرتا تھا مگر وہ باز نہ آیا تو میں نے کہا:
اللّٰہم ھذا یسب الرجلین قد سبق لھما ما تعلم اللّٰہم ان کان یسخطک ما یقول فیھما فارنی فیہ آیۃ فاسود وجہہ کما تری
حضرت عثمانؓ کا گستاخ بجلی کی لپیٹ میں
ابو نضرۃ کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عثمانؓ کو برا کہہ رہا تھا، ہم نے اس کو روکا کہ حضرت عثمانؓ کے بارے میں اس طرح کی گفتگو نہ کرو تو اس نے ہماری بات نہ سنی اور آپ کی گستاخی سے باز نہ آیا۔ اتنے میں اچانک ایک زوردار بجلی چمکی اور اس نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اسے جلا دیا۔
فجاءت صاعقۃ فاحترقتہ
(مختصر تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ 268)
فامر باحراق قوم منھم فی حفرتین
(الفرق بین الفرق: صفحہ177)
(صحیح بخاری: جلد 1 صفحہ 423)
شیعہ عالم ابو عمرو احمد بن عبدالعزیز لکھتا ہے کہ امیرالمؤمنین (حضرت علیؓ نے ابن سباء سے کہا) کہ تجھ پر شیطان سوار ہے تو اپنی ان حرکتوں سے باز آجا اور توبہ کرلے لیکن اس نے آپ کی بات ماننے سے انکار کردیا تو آپ نے اسے تین دن قید میں رکھا اور اس کے بعد زندہ جلا دیا۔
(رجال کشی: جلد 2 صفحہ 183)
تاریخ طبری سے معلوم ہوتا ہے کہ بصرہ کے جو لوگ اس فساد میں شریک ہوئے وہ سب کے سب بھی بالآخر قتل کئے گئے ان میں سے کوئی بھی نہ بچا، اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کا انتقام لیتے ہیں اور انہیں دنیا میں بھی نشانہ عبرت بناتے ہیں۔ سیدنا عثمانؓ کے خلاف اٹھنے والوں میں سے شاید ہی کوئی بچا ہو جسے اس دنیا میں خون اور ذلت کا عذاب نہ دیکھنا پڑا ہو، ان میں سے ہر ایک یکے بعد دیگرے خدا کی گرفت میں آیا اور اس نے اللہ کے نیک بندے کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کی دنیوی سزا بھی دیکھی اور آخرت میں پکڑ اور وہاں کی رسوائی و ذلت تو آپ کا ہر گستاخ دیکھے گا۔ یہ سیدنا عثمانؓ کی بددعا تھی آپ نے اللہ کے حضور عرض کیا تھا کہ اے اللہ تو ان سب کو گن رکھنا، ان سب کو اپنے عبرتناک انجام سے دوچار کرنا اور ان میں سے کوئی باقی نہ بچے۔
اللّٰہم احصھم عددا و اقتلھم بددا ولا یبق منھم ابدا
(رواہ ابن سعد: جلد 3 صفحہ 50)
حضرت امام مجاہد رحمۃاللہ لکھتے ہیں کہ سیدنا عثمانؓ کے خون میں جو بھی شریک ہوا اللہ نے سب کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا تھا۔
فقتل اللّٰہ منھم من قتل فی الفتنۃ۔
(مختصر تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ 206)
(موسوعہ آثار الصحابہؓ: جلد 2 صفحہ 33)
رنگ جب محشر میں لائے گی تو اڑ جائے گا رنگ
یہ نہ سمجھیے کہ سرخئ خون شہیداں کچھ نہیں۔
