
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کی طبعی وفات اور جنازہ
رسول اللہﷺ کے وصال مبارک کے چھ ماہ بعد حضرت فاطمہؓ بیمار ہوئیں اور چند روز بیمار رہیں ۔ پھر تین رمضان المبارک 11 میں منگل کی شب ان کا انتقال ہوا۔ اس وقت ان کی عمر مبارک علماء نے اٹھائیس یا انتیس 28 یا 29برس ذکر کی ہے ۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے سن وفات اور ان کی عمر کی تعیین میں سیرت نگاہوں نے متعدد اقوال لکھے ہیں ہم نے یہاں مشہور قول کے مطابق تاریخ انتقال اور مدت عمر درج کی ہے ۔
سیدہ فاطمہؓ کے وصال مبارک کے بعد سب صحابہ رضی اللہ عنہم کی خواہش تھی کہ ہم اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ و صحبہ وسلم کی پیاری صاحبزادی کے جنازہ میں شامل ہوں اور اس سعادت عظمی سے بہرہ اندوز ہوں۔ حضرت فاطمہؓ کا مغرب کے بعد اور عشاء سے پہلے وصال مبارک ہونا علماء نے ذکر کیا ہے ۔ اس مختصر وقت میں جو حضرات موجود تھے وہ سب جمع ہوئے ۔
حضرت فاطمہؓ نے قبل از وفات حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ حضرت اسما بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو یہ وصیت کی تھی کہ آپ مجھے بعد از وفات غسل دیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ معاون ہوں۔
چنانچہ حسب وصیت حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے آپ رضی اللہ عنہا کے غسل کا انتظام کیا ان کے ساتھ غسل کی معاونت میں بعض اور بیٹیاں بھی شامل تھیں مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابو رافع رضی اللہ عنہ کی بیوی سلمی رضی اللہ عنہا اور ام ایمن رضی اللہ عنہا و غیرہا۔ حضر علی المرتضی رضی اللہ عنہ اس سارے انتظام کی نگرانی کرنے والے تھے۔
حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے بعض وصایا جو غسل و اغتسال کے متعلق پائے جاتے ہیں ان میں بعض چیزیں بالکل قابل اعتبار نہیں ہیں۔ چنانچہ علماء نے اس موقعہ پر فرمایا ہے کہ :۔ مطلب یہ ہے کہ بعض روایات میں جو آیا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے انتقال سے قبل غسل کر لیا تھا اس قسم کی باتوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ ( اس کی وجہ مصنف ابن اسحاق کا تفرد ہے )
سیدہ فاطمہؓ کے غسل کے متعلق وہی بات کی ہے اوپر ذکر کر دی گئی ہے یعنی حضرت اسماء بنت عمیس اور دیگر خواتین نے مل کر حسب قاعدہ شرعی بعد از وفات غسل سر انجام دیا تھا۔ اس لئے کہ میت کے لئے اسلام کا قاعدہ شرعی یہی ہے۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی صلوۃ جنازہ اور شیخین رضی اللہ عنہما کی شمولیت نسل اور تجہیز و تکفین کے مراحل کے بعد حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے جنازہ کی مرحلہ پیش آیا۔ کچھ لوگوں نے یہ ثابت کرنے کی لغو کوشش کی ہے کہ حضرت سیدہ فاطمۃ الزھراء حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ناراض تھیں اور آپ نے وصیت فرمائی تھی کہ وہ میرے جنازے میں شریک نہ ہوں ۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو رات کو ہی دفن کر دیا تھا۔ اور خلیفۃ المسمین کو اس کی خبر ہی نہ ہونے دی۔ اس رات سے ان لوگوں نے حضرت علی المرتضی اور حضرت ابوبکر رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان ناراضگی اور اختلاف کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔ لیکن جمہور علماء اہلسنت و جماعت کا موقف ہے اور مستند ترین کتابوں میں یہ موجود ہے کہ حضرت فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا کا جناز و خلیفہ بلا فصل انبیاء کے بعد سرکار علیہ التحیۃ والثناء کے ظاہری و باطنی اور روحانی خلیفہ و جانشین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھائی ہے اور اسی پر اکثر مسلمہ کا اتفاق ہے ۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو اس موقعہ پر موجود تھے ، تشریف لائے۔ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آگے تشریف لا کر جنازہ پڑھائیں۔ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آگے تشریف لا کر جنازہ پڑھائیں۔ جواب میں حضرت علی المرتضی نے ذکر کیا کہ آپ خلیفہ اول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جناب کی موجودگی میں جنازہ پڑھانے کے لیے پیش قدمی نہیں کر سکتا۔ نماز جنازہ پڑھانا آپ ہی کا حق ہے آپ تشریف لائیں اور جنازہ پڑھائیں اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آگے تشریف لائے اور حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا کا چار تکبیر کے ساتھ جنازہ پڑھایا۔ باقی تمام حضرات نے ان کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی ۔
یہ بات متعدد مصنفین نے اپنی اپنی تصانیف میں باحوالہ ذکر کی ہے۔
ترجمہ :
حضرت ابرھیم نخعی نے کہا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیریں کہیں ۔
ترجمہ :
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ فاطمہ پر ابو بکر الصدیق نے نماز جنازہ پڑھایا
تیسری روایت امام بہیقی سے اپنی سند کیساتھ منقول ہے لکھتے ہیں کہ :
ترجمہ :۔ یعنی جب حضرت فاطمہ فوت ہوئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہما نے انکو رات میں ہی دفن کر دیا اور جنازے کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دونوں بازو پکڑ کر جنازہ پڑھانے کیلئے مقدم کر دیا۔
امام محمد باقر سے مروی روایت صاحب کنز العمال نے علی امتقی الہندی نے بحوالہ خطیب ذکر کی ہے :
امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ اپنے والد امام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ دختر رسول اللہ فوت ہوئیں تو ابو بکر و عمر دونوں جنازہ پڑھنے کیلئے آئے تو ابو بکر نے علی المرتضی سے جنازہ پڑھانے کے لئے فرمایا کہ آگے تشریف لائے تو علی المرتضی نے جواب دیا کہ آپ خلیفتہ سول ہیں آپکی موجود گی میں ، میں آگے بڑھ کر جنازہ نہیں پڑھا سکتا پس ابو بکر صدیق نے آگے بڑھ کر جنازہ پڑھایا۔
حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی روایت حاضر ہے اس مسئلہ کو اس روایت نے خاصی حد تک حل کر دیا ہے :
حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی روایت حاضر ہے اس مسئلہ کو اس روایت نے خاصی حد تک حل کر دیا ہے:
جعفر صادق اپنے والد محمد باقر سے اور وہ اپنے والد امام زین العابدین سے روایت کرتے ہیں کہ مغرب و عشاء کے در میان حضرت فاطمۃ الزہراء کی وفات ہوئی ان کی وفات پر ابو بکر و عمر و عثمان وز بیر وعبد الرحمان بن عوف حضرات حاضر ہوئے جب نماز جنازہ پڑھنے کیلئے جنازہ سامنے رکھا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق سے کہا کہ جنازہ پڑھانے کیلئے آگے تشریف لائے اللہ کی قسم آپکے بغیر کوئی دوسرا شخص فاطمہ کا جنازہ نہیں پڑھائے گا پس ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا پر نماز جنازہ پڑھائی اور رات کو دفن کی گئیں ۔
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے تحفہ اثناء عشریہ کے باب مطاعن میں طعن نمبر ۱۴ کے آخر میں فصل الخطاب سے نقل کرتے ہوۓ ریاض النضرۃ کی روایت کے قریب قریب روایت ذکر کی ہے وہ بھی درج ذیل ہے
