
Hadith 2812
حقیقت سے بھٹکے ہوئے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسولﷺ نے حضرت عمارؓ سے فرمایا تھا
(بخاری: حدیث نمبر447 اور گوگل پر حدیث نمبر 2812 ہے)
ترجمہ: “افسوس ہے عمارؓ پر کہ باغی جماعت اسے قتل کرے گی، عمارؓ تو انہیں جنت کی طرف بلائیں گے اور وہ عمارؓ کو جہنم کی طرف” اور حضرت عمارؓ حضرت علیؓ کی حمایت میں جنگ صفین میں حضرت معاویہؓ کے مقابلہ میں لڑتے ہوئے اس لڑائی میں شہید ہوئے، ان کی شہادت سے معلوم ہوا کہ حضرت معاویہؓ کی جماعت فئتہ باغيہ” کا مصداق ہے۔
الجواب:
اس حدیث کے دو طرح سے جواب دیئے گئے ہیں
(1) اس اعتراض کو رد کرتے ہوئے
(2) اس اعتراض کو مانتے ہوئے
پہلا جواب
اس اعتراض کو رد کرتے ہوئے
حضرت عمارؓ خود فرماتے ہیں
حضورﷺ نے فرمایا کہ حضرت عمارؓ کی موت مؤمنین کی دو جماعتوں کے درمیان میں قتل کی صورت میں واقع ہوگی اور ان کو قتل کرنے والی باغیوں کی جماعت ہوگی جیسا کہ “تقتلہ الفئتہالباغيہ” سے واضح ہے اور باغیوں سے مراد خوارج کی وہ جماعت ہے جنہوں نے خلیفہ راشد حضرت عثمانؓ سے بغاوت کی اور بالآخر آپؓ کو شہید کر ڈالا۔
لفظ ويح افسوس کا لفظ استعمال فرمایا جس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ افسوس آپ جس جماعت کے موقف کو صحیح سمجھ کر اس کے ساتھ ہوں گے وہی جماعت آپ کو قتل کرے گی
“فئتہ باغيہ” كا صحيح مصداق
فئتہ باغيہ” کا مصداق حضرت عثمانؓ کی خلافت سے باغی جماعت ہے جو حضرت علیؓ اور کچھ حضرت معاویہؓ کے لشکر میں شامل تھے۔ ان لوگوں نے حضرت عمارؓ کو شہید کر کے حضرت معاویہؓ کو ایسا بد نام کیا کہ اونچے درجے کی تحقیق والے بھی حضرت معاویہؓ کو باغی سمجھنے لگے۔
کچھ شواہد
(1) آپﷺ نے تقتلہ الفئتہ الباغيہ” فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ وہ جماعت مراد ہے جس کی بغاوت مسلمانوں میں مسلّم ہے اور وہ قاتلینِ عثمانؓ ہیں جن کی کاروائی کو تمام صحابہؓ بغاوت مانتے تھے۔
(2) رسول اللہﷺ نے خود دوسری حدیث میں فئة باغیۃ کی تشریح کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ایک شخص نے رسولﷺ کی تقسیم پر اعتراض کیا اور بعض صحابہؓ نے اس کے قتل کا ارادہ کیا تو آپﷺ نے منع فرمایا اور یہ فرمایا اس کو چھوڑ دو، دوسرے حضرات اس کو قتل کر کے آپ کو اس کے قتل سے بچائیں گے یہ لوگ دین سے اس طرح نکلیں گے جیسے تیر شکار سے نکلتا ہے، ان کا قتال ہر مسلمان پر ضروری ہے۔
یہ شخص خوارج میں سے تھا اور حضرت علیؓ کے مقابلے میں قتل ہوا، اس سے واضح ہوا کہ فئة باغیہ خوارج ہیں۔ ان کو خوارج نام بعد میں ملا لیکن پہلے ان کی حقیقت موجود تھی، گویا پہلے حضرت عثمانؓ سے بغاوت کر کے اکہرے خوارج تھے بعد میں حضرت علیؓ سے بھی منحرف ہو کر دوہرے خوارج بن گئے، پہلے ان کا نام فئة باغیہ تھا پھر ان کا نام خوارج پڑ گیا۔
(3) مستدرک حاکم میں (رقم:2653) علیٰ شرط البخاری روایت ہے کہ ابن عباسؓ نے اپنے بیٹے علی اور عکرمہ کو حضرت ابو سعید خدریؓ کے پاس بھیجا کہ ان سے وہ حدیث جو آپﷺ نے خوارج کے بارے میں بیان کی ہے سن کر آؤ ۔اسی میں لفظ ” ويح عمارؓ تقتله الفئة الباغيہ” ہے، معلوم ہوا کہ اس حدیث کا مصداق خوارج ہیں اور انہوں نے ہی حضرت عمارؓ کو شہید کیا ہے۔
(4) ایک روایت میں ہے
کہ یہ بدبختوں اور شریروں کا کام ہے۔
تاریخ دمشق لابن عساکر: جلد 43 صفحہ 402
دوسری روایت میں ہے کہ
کہ تجھے کو میرے صحابی قتل نہیں کریں گے، تجھ کو باغی جماعت قتل کرے گی
(وفاء الوفاء: جلد 1 صفحہ254)
معلوم ہوا کہ یہ بدبختوں کا کام تھا صحابہؓ اس میں ملوث نہیں تھے۔
(5 ) اگر “فئتہ باغیہ” سے مراد حضرت معاویہؓ کی جماعت تھی تو حضرت علیؓ نے حضرت معاویہؓ سے صلح کی بات چیت کے لیے حکم کیوں مقرر فرمایا جس کے نتیجے میں قتال موقوف ہوا؟ باغیوں کے لیے تو قرآنی فیصلہ موجود ہے :
یعنی کہ باغیوں سے قتال کیا جائے گا۔
دونوں فریق اپنے اپنے دعوے کے مطابق اپنے کو حق پر سمجھتے تھے۔
پھر اگر حضرت معاویہؓ کا باغی ہونا ثابت ہو چکا تھا تو حضرت علیؓ کے بعد حضرت حسنؓ نے کیوں حکومت سے دستبردار ہو کر حکومت ان کے حوالے کر دی؟ ان پر تو قتال فرض ہونا چاہیے تھا نہ کہ مسلمانوں کی قیادت ہی ان کے سپرد کر دی جاتی، پھر مزید یہ کہ حضرت حسنؓ کے اس فیصلے کی تائید اس وقت کی پوری ملتِ اسلامیہ نے کی اور سب نے خوشی منائی اور اس سال کا نام ہی عام الجماعۃ رکھ دیا۔ اگر فی الواقع حضرت معاویہؓ باغی تھے تو رسول اللہﷺ نے ان کے لیے
کے الفاظ کیوں استعمال فرمائے؟
(6) اگر حضرت عمارؓ کی شہادت کے بعد یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ حضرت معاویہؓ کی جماعت ہی قاتل اور باغی ہے تو پھر حضرت ابو ایوب انصاریؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابو سعید خدریؓ وغیرہ کیوں قتال سے الگ رہے؟ ان کو تو باغیوں کے مقابلے میں صف آرا ہونا چاہیئے تھا۔
اسی طرح جو صحابہؓ حضرت علیؓ کے ساتھ تھے ان میں سے کسی سے بھی صحیح سند کے ساتھ یہ ثابت نہیں کہ اس حدیث کی بناء پر حق و باطل کا اندازہ لگایا ہو اور پھر حضرت علیؓ کا ساتھ دیا ہو یا دوسرے فریق کو باغی کہا ہو، جبکہ ابو قتادهؓ 54 ہجری اور ابو ایسر کعب بن عمروؓ 55 ہجری تک زندہ رہے۔
نیز حضرت علیؓ کی طرف سے متعدد صحابہؓ جیسا کہ جابر بن عبد اللہؓ، عبید السلمانیؓ اور ابوسلیم خولانیؓ صلح کی بات چیت کے لیے حضرت معاویہؓ کے پاس آئے لیکن کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ حضرت عمارؓ ہمارے لشکر میں موجود ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپؓ کے لشکر کے ہاتھوں شہید ہوں اور آپؓ فرمانِ رسالت کے مطابق باغی گروہ قرار پائیں۔
اور عشرہ مبشرہ میں سے حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیر بن العوامؓ بھی حضرت معاویہؓ کے ہم خیال تھے تو وہ کیسے باغی اور مجرم ہو سکتے ہیں؟ اسی طرح جریرؓ جیسے جلیل القدر صحابی اور دیگر بعض صحابہؓ کیوں حضرت معاویہؓ کے ساتھ رہ گئے ؟
حضرت عمارؓ کو شہید کرنے والے درحقیقت خارجی ہی تھے اور انہوں نے اس کو حضرت امیر معاویہؓ کی طرف منسوب کر دیا اور ایسا اس لیے کیا تاکہ لوگ ان سے بدظن ہو جائیں۔