سیدنا عثمانِ غنیؓ کی شہادت نے مسلمانوں کو کس افسوسناک اور المناک صورت حال سے دو چار کر دیا یہ آپ پڑھ آئے ہیں آپؓ کی شہادت پر جو تلوار میان سے نکلی اس نے بہت سے مسلمانوں کو خاک و خون میں تڑپایا اس حادثۂ فاجعہ کے کچھ ہی عرصہ بعد حضرت علی المرتضیٰؓ بھی شہید کر دئیے گئے جنگ جمل میں صحابہ کرامؓ خون میں نہلائے گئے جنگ صفین میں مسلمان فوجیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہو گئیں پھر بھی اس کی پیاس ٹھنڈی نہ ہوئی مسلمانوں کا شیرازہ بکھر گیا اور جو امن و سکون مسلمانوں کو اس سے پہلے حاصل تھا اب وہ خوف و ہراس، بےچینی اور بدامنی میں بدل گیا اسلامی وحدت اور یک جہتی پارہ پارہ ہو گئی۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃاللہ علیہ نے ایک خاص انداز میں شہادت عثمانؓ کا جائزہ لیا ہے آپ لکھتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت پر خلافتِ خاصہ کا خاتمہ ہو گیا تھا۔
حضرت عثمان ذوالنورینؓ کی شہادت سے جو تغیر ہوا اور اس کے جو مفاسد مرتب ہوئے وہ سب سے بڑھا ہوا ہے رسول اللہﷺ نے اس تغیر کو زمانۂ خیر و زمانۂ شر میں حد فاصل قرار دیا ہے اور اپنے اشارہ کا مرجع اسی تغیر کو بنایا ہے بہت سی حدیثوں میں جو بحیثیت مجموعی متواتر ہیں اور اس تغیر سے خلافتِ خاصہ منتظمہ ختم ہو گئی جیسا کہ رسول اللہﷺ نے بہت سی حدیثوں میں اس کو صاف بیان کیا ہے اور رسول اللہﷺ نے بہت سی حدیثوں میں تینوں خلفاء راشدینؓ کا ایک ساتھ ذکر فرمایا ہے جیسا کہ ہم بیان کر آئے ہیں اور اگر تم غور سے دیکھو تو جہاں کہیں خلافتِ خاصہ منتظمہ بالفعل کا ذکر ہے وہاں تینوں خلفاءؓ کا ذکر ایک ساتھ ہے اور جہاں کہیں خلافتِ خاصہ کا ذکر حضورﷺ کے سامنے یا آپﷺ کے پیچھے مہمات میں مداخلت کے ساتھ ہے وہاں صرف شیخینؓ کا ذکر ہے، حضرت عثمانؓ کی شہادت سے وہ تینوں قرن جن کی خبر کی شہادت دی گئی ہے ختم ہو گئے تیسرا قرن حضرت ذوالنورینؓ کی خلافت کا زمانہ تھا جو قریب بارہ سال کے رہا ہے۔ حضرت ذوالنورینؓ کی روش میں بنسبت شیخینؓ کے کچھ فرق تھا کیونکہ حضرت ذوالنورینؓ کبھی عزیمت سے رخصت کی طرف اتر آیا کرتے تھے اور ان کے حکام بھی شیخینؓ کے حکام کے مثل نہ تھے اور رعیت بھی ان کی ویسی مطیع نہ تھی جیسی حضرت صدیقؓ اور حضرت فاروقؓ کی مطیع تھی گو ویسی خشونت بھی رعیت کی طرف سے ظاہر نہیں ہوئی تھی اور مخالفت کی کیفیت دل و زبان سے ہاتھ اور ہتھیار کی طرف منتقل نہ ہوئی تھی مگر اس قرن کے پورے ہو جانے کے بعد ان باتوں میں سوا مکابر کے کوئی نزاع نہیں ہو سکتا۔
(ازالۃ: جلد 1 صفحہ 586)
محقق العصر حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمانِ غنیؓ وحدت امت کا نشان تھے آپؓ شہید ہونے تک وحدت امت کی فکر میں رہے جان تو دے دی مگر وحدت امت کو پارہ پارہ نہ ہونے دیا اور آپؓ لوگوں کہتے رہے کہ میرے بعد تم سب ایک پلیٹ فارم پر نہ رہ پاؤ گے تاہم آپؓ کی آخری وقت کی دعا بھی وحدتِ امت کی تھی، آپؓ کی شہادت نے سب سے پہلے جس چیز کو متاثر کیا وہ وحدتِ امت تھی۔ آپ لکھتے ہیں:
حضرت عثمان غنیؓ کے بعد امت اعتقاداً نہیں امارۃ آپس میں مختلف ہوئی اور حالات اس طرح ترتیب پائے
1) حضرت عثمانِ غنیؓ کے باغی خلیفۂ راشد حضرت علیؓ کے لئے ایک چیلنج بن گئے اور حضرت علیؓ کو کہنا پڑا کہ يملكوننا ولا نملكھم ان کی بات ہم پر چلتی ہے ہماری بات ان پر نہیں چلتی۔
