
حضرت حسنؓ کی بیماری اور انتقال کے متعلق اہل تراجم اور مؤرخین نے مختلف روایات ذکر کی ہیں۔
ان میں سے ایک عام شہرت یافتہ روایت یہ ہے کہ حضرت حسنؓ کی ازواج میں سے ایک زوجہ “مسماة جعدہ بنت اشعث بن قیس کندی” تھی۔ اس نے اپنی ناعاقبت اندیشی کی بنا پر حضرت حسنؓ کو زہر پلا دی جس کی وجہ سے حضرت حسنؓ سخت بیمار ہو گئے۔ ان کی بیماری میں اس قدر شدت تھی کہ حضرت حسنؓ کو بار بار اجابت ہونے لگی کہتے ہیں کہ یہ بیماری قریباً چالیس یوم تک چلی گئی .
ابوعوانة عن مغيره عن ام موسی ان جعدة بنت الأشعث بن قيس سقت الحسن السم فاشحكي فكان توضع تحته طشت و ترفع اخرى نحوا من اربعين
👈 مختصرتاریخ ابن عساکر جلد ۳۸
👈 سیراعلام النبلاء للذہبی میں ۱۸۴ جلد۳
👈تاریخ ابن عساکر لابن منظور می 29 جلد
🔹 ایک روایت 🔹
اسی سلسلہ میں مؤرخین نے ایک دوسری روایت بھی ذکر کی ہے جس سے اس واقعہ کی چند دیگر متعلقہ چیزیں بھی واضح ہو جاتی ہیں اس دور کے ایک شخص میربن اسحاق کہتے ہیں کہ ہم حضرت حسنؓ کی بیماری کے دوران عیادت کے لیے حاضر ہوئے۔ ہم نے مزاج پرسی کی وہ بار بار بیت الخلاء میں جا رہے تھے۔ اس وقت حضرت حسنؓ نے اپنی کیفیت طبع بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی تم مجھے کئی بار زہر دی گئی ہے اور جتنی سخت زہر اس بار دی گئی ہے پہلے بھی نہیں دی گئی اور ساتھ فرماتے تھے کہ میرا جگر ٹکڑے ہو کر خارج ہو رہا ہے میر کہتے ہیں کہ دوسرے دن میں پھر حاضر خدمت ہوا اس وقت حضرت حسنؓ کی نہایت پریشان کن حالت تھی۔
اسی دوران حضرت حسینؓ تشریف لائے اور انہوں نے اپنے برادر حضرت حسنؓ کو کہا کہ اے بھائی مجھے مطلع کیجئیے کہ آپ کو کس نے زہر دیا ہے؟
تو حضرت حسنؓ نے فرمایا کہ آپ کیوں دریافت کرتے ہیں؟ کیا آپ اس کو قتل کرنا چاہتے ہیں؟ تو حضرت حسینؓ نے کہا کہ ہاں! اس وقت حضرت حسنؓ نے فرمایا کہ میں مجھے اس معاملہ میں کچھ بیان نہیں کرنا چاہتا اگر وہ ہے جس کے متعلق میں گمان کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ زیادہ سخت انتقام لینے والے ہیں (وہ اس سے انتقام لے لیں گے) اور اگر اس طرح نہیں بلکہ میرا گمان غلط ہے تو پھر اللہ کی حکم میں نہیں چاہتا کہ کوئی غیر قاتل اور ناکردہ گناه آدمی میری وجہ سے قتل کیا جائے۔
🔺 فائدہ : یعنی سیدنا حسنؓ کو بھی معلوم نہیں تھا صحیح طرح تو آج شیعہ کو کس نے بتایا کہ سیدنا معاویہؓ نے زہر دیا؟؟؟
اس کے بعد جناب حسن مجتبی بن علیؓ کا جلد انتقال ہوگیا اور ان کی تاریخ انتقال 5 ربیع الاول 49ھ یا 50ھ موافق فروری ۹۹۹ء ہے اور اس میں مزید اقوال بھی تاريخ میں پاۓ جاتے ہیں۔
ابن علية عن ابن عون عن عمير بن اسحق قال دخلنا على الحسن بن على نعوده فقال لصاحبی يافلان سلنى ثم قام من عندنافدخل كنيفاثم خرج فقال اني والله قد لفظت طائفة من كبدی قلبمها ںعود وانی قد سقيت السم مرارافلم اسق مثل هذافلما كان الغدانيته وهو يسرق فجاء الحسين فقال ای اخیاانبئنی من سفاک قال لملحقحله؟ قال نعم قال ماانامحدثك شيا- ان يكن صاحبي الذي اظن فالله اشد نقمة والافوالله لايقبل ہی بری له۔