کو صرف عکرمہ عن ابی سعید کی روایت میں ہے، دوسرے صحابہؓ سے مروی نہیں، ابنِ عمرؓ کی روایت میں ہے لیکن اس کی سند میں عبد النور متہم بالوضع ہے ۔عکرمہ کے علاوہ یہ روایت کئی صحابہؓ سے مروی ہے لیکن یہ ٹکڑا ثابت نہیں ہے، معلوم ہوا کہ یہ راوی حدیث عکرمہ کا ادراج ہے اور عکرمہ پر ثقاہت کے باوجود خارجیت کا الزام ہے۔
اور خوارج کو اصل مخالفت حضرت معاویہؓ سے تھی کیونکہ وہ قصاصِ عثمانؓ کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن جب حضرت علیؓ نے ان سے مصالحت کیلئے حکم بنایا تو آپؓ کی بھی مخالفت پر اتر آئے۔
(8) ممکن ہے کہ حدیث کے اس ٹکڑے میں “جنت” سے مراد “صلح” ہو اور “نار” سے مراد “جنگ” ہو کیوں کہ قرآن میں حرب کو نار کیا گیا ہے
تو مطلب یہ ہوا
حاکم نے مستدرک میں واقدی کی سند سے روایت کیا ہے کہ عقبہ بن عامر الجہنی، عمرو بن الحارث الخولانی اور شریک بن سلمہ، ان تینوں نے بیک وقت حملہ کر کے حضرت عمارؓ کو شہید کیا۔ (مستدرک :8654 )
یہ روایت واقدی کے متروک اور متہم بالکذب والوضع ہونے کی وجہ سے صحیح نہیں ہے۔ (تقریب التہذيب)
علامہ ذہبیؒ نے بعض محدثین سے ان کی توثیق اور متعدد محدثین سے ان کا متروک، کذاب اور واضع الحدیث ہو نا نقل کیا ہے۔
میزان الاعتدال صفحہ 6652 جلد3)
اشکال: ابن مسعود سے مرفوعاً روایت ہے:
ترجمہ: جب لوگوں میں اختلاف ہوگا تو ابن سمیہ (عمارؓ) حق کے ساتھ ہوگا،
اور وہ حضرت علیؓ کے ساتھ تھے معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ کی جماعت حق پر تھی۔
جواب: اس کی سند میں ضرار بن صرد اور ابو نعیم کوفی متروک الحدیث اور کذاب راوی ہیں۔
اعتراض کو مانتے ہوئے
اس حدیث کی بنیاد پر جمہور اہل السنۃ والجماعۃ نے مشاجراتِ صحابہؓ میں سید نا علیؓ کے موقف کو راجح قرار دیا ہے اور حضرت امیر معاویہؓ کے اجتہاد کو خطا پر محمول کیا ہے لیکن واضح رہے کہ اس اجتہاد اور خطا کی بحث آپؓ کے اندر اجتہادی شان کو تسلیم کرنے کے بعد ہی پیدا ہوتی ہے، جیسا کہ صحیح بخاری(رقم:3765) میں آپؓ کے تفقہ اور اجتہاد کے بارے میں حضرت ابن عباسؓ کا اعتراف بھی موجود ہے ورنہ ہر ایرے غیرے کے اس طرح کے اختلاف کو اجتہاد پر نہیں محمول کیا جاتا بلکہ ان کا مبنی عموماً کم علمی اور خود پسندی ہوتی ہے۔
بہر حال چوں کہ اہل حق کے یہاں دیگر احادیث کی بناء پر یہ بات طے شدہ ہے کہ مجتہد خاطی معذور ہوتا ہے بلکہ ایک امر کے ذریعے ماجور ( مستحق اجر ) بھی ہوتا ہے۔ اس لیے جب وہ طلبِ حق کی سعی، حسنِ نیت اور جذبہ صالح کی بناء پر مورد اجر و ثواب ٹھہر رہا ہو تو اس پر سب وشتم اور تنبیہ و تبصرہ کے کیا معنی؟
(مستفاد از نووی و فتح الباری)
الباغیہ کی تشریح
اولاً حضرت معاویہؓ کی جماعت باغی نہیں تھی کہ ان حضرات نے حضرت علیؓ سے بیعت ہی نہیں کی تھی کیونکہ حضرت معاویہؓ کا اجتہاد یہ تھا کہ حضرت علیؓ کی فوج میں باغی موجود ہیں یعنی وہ لوگ جنہوں نے عثمانؓ کے خلاف بغاوت کی تھی، جب تک ان کا قلع قمع نہ کیا جائے حضرت علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
دوسرا یہ کہ یہاں لفظ ” باغیہ” طاعتِ امام سے عدول اور شقاق ونفاق کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ وہ بغاوت ہے جس کا تذکرہ قرآن کی اس آیت میں ہے:
ترجمہ: اگر اہل ایمان کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو تم لوگ دونوں کے درمیان صلح کرادو، پھر اگر کوئی ایک جماعت دوسری پر شرعی لحاظ سے زیادتی کرے تو اس سے لڑو جو زیادتی کر رہی ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کو تسلیم کرلے۔
یہ آیت انصار کے آپسی مناقشے کے پسِ منظر میں نازل ہوئی تھی ، اولی الامر سے بغاوت کے تناظر میں نہیں۔ معلوم ہوا کہ لفظ ” بغاوت کبھی آپسی تنازعات میں ناحق پر اصرار کرنے والی جماعت کے لیے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے۔
حضرت امیر معاویہؓ کے سامنے بھی یہ حدیث پیش کی گئی مگر آپؓ کے ذہن میں اس کا مصداق دو جماعت تھی جس نے ایک متفقہ امیر المؤمنین یعنی سیدنا عثمانؓ کے خلاف کھلم کھلا بغاوت کر کے ان کو شہید کیا تھا اور پھر یہود و روافض پر مشتمل اہلِ فتنہ کا یہی سازشی گروہ یکے بعد دیگرے جنگ جمل اور جنگ صفین کا سبب بنا تھا، تو حضرت معاویہؓ یہ سمجھتے تھے کہ اصل باغی گروہ تو وہ ہے جو ان حالات کا ذمہ دار ہے۔ اس لیے جب آپؓ کے سامنے یہ حدیث پیش کی گئی تو آپؓ نے اپنے علم گمان ہی کی بنیاد پر یہ بات فرمائی تھی کہ عمارؓ کو ہم نے کہاں قتل کیا ہے؟ ان کو تو ان کے لوگوں نے قتل کیا ہے جو ان کو یہاں لے کر آئے۔
کی زیادتی کی حقیقت
اور جہاں تک حدیث کے بعض طرق میں موجود اس زیادتی کی ہے
اس کے بارے میں دو باتیں قابل توجہ ہیں:
(1) یہ زیادتی ایک دوسری حدیث سے یہاں خلط اور مدرج ہو گئی ہے۔ دراصل یہ دو الگ الگ حدیثیں ہیں ۔
مکہ میں کفار کے ظلم و ستم کے زمانہ میں کسی موقع پر آپﷺ نے حضرت عمارؓ پر رحم کھاتے ہوئے ان کی حمایت میں فرمایا تھا
(2)مدینہ میں مسجدِ نبوی کی تعمیر کے وقت یا غزوۂ احزاب کے موقع پر خندق کھودتے ہوئے سید نا عمار بن یا سرؓ دو دو اینٹیں ایک ساتھ ڈھور ہے تھے۔ اس وقت آپﷺ نے فرمایا تھا:
راوی حدیث عکرمہ سے ان دونوں میں خلط ملط ہو گیا اور انہوں نے دونوں کو ایک ساتھ ملا کر بیان کر دیا۔ اس دعویٰ کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ تقتله فئۃ الباغية والا مضمون 30 کے قریب صحابہؓ سے مروی ہے مگر کسی بھی صحابی کی روایت میں یہ زیادتی نہیں پائی جاتی، بظاہر اسی لیے امام مسلمؒ نے بھی اس کی تخریج نہیں فرمائی۔
(2) اور اگر بعینہ یہ حدیث مان بھی لی جائے تو اس کے بارے میں شارح بخاری حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں:
یہاں جنت کی طرف بلانے سے مراد اس کے سبب یعنی طاعتِ امام کی طرف بلانا ہے جیسا کہ حضرت عمارؓ ان کو حضرت علیؓ کی اطاعت کی طرف بلا رہے تھے جو اس وقت اصل خلیفۂ بر حق تھے جبکہ دوسری جانب کے حضرات اس کے خلاف کے داعی تھے لیکن تاویل واجتہاد کی بناء پر وہ بھی معذور تھے کیوں کہ اپنے اجتہاد سے وہ بھی یہی سمجھ رہے تھے کہ ہم ہی ان کو جنت کی طرف بلا رہے ہیں لہٰذا اس ظن و اجتہاد کی وجہ سے ان پر کوئی طعن و تشنیع نہیں کی جائے گی۔
(فتح الباری: جلد 1 صفحہ 452)
حیران کن انکشاف
کیا صحیح بخاری کی حدیث 2812 میں واقعی یہ الفاظ موجود ہیں کہ عمارؓ کو ( باغی) گروہ قتل کرے گا !