2) حضرت علی المرتضیٰؓ کی اس بے بسی پر حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ ان کا ساتھ چھوڑ گئے ان کا نظریہ یہ تھا کہ جو ظالموں پر قابو نہ پاسکے وہ قوت خلافت کس طرح رکھ سکتا ہے حضرت علیؓ نے اسے نقض بیعت قرار دیا تاہم معرکۂ جمل میں وہ حالات کی نزاکت کو سمجھ گئے اور انہوں نے حضرت علیؓ سے مصالحت کر لی اور ان کی مخالفت سے دست کش ہو گئے لیکن مفسدین نے انہیں پھر بھی نہ چھوڑا۔
3) گورنر شام حضرت معاویہؓ اور فاتح مصر عمرو بن العاصؓ نے اپنی بیعت کو ایسا معرض التواء میں ڈالا کہ حضرت علیؓ ان کے خلاف چڑھائی پر مجبور ہوئے، جنگ صفین دو حکموں کے تحکیم پر ختم ہوئی اور وہ کسی درجے میں بھی فیصلہ کن نہ ہوسکی۔
4) تحکیم کے نتیجہ میں مسلمانوں میں پہلا اعتقادی فتنہ اٹھا اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ خوارج حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ دونوں کے خلاف اٹھے انہوں نے خلیفہ راشد حضرت علیؓ کو شہید کر دیا اور حضرت معاویہؓ کے خلاف ان کی سازشِ قتل ناکام رہی۔
امت میں یہ اختلافات کب اٹھے؟ حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے بعد اس سے پوری دنیا نے جان لیا کہ حضرت عثمانؓ واقعی وحدتِ امت اور اختلافِ امت میں ایک تاریخی فاصلہ رہے ہیں، حضرت عثمانؓ کا اپنے آخری وقت تک وحدت امت کا نشان بننا آپؓ کی خلافت کے برحق ہونے کی ایک کھلی تکوینی شہادت ہے۔
( خلفائے راشدین: جلد 2 صفحہ 92)
اور یہ بات خود حضرت عثمانؓ نے بھی اپنے آخری وقت میں کہہ دی تھی آپؓ نے فرمایا کہ اگر تم نے میرے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لئے تو تمہاری وحدت ختم ہو جائے گی تم انتشار و خلفشار میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے قسم کھا کر فرمایا:
والله لئن قتلتمونى لا تتحابوا بعدى ولا تصلوا جميعا أبدا ولاتقاتلوا بعدى عدوا جميعا أبدا۔
( البدايه: جلد 7 صفحہ 180)
لو قتلتموني لا يتحابون بعدى ابدا
(المصنف لابن ابی شیبہ: جلد 7 صفحہ 441)
خدا کی قسم اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو تم آپس میں کبھی محبت سے نہ رہ پاؤ گے اور نہ اکٹھے نماز پڑھ سکو گے اور نہ کبھی اکٹھے ہو کر دشمن کے ساتھ لڑ سکو گے۔
ایک سوال اور اس کا جواب
حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت میں کیا کسی صحابی کا کوئی ہاتھ تھا؟ اور کیا ان میں سے کوئی ایک صحابی بھی ایسا تھا جو آپؓ کی شہادت سے کبھی راضی ہوا ہو؟
جواب: حضورﷺ کے صحابہ کرامؓ میں ایک صحابی بھی ایسا نہ تھا جس کے دل میں حضرت عثمانؓ کے خلاف کوئی بوجھ ہو، ان سب کو معلوم تھا کہ حضورﷺ نے حضرت عثمانؓ کو ہمیشہ نگاہ محبت و عزت سے دیکھا ہے اور آپؓ کے بارے میں بڑے فضائل و مراتب بیان فرمائے اور اشاروں کنایوں میں آپؓ کے خلیفۂ ثالث ہونے کی بشارت اور آپؓ کے شہید اور جنتی ہونے کی بشارت دی ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حضورﷺ تو حضرت عثمانؓ کو حق اور ہدایت پر بتائیں اور آپؓ کے اچھے ہونے کی گواہی دیں اور انہیں اپنے مؤقف پر استقامت سے رہنے کی تاکید فرمائیں اور دوسری طرف آپﷺ کے صحابہؓ ان سب ارشادات کو بیک نظر مسترد کرتے ہوئے ان کے قتل میں شامل ہو جائیں۔ جو لوگ صحابہؓ کو حضرت عثمانِ غنیؓ کے قتل میں شامل بتاتے ہیں اور انہیں اس گندگی میں ملوث کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ وہ صحابہؓ کے نام پر حضرت عثمان غنیؓ کو نشانۂ طعن بنا سکیں۔ استغفر الله العظيم
امام ابو بکر بن العربی المالکی (543ھ) لکھتے ہیں:
ان احدا من الصحابة لم يسع عليه ولا قعد عنه
(العواصم من القواصم: صفحہ 143)
صحابۂ کرامؓ میں سے کوئی بھی حضرت عثمانِ غنیؓ کی مخالفت میں آگے بڑھا اور نہ وہ آپؓ کی حمایت سے دست کش ہوئے
صحیح مسلم کے شارح اور محدث امام نوویؒ (676 ھ) کھل کر لکھتے ہیں:
لم يشارك في قتله أحد من الصحابة
(نووی شرح مسلم: جلد 2 صفحہ 143)
حضرت عثمانؓ کے خون میں کسی بھی صحابی کا کوئی ہاتھ نہ تھا۔
شیخ الا سلام حافظ ابن تیمیہ رحمۃاللہ لکھتے ہیں:
ومعلوم بالتواتر أن أهل الامصار لم يشهدوا قتله فلم يقتله بقدر من بايعه وأكثر أهل المدينة لم يقتلوه ولا أحد من السابقين الاولين دخل في قتله كما دخلوا في بيعته
(منهاج السنۃ: جلد 8 صفحہ 313)
ان جماهير المسلمين لم يأمروا بقتله ولا شاركوا فى قتله ولا رضوا بقتله.. خيار المسلمين لم يدخل منهم في دم عثمان لا قتل ولا أمر بقتله وإنما قتله طائفة من المفسدين في الارض من أوباش القبائل وأهل الفتن
(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 323)
ولم يكن معهم من الصحابة أحد فنقبوا جداره ودخلوا عليه وقتلوه مظلوما
(التمهيد صفحہ 164)
حضرت عثمانؓ کے گھر گھسنے والوں میں کوئی بھی صحابی نہ تھا، یہ دوسرے لوگ تھے جو دیوار پھاند کر اندر داخل ہو گئے اور آپؓ کو ظلماً قتل کردیا۔
مؤرخ شہیر حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ لکھتے ہیں:
ليس فيه أحد من الصحابة
(البدايہ والنهايہ: جلد 7 صفحہ 185۔ 198)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃاللہ لکھتے ہیں۔
کہ آپؓ کے ساتھ زیادتی کرنے والے مصری اور ان کے ساتھی تھے ان میں کوئی صحابی اور ان صحابہ کے پیچھے چلنے والا کوئی تابعی نہ تھا۔
قومی از مصریاں کہ نہ از بعد صحابه بود ندونه از تابعین لهم باحسان
(قرة العینین: صفحہ 143)
اس بارے میں سب سے زیادہ نام حضرت علی المرتضیٰؓ کا لیا جاتا ہے اور بہت سے لوگ اپنے مذموم اپنے مقاصد کے تحت انہیں شہادت عثمانؓ کا ذمہ دار بتاتے ہیں، یہ بات بالکل غلط ہے، بیشک بعض معاملات میں آپؓ کو حضرت عثمانؓ کی پالیسی سے اختلاف ہوا اور آپؓ نے ان کی نشاندہی بھی کی تاہم آپؓ کو حضرت عثمانؓ کی شہادت کا ذمہ دار بتانا، حضرت علی المرتضیٰؓ کی سیرت کو داغدار کرنا ہے جو ہرگز جائز نہیں۔ آپؓ حضرت عثمانؓ کی مدافعت کرنے والوں میں تھے اور اپنی ممکنہ حد تک آپ نے یہ کوشش بھی کی۔ آپؓ نے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو حضرت عثمانؓ کی حفاظت پر مامور فرمایا آپؓ کے لئے پانی بھیجنے کا انتظام کیا ان کوششوں کے باوجود تقدیر الٰہی پوری ہوئی پھر جب آپؓ کو شہادت کی خبر پہنچی تو آپ رو پڑے اس پر سخت دکھ کا اظہار فرمایا اور قاتلوں سے کھلے عام اظہار برأت کیا اور فرمایا کہ نہ میں نے کبھی اس کا حکم دیا تھا نہ میں ان کے اس عمل سے راضی ہوں خدا ان کو غارت و برباد کرے جنہوں نے حضرت عثمانؓ کو شہید کیا۔ حضرت علی المرتضیٰؓ کے یہ بیانات آپ پہلے پڑھ آئے ہیں۔
پیش نظر رہے کہ حضرت علیؓ کو شہادت عثمان غنیؓ کا ذمہ دار بتانے والے رافضی اور خارجی ہیں اور دونوں نے اپنے مذموم مقاصد کے تحت آپ کو اس میں رگیرنے کی کوشش کی ہے رافضی گروہ کا عقیدہ ہے کہ حضرت عثمانِ غنیؓ چونکہ مستحق قتل تھے اس لئے یہ سب کچھ حضرت علیؓ کے حکم سے ہوا تھا اور اس میں حضرت علیؓ حق بجانب تھے اس لئے آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمانِ غنیؓ کا دفاع کرنے کی زحمت تک گوارا نہ کی۔ اودھ (انڈیا) کے ایک رافضی ملا حسین بخش کا یہ دل آزار بیان دیکھیے
قتل عثمان( رضی اللّٰہ عنہ) قطعی کوئی جرم نہیں تھا بلکہ یہ تو اسلامی معاشرے کے اعلیٰ مقاصد کے عین مطابق تھا اور خود حضرت علی علیہ السلام عثمان (رضی اللہ عنہ) کے دفاع کے لئے راضی نہیں تھے
(امامت و ملوکیت: صفحہ 123)
جبکہ خارجی گروہ حضرت علیؓ کو بدنام کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک مظلوم خلیفہ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے ہیں انہیں آپ پر قتل کا الزام لگانے میں کوئی حیاء نہیں آئی۔ استغفر اللہ
ابن تیمیہ رحمۃاللہ ان دونوں کے بارے میں لکھتے ہیں:
فكان أناس من محبى على ومن مبغضيه يشيعون ذلك عنه فمحبوه يقصدون بذلك الطعن على عثمان بانه كان يستحق القتل وأن عليا أمر بقتله ومبغضوه ويقصدون بذلك الطعن على على وأنه أعان على قتل الخليفة المظلوم الشهيد الذي صبر نفسه ولم يدفع عنها ولم يسفك دم مسلم في الدفع عنه فكيف فى طلب طاعته وأمثال هذه الأمور التي يتسبب بها الزائغون على المتشيعين العثمانية والعلوية
( فتاویٰ ابن تیمیہ: جلد 35 صفحہ 73)
جبکہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ کا دامن ان تمام آلائشوں سے پاک ہے جو سیدنا علیؓ کی طرف رافضی اور خارجی لوگوں نے منسوب کر رکھا ہے۔
حضرت عثمانؓ کا حضرت علی المرتضیٰؓ اور آپؓ کے گھر والوں کے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا، آپؓ نے کبھی حضرت عثمانؓ کی بد خواہی کی اور نہ آپؓ کی عزت واحترام پر کبھی کسی سے کوئی سودا کیا تھا، آپؓ نے ہمیشہ ان کے فضائل و مناقب بیان کئے اور اپنے تمام معتقدین کو حضرت عثمانؓ کے ادب واحترام کی تلقین و تاکید کی۔ سیدنا علیؓ حضرت عثمانؓ کے خلاف بولنے والے کے سخت خلاف تھے اور ان سے کھلے عام برأت اور لاتعلقی کا اعلان کرتے تھے آپؓ بار بار کہتے تھے کہ سیدنا عثمانؓ مؤمن کامل ہیں حضورﷺ کے دوہرے داماد ہیں اور اہل جنت میں سے ہیں
Credit : Difa e Islam
WhatsApp us