ترجمہ:- ان سے معلوم ہوا کہ حضرت حسنؓ کی وفات زہر خورانی سے ہوئی آنموصوف نے زہر دہندہ کا نام نہیں ظاہر کیا بلکہ پوشیدہ رکھا۔
اور معاملہ ہذا میں کمال بردباری اختیار کی اور صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا۔اور عمر بھر کسی شخص کی ایذارسانی کے روادار نہیں ہوئے۔
یہ ولی اللہ کی صفات کاملہ ہیں اور حضرت حسنؓ ان صفات کے حامل تھے۔
🔹 ایک اور روایت 🔹
حضرت حسنؓ کے انتقال کے موقع پر کئی نوع کی روایات پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک روایت حافظ الذہبی نے سیراعلام النبلاء میں حضرت قتادہؓ سے نقل کی ہے کہ شام کے علاقہ میں جب حضرت حسنؓ کی وفات کی اطلاع حضرت معاویہؓ کی خدمت میں پہنچی حضرت عبد الله بن عباسؓ وہاں اتفاقاً موجود تھے۔پیش آمده حالات بتلائے گئے تو اس موقعہ پر حضرت امیر معاویہؓ نے ان حالات پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عجیب بات ہے کہ جناب حسنؓ نے بئر رومہ کے پانی کے ساتھ شہد ملا کر نوش کیا اور موت واقع گی)
اس کے بعد حضرت معاویہؓ نے حضرت ابن عباسؓ سے اظہار تعزیت کیا اور تسلی کے کلمات ادا کیے اور ان کی خدمت میں ایک معقول نقدی پیش کی اور کہا کہ اس کو
اپنے اہل و عیال میں تقسیم کردیے۔ ابوهلال عن قتاده قال معاويه واعجباللحسن اشرب شربة من عسل بماء رومة فقضى نحبه ثم قال لابن عباس لايستوک الله ولايحزنك في الحسن.. بله
مختصر یہ ہے کہ حضرت حسنؓ کے باعث انتقال میں کئی تم کے اقوال مؤرخین تقرر کئے ہیں۔ مذکورہ روایت بھی گویا کہ ایک قول کے درجہ میں ہے
🔺 تنبیہ 🔺
حضرت حسنؓ کی وفات کے سلسلہ میں ابن تیمیہؒ نے اس طرح لکھا ہے کہ
فقيل انه مات مسموما وهذه شهادة له وكرامة في حقه ولكن لم يمت مقاتلات
یعنی آپؓ کی وفات زہر خوارنی سے ہوئی اور یہ ان کے حق میں شہادت کے درجہ میں ہے اور ان کے لیے کرامت و فضیلت ہے اور قتال کرتے ہوئے آپ کی وفات نہیں ہوئی۔
🔹 ایک شبہ کا ازالہ 🔹
حضرت حسنؓ کی وفات کے موقعہ پر بحث ہذا کے آخر میں بھی شیعہ کی طرف سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت حسنؒ کو ان کی اہلیہ کی طرف سے جو زہر لائی گئی وہ امیر معاویہؓ کی طرف سے تمام معاملہ کیا گیا اور انہوں نے ان کی زوجہ سے رابطہ کر کے یہ کام کروایا تھا۔
جواباً ہم عرض کرتے ہیں یہ بہتان اور جھوٹ ہیں یہ سب سے پہلے شیعہ مؤرخ مسعودی نے لکھا پھر اس کو دیکھا دیکھی سب نے نقل کر دیا جبکہ اہلسنّت کی کسی کتاب میں نہیں صحیح سند نہیں لکھا۔
مزید مفصل جواب مولانا نافع رحمہ اللہ کی کتاب سیرت حضرت معاویہؓ جلد دوم (جواب الطاعن) میں لکھا ہے اس کو ملاحظہ فرمائیں
وہاں کبار علماء کرام مثلا حافظ ابن کثیر دمشقی