سلطنت عثمانیہ کے آخری بادشاہ، سلطان عبد الحمید نے صحیح بخاری کا ایک نسخہ شائع کروایا تھا جسے “نسخہ سلطانیہ” کہا جاتا ہے۔ یہ آج کل “دار التاصیل” مصر سے شائع ہوتا ہے۔ یہ نسخہ پہلے سے موجود نسخوں کو دیکھ کر لکھا گیا تھا۔ اس میں لکھا ہے کہ “نسخہ ابی ذر” میں ” تقتلہ الفئة الباغیة” کے الفاظ موجود نہیں تھے۔ واضح رہے کہ “ابو ذر” صحیح بخاری کے متعدد نسخوں کے مرکزی راوی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سا نسخہ درست ہے؟ جو نسخہ قدیم ہوگا اور سند سے امام بخاری رح سے ثابت ہوگا، وہی درست نسخہ ہوگا۔ اس وقت جو سب سے پرانے نسخے محفوظ ہیں وہ آج سے تقریبا 900 سال پرانے “ابو عمران ابن سعادة” کے تین نسخے ہیں جو کہ ترکی کی استنبول میں واقع murad molla kütüphanesi ( library ) میں موجود ہیں۔ ان تینوں میں حضرت عمارؓ کا مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت دو دو اینٹیں اٹھانے کا ذکر تو ہے، لیکن آگے “تقتلہ الفئة الباغیة” کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ میرے پاس نسخوں کی scanned copies موجود ہیں، تصاویر نیچے لگا دی ہیں۔ یہ سب نسخے امام بخاری رح سے صحیح سند سے ثابت ہیں۔ سند یہ ہے
لہذا ثابت ہوا کہ
کے الفاظ اصلاً ( originally ) صحیح بخاری میں نہیں ہیں،
بلکہ یہ بعد کا اضافہ
/ publishing mistake ہے۔
دوسرا سوال یہ بنتا ہے کہ اگر صحیح بخاری میں
کے الفاظ موجود نہیں ہیں تو پھر اس کے بغیر بخاری کی حدیث کا ترجمہ کیا بنے گا؟
سے کیا مراد ہے؟ دیکھیں
فعل مضارع واحد کا صیغہ ہے۔ مضارع کا ترجمہ by default حال ( Present indefinite ) میں کیا جاتا ہے، جب قرآئن سے واضح ہو تو ترجمہ مستقبل میں کیا جاتا ہے۔ اب قرائن سے واضح ہوتا ہے کہ
کا ترجمہ یہ نہیں ہو سکتا کہ حضرت عمارؓ کو باغی جماعت قتل کرتی ہے، جبکہ حضرت عمارؓ زندہ ہیں۔ اس لئے اس کا ترجمہ مستقبل میں کیا جاتا کہ باغی جماعت قتل کرے گی۔ اب اسی کے سیاق (context ) میں
کا ترجمہ بھی مستقبل میں کیا جاتا ہے عمارؓ انہیں جنت کی طرف بلائیں گے اور وہ گروہ جہنم کی طرف بلائیں گے۔ لیکن میں ثابت کرچکا کہ
کے الفاظ صحیح بخاری میں نہیں ہے۔ یعنی مستقبل والا context گیا۔ اب ترجمہ حال میں کیا جائے گا۔ “عمارؓ انہیں جنت کی طرف بلاتے ہیں اور وہ جہنم کی طرف بلاتے ہیں”۔ اب جب ہم نبیؐ کے اس فرمان کے وقت میں دیکھیں تو اس سے مراد مشرکین مکہ یا اس وقت کا ہی کوئی گروہ بنے گا، جسے حضرت عمار اسلام کی دعوت دیتے ( جنت کی طرف بلاتے) اور وہ جہنم ( اسلام چھوڑنے ) کی طرف بلاتے تھے۔
بولیں گے ہم وہی جو حق ہے مرزا اور اس کے چیلوں کے لیے ٹائم قیامت تک ہے جواب دیں
نوٹ:- ہم اہلسنت کا واضح موقف ہے کہ مشاجرات صحابہؓ میں کسی بھی صحابی کے معاملے میں ہمیں اپنی عقل کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں اور کسی بھی صحابی کی تنقیص ہمارے نزدیک حرام ہے یہ تحریری پوسٹ مرزا جہلمی اور اس کے چیلوں کے لیے آئینے کے طور پر پیش کی گئی ہے
مرزا جہلمی کے وہ چیلے جو بخاری کی حدیث 2812 کا بہت شور مچاتے ہیں اس حدیث کے تناظر میں ان سے چند سوالات۔۔
سوال نمبر1:- مرزا جہلمی نے اپنے ریسرچ پیپر 5B میں مسند احمد کی حدیث پیش کی ہے اس حدیث میں فلاں سے مُراد کونسا(عظیم صحابی رسولﷺ) شخص ہے؟؟
اور مرزا جہلمی نے یہاں بریکٹ لگا کر نام کیوں نہیں بتایا؟؟ جیسے کہ سیدنا معاویہؓ کے بارے بریکٹیں لگا لگا کر نام لکھے ھیں ریسرچ پیپر میں ۔۔
سوال 2:- مرزا منگول محدثین کے بارے میں کہتا (جیسے کہ امام ابو داؤد رحمہ اللہ کے بارے)کہ محدثین نے پوری بات نہیں بتائی بلکہ فلاں کہہ کر نام ظاہر نہ کر کے بددیانتی کی۔۔تو کیا مرزا نے بھی ریسرچ پیپر میں لفظ فلاں لکھ کر بددیانتی نہیں کی؟؟حالانکہ مرزا منگول جانتا ھے کہ یہاں فلاں سے مُراد کون ھے جسکو گالیاں دی جا رہی تھیں۔۔
سوال3:- مرزا نے اپنے ریسرچ پیپر میں حدیث کے عربی متن میں موجود لفظ (سب) کا ترجمہ برائی کیا ہے جبکہ مرزا جہلمی اسی لفظ کا ترجمہ حضرت خالد بن ولیدؓ کے بارے میں گالی کرتا ہے تو یہاں ریسرچ پیپر میں مرزا جہلمی نے ترجمہ کیوں تبدیل کر دیا ہے؟؟
سوال4:- مرزا جہلمی کا ایک صحابی رسولﷺ کا تذکرہ کرتے ہوئے لفظ کا ترجمہ برائی کرنا اور دوسرے صحابی رسولﷺ کا تذکرہ کرتے ہوئے لفظ کا ترجمہ گالی کرنا کیا یہ منافقت اور عداوت نہیں ہے؟؟
سوال5:- کیا مرزا جہلمی نے کبھی اپنے ریسرچ پیپر یا ویڈیو بیان میں بخاری کی حدیث 2812 بیان کرتے ہوئے ساتھ مسند احمد کی یہ حدیث اور اس کی وضاحت مع فلاں کے نام کے ساتھ اور گالیاں دینے والے کا نام بتا کر بیان کی اور لوگوں کو بتایا کہ( سب یعنی گالی دینے والا بقول مرزا)کون تھا اور کسی کو گالی دے رہا تھا؟ اگر نہیں بیان کی اور یقیناً بیان نہیں کی تو آخر کیوں مرزا جہلمی نے منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوے آدھی بات بیان کی؟؟
سوال6:- مرزا جہلمی نے حدیث بیان کرنے والے راوی کلثوم تابعی کے الفاظ(تعجب ہے ان ہاتھوں پر۔۔۔۔الخ) کو صحابی رسولﷺ سیدنا ابوالغادیہؓ کی طرف منسوب کر کے بددیانتی کیوں کی؟؟
جبکہ یہ الفاظ راوی کے ہیں صحابی کے نہیں ہیں ثبوت کے لیے مرزا جہلمی کی تصدیق شُدہ ایپ اسلام 360 ملاحظہ فرما لیں ( جو کہ ایک غلط ایپ ہے مرزا بہت اس کی تعریفیں کرتا ہے) اس بددیانتی سے واضح ہوتا ہے کہ مرزا جہلمی عربی عبارت کا ترجمہ کرنے میں فیل اور صفر ہے اور حدیث کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنا چاہتا ہے۔۔
سوال 7:- مرزا جہلمی کے ریسرچ پیپر میں بیان کردہ حدیث کے مطابق سیدنا عمارؓ کو قتل کرنے والا جہنمی ھے تو ابوالغادیہؓ جن کو مرزا جہلمی کے چیلے ( مثال کے طور پر جعلی طارق جمیل بننے والا عماد اسلام) سیدنا عمارؓ کا قاتل بتاتے ہیں
(حالانکہ یہ ثابت شُدہ بات نہیں ہے) انہی ابوالغادیہؓ کو رضی اللہ تعالی عنہ کہنا مرزا جہلمی کی طرف سے حدیث کی مخالفت نہیں؟؟ کیونکہ مرزا جہلمی کی بیان کردہ حدیث اور اسکے چیلوں کے مطابق تو عمارؓ کا قاتل جہنمی ہے تو جو جہنمی ہو وہ رضی اللہ تعالی عنہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آخر کچھ تو مرزا جہلمی کے دل میں چور و بدیانتی ہے جو مرزا جہلمی سرعام بیان کرنے سے ڈرتا ہے۔
اسی موضوع پر مزید تحقیق اور اسکینز
صحیح بخاری میں موجود حدیثِ عمار میں تقتلہ الفئتہ الباغیہ کے الفاظ کی حقیقت قدیم بخاری نسخوں کی روشنی میں








نسخه ابنِ سعادة:
امام بخاریؒ سے ان کے شاگرد محمد بن یوسف الفربریؒ نے نقل کیا، ان سے ابو محمد عبد الله بن احمد بن الحمویؒ نے، ان سے ابوذر عبد اللہ بن احمد بن الہرویؒ نے،ان سے ابو ولید سلیمان بن خلف الباجیؒ نے،ان سے ابو علی حسین بن محمد بن الصدفیؒ نے،ان سے ابو عبد الله محمد بن یوسف بن سعادةؒ نے (اور آج بخاری کے قدیم ترین نسخوں میں انہی کا نسخہ موجود ہے)
تو یہ تھے بخاری کو نقل کرنے والے امام جیسا کہ ہم بتا چکے کہ آج کے دور میں بخاری کے قدیم نسخوں میں صرف ابنِ سعادةؒ( ابو عبد الله محمد بن یوسف بن سعادةؒ) کا نسخہ موجود ہے تو ہم بخاری میں موجود حدیث سیدنا عمارؒ کو اسی نسخے میں دیکھتے ہیں۔