ترجمہ :۔
فصل الخطاب کے مصنف نے ذکر کیا ہے کہ ابو بکر صدیق و عثمان و عبد الرحمان بن عوف و زبیر بن عوام تمام حضرات عشاء کی نماز کے وقت حاضر ہوئے اور سیدہ فاطمہ کی رحلت مغرب و عشاء کے درمیان ہوئی منگل کی رات تیسری رمضان شریف حضور کے چھ ماہ بعد فاطمہ کا انتقال مبارک ہوااسوقت فاطمہ کی عمر ۲۸ سال تھی علی المرتضی کے فرمان کے مطابق ابو بکر الصدیق نماز جنازہ کے لیے امام بنے اور چار تکبیروں کے ساتھ نماز جنازہ پڑھائی۔
حافظ ابونعیم اصفہانی نے حلیۃ الاولیاء میں اپنی مکمل سند کیسا تھ ابن عباس سے جنازہ کی روایت کی ہے :
حضرت ابن عباس ذکر کرتے ہیں کہ نبی کریم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی اور چار تکبیر میں کہیں اور فرمایا کہ ملائکہ نے آدم علیہ السلام پر چار تکبیریں کہیں تھیں اور ابن عباس مزید فرماتے ہیں کہ ابو بکر نے حضرت فاطمہ کے جنازہ کے موقع پر چار تکبیر میں کہیں اور عمر نے ابو بکر اور صہیب نے عمر پر چار تکبیریں کہیں تھیں۔
کتاب بزل القوة في حوادث سنی النبوۃ( عربی ) مؤلفہ علامہ مخدوم باشم سندھی کے اردو ترجمہ موسومہ سیدہ سید الانبیاء متر جم (مفتی علیم الدین) کے صفحہ ۶۰۶ پر حضرت فاطمۃ الزھراء کے وصال کے ضمن میں حاشیہ میں موجود ہے کہ آپکا جنازہ حضرت صدیق اکبر نے پڑھایا۔
(سیرت سید الانبیاء اردو ترجمہ بذل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ عربی صفحہ نمبر ۲۰۲ کاحاشیہ نمبر ا)
تاریخ ابن کثیر الہدایہ والنھایه از حضرت علامہ عماد الدین ابن کثیر دمشقی اردو ترجمہ حصہ ششم صفحه ۴۴۳ پر ایک روایت مذکور ہے کہ آپکی نماز جنازہ حضرت ابوبکر صدیق نے پڑھائی۔ حضرت عباس اور حضرت علی کے متعلق بھی روایات موجود ہیں ۔
مدارج النبوت اردو ترجمہ از حضرت شیخ عبد الحق محدث دهلوی(مترجم الحاج مفتی غلام معین الدین) کے صفحہ ۵۴۴ پر موجود ہے کہ روایتوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حضرت ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور حضرت فاطمہ کی جنازہ پڑھائی اور حضرت عثمان بن عفان و عبدالرحمان ابن عوف اور زبیر بن العوام (رضی اللہ عنہم) بھی آئے۔
ان دس کتابوں کی ان روایات کے بعد یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ گئی ہے کہ حضرت فاطمۃ الزھرا رضی اللہ عنھا کا جنازہ خلیفہ وقت خلیفۃ المسلمین خلیفۃ الرسول جانشین سرور عالم ﷺ امام المسلمين والمومنین حضرت ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خود پڑھائی اور خود جناب حیدر کرار شیر خد احضرت مولا علی مشکل کشاء رضی اللہ عنہ نے آپکو مصلی امامت پر کھڑا کیا اور خود انکی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی۔ اس نماز جنازہ سے فقہ کے اس مسئلہ کی طرف بھی راہنمائی ملتی ہے کہ امامت کا سب سے زیادہ حقدار حاکم وقت ہے اگر وہ حاضر نہ ہو تو قاضی اور وہ بھی حاضر نہ ہو تو محلے کا امام امامت کرانے کا زیادہ حقدار ہے۔
یہاں جن روایات میں حضرت علی و عباس کی روایات میں حضرت صدیق اکبر کو بھی شامل کیا گیا ہے اس کی تطبیق یہ ہے کہ کہ حاکم وقت کی موجودگی میں باقی افراد امامت کے اہل نہیں اور اسوقت کیونکہ صدیق اکبر موجود تھے اس لیے صدیق اکبر والی روایات کو ترجیح دی جائے گی (رضوان اللہ علیہم اجمعین )
اے اللہ اپنے پاک محبوب ﷺ اور ان کے صحابہ واہلبیت رضی اللہ عنہم اجمعین کے صدقے اس کاوش کو قبول فرما آمین بجاہ نبی الکریم الامین سلام
WhatsApp us