
باب السلام سے مسجد نبوی میں داخل ہوکر آگے بڑھیں تو بائیں جانب محراب حنفی آتا ہے اور محراب حنفی سے آگے پہلے اور دوسرے ستون کے درمیان وہ مقام آتا ہے جسے مدینہ منورہ کی روایتی تاریخ میں اس واقعے سے منسوب کیا جاتا ہے جہاں اہل حلب کے ایک گروہ کو زمین نے اپنے اندر لے لیا تھا
یہ واقعہ 561 ہجری کے زمانے سے منسوب کیا جاتا ہے اور قدیم تاریخی کتب میں شیخ شمس الدین صواب اللمطی الموصلیؒ سے منقول ہے جو اس زمانے میں مسجد نبوی ﷺ کے خدام میں شمار ہوتے تھے اور جنہیں محب الدین طبریؒ نے صالح اور فقراء پر بہت شفقت کرنے والا شخص قرار دیا ہے
شیخ شمس الدین صوابؒ بیان کرتے ہیں کہ ان کا ایک ایسا دوست تھا جو امیر کے دربار میں بیٹھتا تھا اور امیر کے حالات سے متعلق خبریں انہیں پہنچاتا رہتا تھا۔ ایک دن وہ ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آج ایک نہایت بڑا اور سنگین معاملہ پیش آیا ہے
اس نے بتایا کہ حلب سے کچھ لوگ مدینہ منورہ آئے ہیں اور انہوں نے امیر کو بہت سا مال پیش کرکے اس بات پر آمادہ کرلیا ہے کہ انہیں حجرہ شریفہ کھولنے اور وہاں سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اجسادِ مبارکہ نکالنے کی اجازت دی جائے
یہ خبر سن کر شیخ شمس الدین صوابؒ پر شدید اضطراب طاری ہوگیا۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ امیر کا قاصد انہیں بلانے آیا۔ وہ امیر کے پاس حاضر ہوئے تو امیر نے کہا کہ آج رات کچھ لوگ مسجد کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے، تم ان کے لیے دروازہ کھول دینا، انہیں ان کے ارادے سے نہ روکنا اور نہ ان کی مخالفت کرنا
شیخ صوابؒ نے بظاہر امیر کا حکم قبول کرلیا، لیکن ان کا دل انتہائی غمگین تھا۔ وہ پورا دن حجرہ شریفہ کے پیچھے بیٹھے روتے رہے۔ ان کے آنسو رکنے کا نام نہ لیتے تھے اور کسی کو معلوم نہ تھا کہ ان کے دل پر کیا گزر رہی ہے
جب رات ہوئی، عشاء کی نماز ادا کی گئی، لوگ مسجد سے نکل گئے اور مسجد کے دروازے بند کردیے گئے۔ کچھ دیر بعد اس دروازے پر دستک ہوئی جو امیر کے قیام گاہ کے سامنے تھا، یعنی باب السلام
شیخ صوابؒ نے دروازہ کھولا تو چالیس آدمی ایک ایک کرکے مسجد میں داخل ہوئے۔ ان کے ساتھ کدالیں، پھاوڑے، ٹوکریاں، چراغ اور کھدائی و انہدام کے دوسرے آلات تھے۔ اس کے بعد وہ حجرہ شریفہ کی جانب بڑھنے لگے
لیکن ابھی وہ لوگ منبر شریف تک بھی نہ پہنچے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ظاہر ہوئی اور زمین نے ان سب کو ان کے تمام آلات سمیت اپنے اندر لے لیا۔ شیخ صوابؒ کے بیان کے مطابق ان میں سے کسی کا کوئی نشان باقی نہ رہا
یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے روایت کے الفاظ میں یہ تاکید بھی ملتی ہے کہ اللہ کی قسم وہ لوگ منبر تک پہنچنے سے پہلے ہی زمین میں دھنس گئے اور ان کے ساتھ جو کچھ آلات تھے وہ بھی ان کے ساتھ زمین میں چلے گئے
ادھر امیر ان لوگوں کی واپسی کا انتظار کرتا رہا۔ جب کافی دیر گزر گئی تو اس نے شیخ صوابؒ کو بلایا اور پوچھا کہ کیا وہ لوگ تمہارے پاس نہیں آئے تھے