اس قدیم نسخے میں تقتله الفئة الباغية یہ الفاظ موجود نہیں ہیں صرف ویح عمار يدعوهم الى الجنة ويدعونه الى النار کہ الفاظ موجود ہیں۔ حق ماننے والے کے لیے اتنی دلیل ہی کافی ہے لیکن ہم ذرا دو نسخے کا مطالعہ اور کر لیتے ہیں تا کہ کسی قسم کا اعتراض باقی نہ رہے۔
(صحیح البخاری فرع نسخه ابنِ سعادة جلد 1صحفہ نمبر 105)
نسخه يونينية
بخاری کا نسخہ یونینیتہ دیکھیں نسخہ یونینیتہ کو بخاری کے مختلف نسخوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا اور ان میں جو اختلاف ہوتا تھا ان کو حواشی میں لکھا جاتا تھا۔
صحیح بخاری کے یونینیتہ نسخے میں حدیث سیدنا عمارؓ میں تقتله الفئة الباغية کے اوپر انہوں نے ساقط لکھا ہے۔ یعنی کہ یہ الفاظ اصلی نسخوں میں دستیاب نہیں ہے۔
(صحیح بخاری نسخه اليونينية جلد 1صحفہ97)
نسخه سلطانیه:
بخاری کا نسخہ سلطانیہ دیکھیں سلطان عبدالحمید نے نسخہ یونینیتہ کو مد نظر رکھ کر اس وقت کے علماء کو بلا کر بخاری کا ایک نسخہ تیار کروایا جس کو نسخہ سلطانیہ کا نام دیا،اس میں بھی انہوں نے حدیث عمار میں تقتله الفئة الباغية كے الفاظ کے حاشیے میں ساقط عند ابوذر، والاصیلی لکھا ہے یعنی ابوذر ہروی اور اصیلی کے نسخے میں یہ الفاظ موجود نہیں۔
(صحیح بخاری نسخہ سلطانیة صحفہ491)
مشرق میں اس وقت بخاری کا نسخہ سلطانیہ رائج ہے، اس نسخے میں اور نسخہ یونینیتہ میں اختلافات والے الفاظ کو حدیث میں شامل کر کے حواشی میں اختلاف کو بیان کر دیا گیا تھا لیکن اب شائع ہونے والے نسخوں میں وہ الفاظ بغیر حاشیے کے ساتھ ملا دیے گئے ہیں۔
حدثنا محمد بن المثنى، وابن بشار، واللفظ لابن المثنى، قالا حدثنا محمد بن جعفر،حدثنا شعبة عن ابى مسلمة قال سمعت ابا نضرة يحدث، عن ابي سعيد الخدري قال اخبرني من هو خير منى،ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعمار حين جعل يحفر الخندق وجعل يمسح راسه، ويقول بؤس ابنِ سمية تقتلك فئة باغية ۔
(صحیح مسلم :7320)
ترجمہ: محمد بن جعفر نے کہا ہمیں شعبہ نے ابو مسلمہ سے حدیث بیان کی،انہوں نے کہا:میں نے ابو نضرہؓ سے سنا، وہ سیدنا ابو سعیدؓ سے روایت کر رہے تھے انہوں نے کہا ایک ایسے شخص نے مجھے بتایا جو مجھ سے بہتر ہے کہ رسولﷺ نے جب آپ نے خندق کھودنے کا آغاز کیا تو سیدنا عمارؓ سے ایک بات ارشاد فرمائی، آپﷺ ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے اور فرمانے لگے۔ سمیہ کے بیٹے کی مصیبت تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔
اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ یہ واقعہ خندق کا ہے، اس سے پہلے جو حدیث گزری تھی بخاری شریف کی، اس میں مدینہ کی تعمیر کا لفظ موجود ہے جبکہ مدینہ کی تعمیر سن ایک ہجری میں ہوئی تھی اور خندق کا واقعہ سن پانچ ہجری میں پیش آیا تھا۔ اس کو کہتے ہیں متن میں اضطراب ۔ اس کے آگے چل کے دیکھتے ہیں مسلم شریف کی ایک اور حدیث
وحدثني محمد بن عمرو بن جبلة، حدثنا محمد بن جعفر وحدثنا عقبة بن مكرم العمى، وابوبكر بن نافع قال عقبة حدثنا وقال ابو بكر اخبرنا غندر ،حدثنا شعبة قال سمعت خالدا يحدث عن سعيد بن ابي الحسن عن امه عن ام سلمة،ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال لعمار تقتلك الفئة الباغية
(صحيح مسلم:7322)
ترجمہ: محمد بن جعفر غندر نے کہا ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا میں نے خالد حذا کو سعید بن ابوالحسن سے حدیث روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے اپنی والدہ سے اور انھوں نے سیدہ اُمِ سلمہؓ سے روایت کی کہ رسولﷺ نے سیدنا عمارؓ سے فرمایا تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔
اس حدیث کے درمیان میں کوئی بھی ذکر نہیں ہے کہ یہ واقعہ مسجد نبویﷺ کی تعمیر کا ہے یا خندق کے وقت کا ہے۔ مسجد نبویﷺ کی تعمیر سن ایک ہجری میں ہوئی اور اس وقت سیدہ اُمِ سلمہؓ مدینہ میں موجود ہی نہیں تھی ہاں ایک امکان یہ پیدا ہوتا ہے کہ چلو مسجد نبویﷺ کی تعمیر کے وقت سیدہ اُمِ سلمہؓ
موجود نہیں تھی مگر سن چار ہجری میں آپﷺ کی زوجہ بن کے آئی اور غزوہ خندق سن پانچ ہجری میں ہوا تو ہو سکتا ہے یہ حدیث غزوہ خندق کے وقت کی ہو مگر سیرت کی کتابوں سے پتا چلتا ہے کہ غزوہ خندق کے وقت عورتوں کو ایک قلعے میں رکھ دیا گیا تھا سیرت کی بہت سی کتابوں میں آپ یہ واقعہ دیکھ سکتے ہیں جیسے کہ سیرت ابنِ ہشام وغیرہ میں ان سب باتوں سے یہ صاف پتا چلتا ہے کہ سیدہ اُمِ سلمہؓ وہاں موجود نہیں تھی اس کے بعد ترمذی شریف کی حدیث کو دیکھتے ہیں۔
عن ابي هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ابشر عمار تقتلك الفئة الباغية قال ابو عيسىٰ وفي الباب عن ام سلمة وعبد الله بن عمرو، وابي اليسر، وحذيفة، قال: وهذا حسن صحیح غریب حديث العلاء بن عبد الرحمٰن
(ترمذی شریف:3800)
ترجمہ: سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسولﷺ نے فرمایا عمار تمہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔
اس حدیث کے راوی کون ہیں سیدنا ابو ہریرہؓ جو کہ سن سات ہجری میں اسلام لائے زیادہ سے زیادہ زور لگائے تو چھ ہجری میں لائے اس حدیث سے بھی پتہ چلا کہ سیدنا ابو ہریرہؓ نے اس بات کو براہِ راست آپﷺ سے نہیں سنا
اب ہم مسند احمد کی حدیث کو دیکھتے ہیں۔
حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا العوام، حدثنی اسود بن مسعود عن حنظلة بن خويلد العنبري، قال: بينما انا عند معاوية، إذ جاءه رجلان يختصمان في راس عمار ، يقول كل واحد منهما انا قتلته، فقال عبد الله بن عمرو ليطب به احد كما نفسا لصاحبه، فإني سمعت يعنى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال عبد الله بن احمد كذا قال ابي یعنی رسول الله صلى الله عليه وسلم ، يقول تقتله الفئة الباغية فقال معاوية الا تغنى عنا مجنونك يا عمرو؟فما بالك معناء قال إن ابي شكاني إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال لى رسول الله صلى الله علیه وسلم اطع اباك ما دام حيا ولا تعصه فأنا معكم ولست اقاتل۔
(مسند احمد:6929)
ترجمہ: حنظلہ بن خویلد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا دو آدمی ان کے پاس جھگڑا لے کر آئے ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ تھا کہ سیدنا عمارؓ کو اس نے شہید کیا ہے سیدنا ابنِ عمروؓ فرمانے لگے کہ تمہیں چاہیئے ایک دوسرے کو مبارکباد دو کیونکہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سیدنا عمارؓ کو باغی گروہ قتل کرے گا سیدنا امیر معاویہؓ کہنے لگے پھر آپ ہمارے ساتھ کیا کر رہے ہو اے عمرو! اپنے اس دیوانے سے ہمیں مستغنیٰ کیوں نہیں کر دیتے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میرے والد صاحب نے نبی کریمﷺ کے سامنے میری شکایت کی تھی اور نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا زندگی بھر اپنے باپ کی اطاعت کرنا اس کی نافرمانی نہ کرنا اس لیے میں آپ کے ساتھ تو ہوں لیکن لڑائی میں شریک نہیں ہوتا۔