خلدون مغربی کی تحقیق درج کر دی ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ کی طرف اس فعل کا انتساب بالکل غلط ہے اور جن روایات کی بنا پر امیر معاویہؓ پر الزام لگایا گیا ہے وہ شیعوں کی روایات ہیں اور شیعہ کی طرف سے اس نوع کے الزامات کوئی از بعید نہیں۔
درایت کے اعتبار سے بھی حضرت امیر معاویہؓ کی طرف اس فعل کا انتساب کرنا غلط ہے اس لیے کہ حضرت حسنؓ کا جنازه سعید بن العاص الاموی (جو اس وقت حضرت امیر معاویہؓ کی اس طرف سے حاکم مدینہ تھے) نے پڑھایا۔
حضرت حسنؓ کی وفات کے بعد حضرت حسینؓ امیر معاویہؓ کے ہاں بطور وفد کے ہمراہ سال تشریف لے جاتے تھے۔ اس وقت ان کے لیے بہت کچھ انعام و اکرام حضرت معاویہؓ کی طرف سے کیا جاتا تھا حضرت حسینؓ اسے بخوشی قبول کرتے تھے۔
51ھ میں جب غزوہ قسطنطنیہ پیش آیا تو حضرت حسینؓ اس میں جا کر شامل ہوئے اور اس وقت امیر الجیش حضرت معاویہؓ کا فرزند یزید تھا۔
🔹مطلب یہ ہے کہ قبیلہ کے اکابر اور اقارب کو جن لوگوں نے زہر دلا کر قتل کر ڈالا ہو، ان لوگوں سے اپنے جنازے پڑھوانا ان کے ہمراہ غزوات میں شرکت کرنا۔ ان سے عطایا اور وظائف حاصل کرنا وغیرہ وغیرہ یہ کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟
یہ چیزیں تو ان حضرات کی عزت نفس اور فطری غیرت کے بر خلاف ہیں ان تمام چیزوں کو پیش نظر رکھنے سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معاویہؓ کا حضرت حسنؓ کے واقعہ انتقال میں کوئی دخل نہیں تھا اور نہ ہی وہ اس معاملہ میں ملوث تھے۔
حافظ ابن کثیرؒ نے اس معاملہ میں اپنی تحقیق بالفاظ ذیل تحریر کی ہے ۔
و عندي ان هذا ليس بصحيح و عدم صحته عن ابيه معاوية بطريق الاولى والاحرى
یعنی ابن کثیرؒ کہتے ہیں کہ یزید کی طرف زہر خوارنی کی نیت کرنا میرے نزدیک صحیح نہیں ہے (غلط ہے) اور ان کے والد امیر معاویہؓ کی طرف نیت کرنا طریق اولی غلط ہے صحیح نہیں
🔴 وفات اور جنازه 🔴
سیدنا حسنؓ نے اپنی بیماری کے ایام نہایت صبر و عمل سے گزارے اور ربیع الاول 49ھ میں حضرت حسنؓ کا انتقال ہوا اس وقت کے امیر مدینہ سعید بن العاص الامویؓ تھے ان کو حضرت حسینؓ نے ارشاد فرمایا کہ آپ جنازہ پڑھائیں اور ساتھ ہی قاعده شرعی بیان فرمایا کہ :۔
لولا انها سنة ماقدمت لین دین اسلام میں سنت یہی ہے کہ امیر وقت نماز جنازہ پڑھانے کا زیادہ حقدار ہے۔ اگر یہ سنت نبویﷺ نہ ہوتی تو میں آپؓ کو نماز جنازہ کے لیے مقدم نہ کرتا،
اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ حضرت حسینؓ اپنے بھائی کی وفات کے بعد بھی حضرت امیر معاویہؓ کے مقرر کردہ امیر کی اطاعت سے نہیں نکلے۔
پس ثابت ہوا سیدنا حسنؓ کو زہر کا واقعہ ہی جھوٹا ہے۔
🔸 حوالہ جات 🔸
👈البدایہ والنہایۃ جلد 8 صفحہ 43 تحت سنۃ 40ھ
👈کتاب المعرفۃ التاریخ البسوی جلد1 صفحہ 216
👈منہاج السنہ جلد 2 صفحہ 121 طبع لاہور
👈حلیہ الاولیاء جلد 2 صفحہ 38
WhatsApp us