
🌟 خاندانی پس منظر اور ابتدائی ایام
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عہد کے آخری ایام میں قبیلہ قریش کے ہاں ایک ایسے بچے نے آنکھ کھولی جس کا نام عقبہ بن نافع الفہری رکھا گیا۔ اگرچہ انہیں دربار رسالت کی براہ راست حاضری اور صحابیت کا شرف نہ مل سکا، تاہم ان کی پرورش اسی پاکیزہ دور میں ہوئی جب توحید کی کرنیں جزیرہ نما عرب کی سرحدیں پار کر رہی تھیں۔ خاندانی اعتبار سے وہ نامور صحابی اور فاتح مصر سیدنا عمرو بن العاص کے قریبی عزیز تھے۔ اسی ایمانی اور جنگی ماحول نے انہیں ان صف اول کے سرفروشوں میں شامل کر دیا جنہوں نے شمالی افریقہ کی تاریکیوں کو نور اسلام سے منور کیا۔
⚔️ میدان جنگ میں قدم اور قائدانہ صلاحیتیں
ان کی عسکری زندگی کا باقاعدہ آغاز سیدنا عمرو بن العاص کی زیر قیادت مصر کی فیصلہ کن فتوحات سے ہوا۔ ان کی حیرت انگیز بہادری، غیر معمولی قوت ارادی اور جنگی تدبر کو بھانپتے ہوئے انہیں افریقی محاذ کی انتہائی نازک اور اہم مہمات کی سربراہی سونپی گئی۔ وہ اسلامی لشکر کا پرچم تھامے مغربی افریقہ کے دشوار گزار راستوں پر ایسے نکلے کہ تاریخ اسلام کے مایہ ناز سپہ سالاروں میں ان کا تذکرہ سنہری حروف میں لکھا جانے لگا۔
🕌 قیروان کی تاریخی بنیاد اور مستحکم مرکز
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں جب افریقہ کی زمام کار عقبہ بن نافع کے سپرد کی گئی، تو انہوں نے مغرب کی جانب ایک طویل پیش قدمی کی۔ ان کی عسکری بصیرت نے یہ فیصلہ کیا کہ مفتوحہ علاقوں پر اسلامی گرفت مضبوط رکھنے اور فوج کو منظم کرنے کے لیے ایک محفوظ دارالخلافہ ناگزیر ہے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے گھنے، درندوں سے بھرے پرخطر جنگلات کی صفائی کروا کر ایک نئے شہر کا سنگ بنیاد رکھا جسے دنیا آج قیروان کے نام سے جانتی ہے۔ اسی شہر کے وسط میں انہوں نے ایک وسیع جامع مسجد بھی تعمیر کروائی جو آج تک مسجد عقبہ کے نام سے مشہور ہے، اور یہ شہر پورے افریقہ میں دین مبین کی نشر و اشاعت کا دھڑکتا ہوا دل بن گیا۔
🌊 بحر ظلمات کے ساحل پر ایک لافانی دعا
ایک مختصر عرصے تک گورنری کے منصب سے دور رہنے کے بعد، 62 ہجری میں خلیفہ یزید کے دور میں انہیں دوبارہ یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ یہاں سے ان کی زندگی کے طویل ترین اور فیصلہ کن معرکوں کی شروعات ہوئی۔ اسلامی لشکر ان کی قیادت میں مغربی افریقہ کے وسیع وعریض علاقوں، طنجہ اور باغایہ جیسی مضبوط بستیوں کو تسخیر کرتا ہوا بحر ظلمات یعنی بحر اوقیانوس کی موجوں تک جا پہنچا۔ تاریخ کے اوراق میں وہ منظر ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا جب انہوں نے اپنے گھوڑے کو سمندر کی بپھری ہوئی لہروں میں اتار کر آسمان کی جانب نگاہ اٹھائی اور پکارے کہ اے پروردگار، اگر یہ اتھاہ سمندر میرا راستہ نہ روکتا، تو میں تیری توحید کا پرچم تھامے ان نامعلوم زمینوں کے آخری کناروں تک لڑتا ہوا چلا جاتا۔
🛡️ تہوذہ کا خونریز معرکہ اور جام شہادت
اس عظیم جرنیل کا آخری وقت بھی کسی عام انسان کی طرح نہیں بلکہ ایک سچے سرفروش کی مانند تھا۔ 63 ہجری کا سال تھا، جب وہ اپنی کامیاب ترین اور طویل مہمات کے بعد محض چند درجن جانثاروں کے ہمراہ واپس پلٹ رہے تھے۔ اسی دوران رومیوں اور بربر قبائل کے باغی رہنما کسیلہ نے موقع پا کر ایک بھاری لشکر کے ساتھ ان پر اچانک دھاوا بول دیا۔ کوہ اوراس کی وادیوں میں تہوذہ کے مقام پر حق و باطل کا خونریز ٹکراؤ ہوا۔ ہتھیار ڈالنے کے بجائے عقبہ بن نافع اور ان کے مٹھی بھر ساتھیوں نے بے جگری سے لڑتے ہوئے اپنی جانیں جان آفرین کے سپرد کر دیں۔ یہ مبارک مقام آج بھی ان کی لازوال قربانی کی یادگار کے طور پر سیدی عقبہ کہلاتا ہے۔
🕊️ اختتامیہ اور ہمارا پیغام
شمالی افریقہ کی قسمت بدلنے والے اس عظیم ہیرو کا جسمانی سفر تو تمام ہوا، مگر قیروان کی بنیاد اور افریقی خطے میں فتوحات کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ان کے نام سے منسوب ہو گیا۔ باری تعالیٰ ان کی مرقد پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔
کیا آپ کو اس بات کا علم تھا کہ مشہور افریقی شہر قیروان کے بانی دراصل عقبہ بن نافع ہی تھے؟
اگر آپ کو یہ تاریخی معلومات پسند آئیں، تو تبصروں میں رضي الله عنه لکھیں، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں، اور اس تحریر کو ان دوستوں تک ضرور پہنچائیں جنہیں مسلم تاریخ کے حقیقی ہیروز کے واقعات پڑھنے کا شوق ہے۔
مستند حوالہ جات:
١. فتوح البلدان (امام البلاذری)
٢. البداية والنهاية (حافظ ابن کثیر)
٣. تاريخ الأمم والملوك (امام طبری)
٤. الكامل في التاريخ (ابن الاثير)
٥. الاستقصا لأخبار دول المغرب الأقصى (الناصری)
WhatsApp us