سیدنا عمرو بن عاصؓ سن سات ہجری میں اسلام قبول کرتے ہیں تو اس حدیث سے بھی پتا چلتا ہے کہ انہوں نے رسولﷺ سے براہِ راست نہیں سنا کیونکہ بخاری اور مسلم کی حدیث سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ یا تو یہ واقعہ سن ایک ہجری کا ہے یا سن پانچ ہجری کا ہے۔
مسند احمد کی دوسری حدیث کو دیکھتے ہیں۔
حدثنا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر،عن ابن طاؤس، عن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم،عن ابيه قال لما قتل عمار بن ياسر دخل عمرو بن حزم على عمرو بن العاص، فقال قتل عمار، وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تقتله الفئة الباغية فقام عمرو بن العاص فزعا يرجع حتىٰ دخل على معاوية، فقال له معاوية ما شأنك؟ قال قتل عمار فقال معاوية قد قتل عمار، فماذا؟ قال عمرو سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول تقتله الفئة الباغية فقال له معاوية دحضت في بولك اونحن قتلناه؛ إنما قتله على واصحابه جاءوا به حتىٰ القوه بين رماحنا او قال بين سيوفنا۔
(مسند احمد 17778)
ترجمہ: سیدنا محمد بن عمروؓ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمار بن یاسرؓ شہید ہوئے تو سیدنا عمرو بن حزمؓ، سیدنا عمرو بن عاصؓ کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ سیدنا عمارؓ شہید ہو گئے ہیں اور نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا کہ سیدنا عمارؓ کو ایک باغی گروہ قتل کر دے گا ؟ یہ سن کر سیدنا عمرو بن عاصؓ انا للہ پڑھتے ہوئے گھبرا کر اٹھے اور سیدنا معاویہؓ کے پاس چلے گئے ، سیدنا معاویہؓ نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ سیدنا عمارؓ شہید ہو گئے ہیں، سیدنا معاویہؓ نے فرمایا کہ سیدنا عمارؓ تو شہید ہو گئے، لیکن تمہاری یہ حالت؟ انہوں نے کہا کہ میں نے رسولﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سیدنا عمارؓ کو باغی گروہ قتل کرے گا، سیدنا معاویہؓ نے کہا کہ تم اپنے پیشاب میں گرتے، کیا ہم نے انہیں قتل کیا ہے؟ انہیں تو سیدنا علیؓ اور ان کے ساتھیوں نے خود قتل کیا ہے، وہی انہیں لے کر آئے اور ہمارے نیزوں کے درمیان لا ڈالا۔
اس حدیث میں سیدنا عمرو بن عاصؓ نے اس بات کی صراحت تو کی ہے کہ میں نے رسولﷺ سے سنا مگر یہ راوی کا وہم ہے کیونکہ سیدنا عمرو بن عاصؓ سن سات ہجری میں اسلام قبول کرتے ہیں۔ ان سب احادیث سے ایک بات کی وضاحت تو ہو گئی ہے کہ یہ مرسل صحابی ہے۔
ابو بکر احمد بن محمد بن ہارون بن یزید الخلال (المتوفی 311ھ)
ويحيىٰ حنبل بن أحمد حلقة فى سمعت: يقول إبراهيم بن محمد أمية أبا سمعت قال الفضل بن إسماعيل أخبرني صحيح حديث فيه ما فقالوا الباغية الفئة عمار يقتل ذكروا والمعيطى خيثمة وأبومعين۔
( كتاب السنة دار الراية: جلد 2، صفحہ 463)
ترجمہ: مجھ سے اسماعیل بن الفضل نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں میں نے ابو امیہ محمد بن ابراہیم کو کہتے سنا میں نے احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین، ابو خیثمہ اور معیطی کے حلقہ میں یہ ذکر کرتے ہوئے سنا (يقتل عمار الفئة الباغية) اور انہوں نے کہا اس میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔
صحيح حديث فيها ليس حديثا وعشرون ثمانية الباغية الفئة عمار تقتل في روى يقول حنبل بن احمد۔
( كتاب السنة جلد 2، صفحہ 463)
ترجمہ: احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں: عمارا الفتة الباغية کے بارے میں اٹھائیس احادیث مروی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک بھی صحیح حدیث نہیں ہے۔
مخالفین کی طرف سے ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اس میں اسماعیل بن فضل جو راوی ہے یہ مجہول راوی ہے۔
جواب: اسماعیل بن فضل ابوبکر الخلال کہ استاد ہے یہ راوی آپ کے لیے مجہول ہو گئے ابوبکر الخلال کے لیے مجہول نہیں ہے۔
ابن العديم (المتوفی 660ھ):
روى عنه أحمد بن محمد بن ہارون الخلال، وسمع منه بطرسوس۔
(بغية الطلب في تاريخ حلب:جلد 4 صفحہ 1746)
ترجمہ: اسماعیل بن فضل سے روایت کی ہے احمد بن محمد بن ہارون خلال نے اور انہوں نے ان سے طرسوس میں سنی۔
تو اس سے پتا چلا کہ اسماعیل بن فضل مجہول راوی نہیں ہے۔
دوسرا اعتراض اسی کتاب السنہ میں ابنِ فراح یہ کہتے ہیں یعقوب ابنِ ابی شیبہ نے مسند عمار کی جز اول میں یہ بات کہی ہے میں نے احمد بن حنبلؒ سے سنا اس حدیث کے بارے میں تو امام احمد بن حنبلؒ نے کہا اس بارے میں ایک سے زیادہ روایت صحیح ہے۔
جواب: یہ قول ثابت نہیں ہے کیونکہ ابنِ فراح جو راوی ہے وہ یہ نہیں کہہ رہا کہ میں نے یعقوب ابنِ ابی شیبہ سے سنا بلکہ وہ کہہ رہا ہے کہ یعقوب ابنِ ابی شیبہ کی کتاب میں موجود ہے اور وہ کتاب موجود ہی نہیں گویا کہ اعتراض کرنے والے کے پاس اس بات کی کوئی تصدیق نہیں ہے۔
ان تمام باتوں سے اس بات کی تو وضاحت صاف ہوتی ہے کہ یہ روایت مرفوعاً ثابت نہیں ہے مگر موقوفاً ثابت ہے مرسل صحابی ہے سند صحیح ہے متن میں اضطراب ہے۔
حدثنا عفان، قال حدثنا حماد بن سلمة، قال اخبرنا ابو حفص وكلثوم بن جبر، عن ابي غادية قا: قتل عمار بن ياسر فاخبر عمرو بن العاص، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن قاتله وسالبه في النار فقيل لعمرو فإنك هو ذا تقاتله قال إنما قال قاتله و سالبه
(مسنداحمد:17776)
ترجمہ: سیدنا ابو غادیہؓ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمار بن یاسرؓ شہید ہوئے تو سیدنا عمروؓ کو اس کی اطلاع دی گئی، انہوں نے کہا کہ میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمارؓ کو قتل کرنے والا اور اس کا سامان چھیننے والا جہنم میں جائے گا، کسی نے سیدنا عمروؓ سے کہا کہ آپ بھی تو ان سے جنگ ہی کر رہے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبیﷺ نے قاتل اور سامان چھیننے والے کے بارے فرمایا تھا( جنگ کرنے والے کے بارے نہیں فرمایا تھا)۔
علامہ شمس الدین ابو عبد الله محمد بن احمد بن عثمان ذہبیؒ (المتوفی 748ھ):
سمعت رسولﷺ يقول قاتل عمار وسالبه في النار. اسناده فيه ائقطاع۔
(سير أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 544)
ترجمہ: میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو قتل کرنے والا جہنم میں جائے گا۔ امام ذہبیؒ کہتے ہیں اس کی سند منقطع ہے۔
امام احمد بن حنبلؒ (المتوفی 241ھ):
قلت لیحی حماد بن سلمه عن ابي حفص عن ابي الغادية قال ما اعرفه۔
(العلل ومعرفة الرجال: جلد 2 صفحہ 602)
ترجمہ: امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن معین سے کہا حماد بن سلمہ اور وہ ابو حفص سے اور وہ ابو غادیہ سے قال ما أعرفہ میں نہیں جانتا۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ المتوفی (728ھ):
وقيل كان مع معاوية بعض السابقين الأولين، وان قاتل عمار بن يأسر هو ابو العادية وكان ممن يابع تحت الشجرة، وهم السابقون الاولون ذكر ذٰلك ابن حزم وغيره.