شیخ صوابؒ نے جواب دیا کہ کیوں نہیں، وہ آئے تھے لیکن ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آگیا ہے
امیر نے تعجب اور سختی سے کہا کہ دیکھو تم کیا کہہ رہے ہو۔ شیخ صوابؒ نے کہا کہ حقیقت یہی ہے، آپ خود جاکر دیکھ لیجیے کہ ان میں سے کوئی باقی ہے یا ان کا کوئی نشان موجود ہے
اس پر امیر نے انہیں سختی سے متنبہ کیا کہ اس معاملے کو یہیں رہنے دو اور اگر یہ بات تمہاری طرف سے ظاہر ہوئی تو تمہاری جان خطرے میں پڑ جائے گی
اس واقعے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ امام محب الدین طبریؒ نے اسے محض ایک غیر معلوم قصے کے طور پر نقل نہیں کیا بلکہ اس کے سماع کی ایک مزید تائید بھی ذکر کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے ہارون بن شیخ عمر سے یہ حکایت سنی تو اسے اپنے بعض قابلِ اعتماد ساتھیوں کے سامنے بیان کیا۔ ان میں سے ایک شخص نے بتایا کہ وہ خود مدینہ منورہ میں شیخ ابوعبداللہ قرطبی کے پاس موجود تھا جب شیخ شمس الدین صوابؒ خود یہ واقعہ بیان کررہے تھے اور اس نے یہ واقعہ براہِ راست اپنی سماعت سے ان کی زبان سے سنا تھا
بعد کے مدنی مؤرخین نے بھی اس واقعے کو نقل کیا ہے۔ علامہ نور الدین علی بن عبداللہ السمہودیؒ نے اپنی معروف کتاب وفاء الوفا بأخبار دار المصطفى ﷺ میں امام محب الدین طبریؒ کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے۔ اسی طرح قاضی مؤرخ حسین بن محمد الدیار بکریؒ نے تاریخ الخمیس میں اور برزنجيؒ نے نزهة الناظرين میں بھی اس واقعے کا ذکر کیا ہے
مؤرخ مقریزیؒ نے بھی اپنی کتاب إمتاع الأسماع میں محب طبریؒ کی کتاب الرياض النضرة سے اس واقعے کو نقل کیا ہے، اگرچہ ان کے ہاں سند کے ایک راوی کے نام میں معمولی لفظی اختلاف پایا جاتا ہے
یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ واقعہ حدیثِ مرفوع نہیں بلکہ قدیم تاریخی روایت اور حکایت کے طور پر منقول ہے۔ اس لیے اسے حدیثِ نبوی ﷺ کے درجے میں بیان کرنا درست نہیں۔ تاہم اس کی اہمیت اس اعتبار سے ہے کہ اسے متعدد قدیم مؤرخین نے نقل کیا اور اس کا بنیادی بیان شیخ شمس الدین صواب اللمطیؒ کی طرف منسوب کیا گیا ہے
یہ حکایت اس دور کے مدینہ منورہ کے تاریخی لٹریچر میں حجرہ شریفہ اور اس میں آرام فرما حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے اجسادِ مبارکہ کی حفاظت کے ضمن میں نقل ہوئی ہے اور اہلِ مدینہ کے ہاں اس مقام کی تاریخی نسبت بھی اسی واقعے سے بیان کی جاتی رہی ہے
الرياض النضرة في فضائل العشرة، امام محب الدین احمد بن عبداللہ الطبریؒ، المتوفی 694ھ
وفاء الوفا بأخبار دار المصطفى ﷺ، علامہ نور الدین علی بن عبداللہ السمہودیؒ، المتوفی 911ھ، جلد 2، صفحہ 438
تاريخ الخميس في أحوال أنفس نفيس، قاضی حسین بن محمد الدیار بکریؒ، جلد 3، صفحات 491 تا 492
نزهة الناظرين في مسجد سيد الأولين والآخرين، برزنجيؒ، صفحہ 82
إمتاع الأسماع بما للنبي ﷺ من الأحوال والأموال والحفدة والمتاع، مقریزیؒ، جلد 14، صفحہ 626
التحفة اللطيفة في تاريخ المدينة الشريفة، امام شمس الدین السخاویؒ، جلد 2، صفحہ 248
WhatsApp us