(منهاج السنه: جلد 6 صفحہ 333)
ترجمہ: سیدنا امیر معاویہؓ کے ساتھ بغض ایسے بھی لوگ تھے جو سابقون الاولون میں سے تھے اور ان میں یہ کہا جاتا ہے کہ عمار بن یاسر کو جنہوں نے قتل کیا وہ ابو غادیہ تھے حالانکہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی اور وہ سابقون الاولون میں سے تھے اور اس بات کا ذکر ابنِ حزم وغیرہ نے کیا۔
اگر وہ بیعتِ رضوان کرنے والے میں سے تھے تو وہ جہنم میں کیسے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ سنن ابوداؤد کی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، ويزيد بن خالد الرملي ان الليث حدثهم، عن أبي الزبير، عن جابر، عن رسولﷺ، انه قال لا يدخل النار احد ممن بايع تحت الشجرة۔
(سنن ابو داؤد: 4653)
ترجمہ: سیدنا جابرؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا! جہنم میں ان لوگوں میں سے کوئی بھی داخل نہیں ہوگا، جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی۔
قال عبد الله بن احمد حدثنی ابو موسى العنزي محمد ابن المثنى، قال حدثنا محمد بن ابى عدى، عن ابنِ عون عن كلثوم بن جبر، قال كنا بواسط القصب عند عبد الاعلى بن عبد الله بن عامر قال فإذا عنده رجل، يقال له ابو الغادية استسقى ماء، فاتي بإناء مفضض، فابيان يشرب، وذكر النبى صلى الله عليه وسلم فذكر هذا الحديث لا ترجعوا بعدى كفارا او ضلالا شك ابن ابى عدى يضرب بعضكم رقاب بعض فإذا رجل يسب فلانا، فقلت والله لئن امكننى الله منك في كتيبة، فلما كان يوم صفين إذا انابه و عليه درع، قال ففطنت إلى الفرجة في جربان الدرع فطعنته، فقتلته، فإذا هو عمار بن ياسر، قال قلت وای ید کفتاه يكره ان يشرب في إناء مفضض وقد قتل عمار بن ياسر۔
(مسند احمد 16698)
ترجمہ: کلثوم بن حبر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ شہر واسط میں عبد الاعلی بن عامر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران وہاں موجود ایک شخص جس کا نام ابو غادیہ تھا نے پانی منگوایا، چنانچہ چاندی کے ایک برتن میں پانی لایا گیا لیکن انہوں نے وہ پانی پینے سے انکار کر دیا اور نبیﷺ کا ذکر کرتے ہوئے یہ حدیث ذکر کی کہ میرے پیچھے
کافر یا گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ اچانک ایک آدمی دوسرے کو برا بھلا کہنے لگا، میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! اگر اللہ نے لشکر میں مجھے تیرے اوپر قدرت عطاء فرمائی ( تو تجھ سے حساب لوں گا) جنگِ صفین کے موقع پر اتفاقاً میرا اس سے آمنا سامنا ہو گیا، اس نے زرہ پہن رکھی تھی لیکن میں نے زرہ کی خالی جگہوں سے اسے شناخت کر لیا، چنانچہ میں نے اسے نیزہ مار کر قتل کر دیا، بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو سیدنا عمار بن یاسرؓ تھے، تو میں نے افسوس سے کہا کہ یہ کون سے ہاتھ ہیں جو چاندی کے برتن میں پانی پینے پر ناگواری کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ انہی ہاتھوں نے سیدنا عمارؓ کو شہید کر دیا تھا۔
جواب: اس حدیث میں اس شخص کا ذکر نہیں ہے کہ کس نے نیزہ مارا تھا اس کو راوی نے منسوب کر دیا ہے ابو غادیہؓ کی طرف جس کی وضاحت ہم کو مستدرک الحاکم کی حدیث سے ملتی ہے۔
حدثنا ابو جعفر محمد بن صالح بن هانء حدثنا السّرى بن خزيمة حدثنا مسلم بن ابراهيم حدثنا ربيعة بن كلتوم حدثني ابي قال كنت بواسط القصب في منزل عبد الاعلى بن عبد الله بن عامر قال الاذن هذا ابو غادية الجهني يستأذن فقال عبد الاعلى ادخلوه فادخل وعليه مقطعات فاذا رجل طوال ضرب من الرجال كأنه ليس من هذه الامه فلما فعد قال كنا نعد عمار بن ياسر من خيارنا قال فوالله اتى لفى مسجد قباء اذا هو يقول وذكر كلمة لو وجدت عليه اعوانا لوظلته حتى اقتله قال فلما كان يوم صفين اقبل يمشى اول الكتيبة راجلا حتىٰ كان بين الصفين طعن رجل بالرمح فصرعه فانكفا المغفر عنه فاضربه فاذا راس عمار بن ياسر قال يقول مولى لنا لم ار رجلا ابين ضلالة منه۔
(مستدرك حاكم: 5658)
ربیعہ بن کلثوم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں(وہ فرماتے ہیں) میں واسط القصب میں عبد الاعلیٰ بن عبداللہ بن عامر کے گھر تھا، اجازت لینے والے نے کہا ابو غادیہ چینی اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے، عبد الاعلیٰ نے کہا اس کو اندر آنے کی اجازت دے دو، وہ اندر آئے، اس وقت انہوں نے تنگ کپڑے پہنے ہوئے تھے، وہ انتہائی دراز قد آدمی تھا، وہ تو اس امت کا فرد لگتا ہی نہیں تھا، جب اندر آ کر بیٹھ گیا تو کہنے لگا ہم عمار بن یاسر کو سب سے معتبر اور نیک جانتے ہیں۔ خدا کی قسم میں مسجد قباء میں تھا وہ باتیں کر رہا تھا ان میں ایک یہ بھی کہ اللہ کی قسم اگر کبھی مجھے اس پر غلبہ ملا تو میں اس کو روند ڈالوں گا حتیٰ کہ ان کو قتل کر ڈالوں گا، پھر جب جنگِ صفین شروع ہوئی تو لشکر کی پہلی جماعت پیدل چلتے ہوئے آئی، یہاں تک کہ وہ صفین کے درمیان پہنچ گئے ، ایک آدمی نے ان کو نیزہ مارا، جس کی وجہ سے وہ گر گئے، ان کا خود نیچے گرا، جب دیکھا تو سیدنا عمار بن یاسرؓ کا سر تھا۔ راوی کہتے ہیں ہمارے آقاﷺ کہا کرتے تھے کہ میں نے اُس آدمی سے زیادہ گمراہ کوئی شخص نہیں دیکھا۔
اس حدیث سے صاف پتا چلتا ہے کہ سیدنا عمارؓ کو قتل کرنے والے سیدنا ابو غادیہؓ نہیں تھے بلکہ کوئی اور تھا جس کو سیدنا ابو غادیہؓ نے جنگ صفین میں نیزہ مارتے دیکھا تھا۔
عز الدین ابنِ الاثیر ابوالحسن علی ابنِ محمد الجزری (المتوفی 630ھ) فرماتے ہیں: ایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے جنابِ سیدنا عمارؓ کو قتل کیا تھا، وہ کوئی اور آدمی تھا اور یہ قاتل مشہور ہو گئے۔
(أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابة اردو جلد3 صفحہ 596)
ان سب باتوں سے پتا یہ چلتا ہے کہ اس مسئلے میں بہت اختلاف ہے، تو بہتر یہی ہے کہ اس مسئلے پر سکوت اختیار کیا جائے اور ایسی زبان نہ استعمال کی جائے کہ جس سے صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی ہو
صحیح بخاری میں موجود حدیثِ عمار میں تقتلہ الفئتہ الباغیہ کے الفاظ کی حقیقت
عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔عمار ان کو جنت کی دعوت دے رہے ہوں گے اور وہ جماعت عمار کو جہنم کی دعوت دے رہی ہو گی۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمار رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“۔(یہ وہ ترجمہ ہے جو مترجم نے لکھا ہے)۔(بخاری حدیث نمبر 447)
جیسا کہ آپ نے حدیث پڑھی اس میں لکھا ہوا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا،لیکن یہ الفاظ بخاری کے قدیم نسخوں میں موجود ہی نہیں ہیں،ان الفاظ کی حقیقت بیان کرنے سے پہلے ہم یہ دیکھتے چلتے ہیں کہ بخاری کو نقل کس کس امام نے کیا ہے۔اور اس میں ہم اسی سند کو بیان کریں گے جو سب سے زیادہ مقبول ہے۔
امام بخاری سے ان کے شاگرد محمد بن یوسف الفربری نے نقل کیا،ان سے ابو محمد عبداللہ بن احمد بن الحمویی نے،ان سے ابوذر عبداللہ بن احمد بن الھروی نے،ان سے ابو ولید سلیمان بن خلف الباجی نے،ان سے ابوعلی حسین بن محمد بن الصدفی نے،ان سے ابو عبداللہ محمد بن یوسف بن سعادة نے(اور آج بخاری کے قدیم ترین نسخوں میں انہی کا نسخہ موجود ہے)۔
تو یہ تھے بخاری کو نقل کرنے والے امام جیسا کہ ہم بتا چکے کہ آج کے دور میں بخاری کے قدیم نسخوں میں صرف ابن سعادة(ابوعبداللہ محمد بن یوسف بن سعادة) کا نسخہ موجود ہے تو ہم موضوع کی طرف واپس آتے ہیں اور بخاری میں موجود حدیث عمار کو اسی نسخے میں دیکھتے ہیں۔اس سے پہلے میں یہ بتاتا چلوں کہ بخاری کے بعض قدیم نسخوں میں
کے الفاظ حدیث میں شامل کر کے حواشی میں اس کے بارے بتایا گیا تھا کہ ان کی حقیقت کیا ہے۔اب بڑھتے ہیں موضوع کی جانب۔
ابن سعادة کے نقل کردہ بخاری نسخے میں
کے الفاظ موجود ہی نہیں ہیں جیسا کہ آپ نیچے اسکین میں دیکھ سکتے ہیں اس میں الفاظ کچھ یوں ہیں۔
”ویقول(نبیﷺ نے فرمایا)
(افسوس عمار تم ان کو جنت کی طرف بلاتے ہو اور وہ تم کو جہنم کی طرف)“
جیسا کہ آپ اسکین میں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ابن سعادة کے نسخے میں
کے الفاظ موجود نہیں ہیں،حق ماننے والے کے لئے اتنی دلیل ہی کافی ہے لیکن ہم زرا اور بھی نسخوں کا مطالعہ کر لیتے ہیں تاکہ کسی قسم کا اعتراض باقی نا رہے۔
اب ہم آتے ہیں جامعہ الملک سعود کے قدیم قلمی نسخے کی جانب تو اس میں بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ الفاظ وہی ہیں جو ابن سعادة کے نسخے میں ہیں
اب ہم امام مھلب بن ابی صفرة التمیمی المالکی الاندلیسی کے نقل کردہ بخاری نسخے کی جانب بڑھتے ہیں اس نسخے میں بھی
کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔اور تخریج کرتے وقت ان اضافی الفاظ کی حقیقت کو بھی بیان کیا گیا ہے کہ ”اس کے کچھ طُرق ایسے ہیں جن میں
زاٸد الفاظ موجود ہیں اور امام حمیدی(امام بخاری کے استاد،امام بخاری نے بخاری کی پہلی حدیث ہی ان سے نقل کی ہے) نے ان الفاظ کو اپنی الجامع میں نہیں لکھا،اور ساتھ امام حمیدی کا قول نقل کیا گیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ”اور بخاری نے ان زاٸد الفاظ کو بخاری میں نقل نہیں کیا تھا اور ان کو لکھ کر خود مٹا دیا تھا“۔
اب ہم چلتے ہیں بخاری کے قدیم نسخوں میں سے ایک اور نسخے کی جانب جس کو نسخہِ یونینیة کہا جاتا ہے۔
اس نسخے کو بخاری کے مختلف نسخوں کو مدِنظر رکھ کر نقل کیا گیا تھا اور ان میں جو اختلافی الفاظ تھے ان کو حدیث میں شامل کر کے ان کے اوپر ان کا حکم بیان کیا گیا ہے۔
اس نسخے میں حدیث عمار کو نقل کرتے ہوئے
کے الفاظ کو حدیث میں شامل کیا گیا ہے اور ان الفاظ کے اوپر لکھا گیا ہے ”ساقط“(یعنی یہ الفاظ ساقط ہیں)۔
بخاری کا ایک اور نسخہ دیکھیں جو کہ سلطان عبدالحمید نے مرتب کروایا تھا اس نسخے کو نسخہِ سلطانیہ کہا جاتا ہے اور اسے نسخہِ یونینیة کو مدِنظر رکھ کر تیار کیا گیا اور اُسی طرح اختلافی الفاظ کو حدیث میں لکھ کر حاشیے میں ان کی حقیقت بیان کی گئی۔
اس نسخے میں بھی
کے الفاظ کو حدیث میں شامل کر کے نیچے حاشیے میں لکھا ہے کہ
(یعنی کہ یہ الفاظ ابوذر الھروی اور اصیلی کے نسخے میں ساقط ہیں)۔
ابوذر الھروی کا نسخہ امام بخاری کے بعد تیسرے نمبر کا نسخہ ہے،یعنی امام بخاری سے امام الفربری(1) نے ان سے امام الحمویی(2) نے ان سے امام ابوذر الھروی(3) نے نقل کیا۔یعنی کہ امام بن سعادة کے نسخے سے بھی پہلے کا نسخہ جس میں یہ الفاظ موجود نہیں تھے۔
مشرق میں اس وقت بخاری کا نسخہِ سلطانیة رائج ہے اس نسخے میں بھی نسخہِ یونینیة کی طرح اختلافی الفاظ کو حدیث میں شامل کر کے ان کے بارے بتایا گیا تھا لیکن آج کل کے نسخوں میں اختلافی الفاظ کو تو حدیث میں شامل کر دیا گیا لیکن حاشیے میں ان کی وضاحت نہیں کی گئی۔
آج کل شائع ہونے والے جو اردو تراجم والے نسخے ہیں ان میں سے ایک نسخہ دارالسلام سے شائع ہوتا ہے اس نسخے میں
کے الفاظ بریکٹس [ ] میں لکھے گئے ہیں یعنی کہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ الفاظ حدیث میں شامل نہیں۔
اب جیسا کہ ہم ثابت کر چکے کہ
کے الفاظ بخاری کے اصل نسخوں میں شامل نہیں تو اب ہم اس حدیث کی شرح دیکھتے چلیں۔
بخاری کی سب سے جامع شرح امام احمد بن علی بن حجر عسقلانی کی فتح الباری ہے۔
اس میں علامہ حجر نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوۓ ان الفاظ
کے بارے لکھا ہے کہ
”یہ الفاظ اس میں اضافی ہیں امام حمیدی نے ان کو نہیں لکھا(اور ساتھ علامہ حجر فرماتے ہیں)جب امام حمیدی اور امام اسماعیلی اور امام برقانی نے اس حدیث کی تخریج کی تو انہوں نے فرمایا ان الفاظ کو امام بخاری نے خود مٹا دیا تھا،اور حضرت ابوسعید خدریؓ کا فرمان نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں میں نے یہ زائد الفاظ نبیﷺ سے نہیں سنے،(اور اس فرمان تم ان کو جنت کی طرف بلاتے ہو وہ تم کو جہنم کی طرف کے بارے علامہ حجر نے لکھا ہے کہ)جہنم کی طرف بلانے والوں سے مراد کفارِ قریش ہیں“۔
پس ثابت ہوا کہ یہ الفاظ
بخاری میں موجود نہیں ہیں اور نا ہی حضرت ابوسعید خدریؓ نے نبیﷺ سے سنے ہیں اور نبیﷺ کے فرمان تم ان کو جنت کی طرف بلاتے ہو وہ تم کو جہنم کی طرف سے مراد کفار قریش ہیں یعنی کہ حضرت عمارؓ ان کو دین اسلام کی دعوت دیتے ہیں اور وہ ان کو کفر کی دعوت دیتے ہیں، نبیﷺ نے یہ سب عمارؓ کو باقی تمام صحابہ اکرامؓ سے زیادہ محنت کرتے ہوئے دیکھ کر فرمایا تھا۔
اس لۓ اس حدیث کو امیر معاویہؓ اور ان کے لشکر پر لگانا بلکل بےجا اور جہالت ہے۔
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کا قاتل کون ہے
ابو العادیہ جہنی اپنی طرف سے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس نے جنگ صفین کے موقع پر دونوں گروہوں کی صفوں کے درمیان ایک آدمی کی سرین پر نیزہ مارا تو وہ لڑکھڑا کر گر پڑا اور اس کے سر سے خود گر گئی پھر میں نے اس پر تلوار کا وار کیا تو پتا چلا کہ یہ تو عمار کا سر ہے پھر اسے قتل کر ڈالا۔ جہنی نے پانی مانگا تو اسے شیشے کے برتن میں پانی دیا گیا مگر اس نے اس برتن میں پانی پینے سے انکار کر دیا پھر اسے پیالے میں پانی ڈال کر دیا گیا تو اس نے پی لیا۔ یہ منظر دیکھ کر ایک آدمی نے کہا: اسے دیکھو کہ یہ شیشے کے برتن میں تو پانی پینے سے پرہیز کرتا ہے مگر اس نے عمار کو قتل کرنے سے پرہیز نہیں کیا۔
(الطبقات الکبری: جلد 3 صفحہ 260، 261)
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: عمار کا قاتل اور ان کے جسم سے ہتھیار اتارنے والا جہنمی ہے۔‘‘
(السلسلۃ الصحیحۃ: جلد 5 صفحہ 18، 19 )
ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یہ بات سبھی کے علم میں ہے کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما صفین کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں تھے اور انہیں اہل شام سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے قتل کیا ان کے قاتل کا نام ابو الغادیہ تھا، ایک (شاذ) قول کی رو سے وہ صحابی تھا۔‘‘
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 6 صفحہ 220)
ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ان جنگوں میں شریک صحابہ کرامؓ کے بارے میں یہ گمان رکھنا چاہیے کہ وہ تاویل کنندہ تھے اور غلطی کرنے والے مجتہد کے لیے اکہرا اجر ہے۔ جب یہ اصول عام لوگوں کے لیے ثابت ہے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے بطریق اولیٰ ثابت ہے۔‘‘
(الاصابۃ: جلد 7 صفحہ 260)
امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’رافضیوں کے نزدیک ابن ملجم آخرت میں ساری مخلوق سے زیادہ بدنصیب ہو گا۔ جبکہ اہل سنت اس کے لیے جہنم کی امید کرتے اور اسی امر کو جائز بتاتے ہیں کہ اگر اللہ چاہے تو اس سے درگزر کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے ان کا عقیدہ خوارج اور رافضیوں جیسا نہیں ہے اور اس کا حکم عثمان رضی اللہ عنہ، زبیر رضی اللہ عنہ، طلحہ رضی اللہ عنہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ، عمار رضی اللہ عنہ، خارجہ رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں والا ہے۔ ہم ان سب سے برأت کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ کے لیے ان سے بغض رکھتے ہیں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔‘
(تاریخ الاسلام: عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 654)
ابن حجر رحمہ اللہ کے اس قول کے بارے میں شیخ البانی فرماتے ہیں: ’’ان کا یہ قول مبنی برحق ہے مگر امت کے ہر فرد پر اس کا اطلاق مشکل ہے، اس لیے کہ اس طرح قاعدہ مذکورہ اس حدیث کے مناقض ہو گا: ’’عمار کا قاتل اور ان کے جسم سے ساز و سامان اتارنے والا جہنمی ہے۔‘‘
(السلسلۃ الصحیحۃ: جلد 5 صفحہ 18، 19)
اس لیے کہ یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ عمار کے قاتل ابو غادیہ کو اجر و ثواب سے نوازا جائے گا، کیونکہ اس نے سیدغ عمار رضی اللہ عنہ کو اجتہاد کرتے ہوئے قتل کیا تھا اور یہ اس لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’عمار کا قاتل جہنمی ہے۔‘‘
(ایضاً: جلد 5 صفحہ 18، 19 )
دریں حالات یہ کہنا صائب ہو گا کہ یہ قاعدہ صحیح ہے الا یہ کہ کوئی قطعی دلیل اس کے خلاف پر دلالت کرے تو وہ صورت اس سے مستثنیٰ ہو گی جیسا کہ اس جگہ ہے۔ یہ اس سے بہتر ہے کہ اس قاعدہ کی رو سے صحیح حدیث کو مسترد کر دیا جائے۔
(السلسلۃ الصحیحۃ: جلد 5 صفحہ 19 )
ابو الغادیہ جہنی کے حالاتِ زندگی میں ابن عبدالبرؒ فرماتے ہیں: اس کے نام میں اختلاف ہے، ایک قول کی رو سے اس کا نام یسار بن سعید ہے، دوسرے قول کی رو سے یسار بن ازہر اور تیسرے قول کی رو سے اس کا نام اسلم ہے، وہ شام میں سکونت پذیر تھا، واسط میں بھی رہائش پذیر رہا، اس نے بچپن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا، اس سے اسی کا یہ قول مروی ہے کہ میں نے بچپن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا یہ فرمان سنا تھا: ((لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ))
(مسند احمد: جلد 4 صفحہ 76۔ اس کی سند حسن ہے)
’’میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔‘‘
یہ شخص سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محب تھا اور وہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کا قاتل ہے، وہ ان کے قتل کا واقعہ بے دھڑک بیان کیا کرتا تھا، اہل علم کے نزدیک اس کا یہ واقعہ بڑا تعجب خیز ہے۔
(الاستیعاب: رقم: 3089)
جنگ صفین میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کا قتل اور مسلمانوں پر اس کا اثر
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم: ’’تَقْتُلُکَ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘‘
(صحیح مسلم :رقم: 2916)
(تمھیں باغی گروہ قتل کرے گا)
صحیح اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، جنگ صفین میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا قتل کافی مؤثر رہا، سیدنا عمارؓ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سردار تھے، جہاں سیدنا عمارؓ جاتے تو وہ آپ کے پیچھے ہوتے، خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں حاضر ہوئے تھے، لیکن لڑائی میں شریک نہیں تھے، جب سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو قتل ہوتے دیکھا تو تلوار بے نیام کرلی اور اہل شام سے لڑنے لگے اس لیے کہ انھوں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ’’تَقْتُلُکَ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘‘سنی تھی اور لڑتے رہے تاآنکہ قتل کردیے گئے۔
(خلافۃ علي: صفحہ 211، مجمع الزوائد: 7242)
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے قتل کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فوجی قائدین جیسے عمرو بن عاص، ان کے بیٹے عبداللہ، ابوالاعور سلمی رضی اللہ عنہم (جو پانی کے راستے پر تھے اور لوگوں کی سیرابی کا انتظام کر رہے تھے اور یہ تنہا چشمہ تھا جس سے دونوں فریق سیراب ہو رہے تھے) پر کافی اثر رہا، چنانچہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے قتل کے بارے میں ان کی گفتگو اس طرح ہوئی:
’’عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سے کہا: ہم نے اس آدمی کو قتل کردیا ہے جب کہ ان کے بارے میں قول رسول ہے: ’’تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘‘ اس کے بعد عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ہم نے اس آدمی کو قتل کردیا جب کہ ان کے بارے میں مذکورہ قول رسول ہے۔ جواباً سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: چپ رہو، تم میں رائے کی پختگی نہیں ہے، کیا ہم نے انھیں قتل کیا ہے؟ انھیں تو ان کے لانے والے نے قتل کیا ہے۔
(مصنف عبدالرزاق: جلد 11 صفحہ 240، اس کی سند صحیح ہے)
اہل شام کے مابین سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ تاویل پھونس میں آگ کی طرح پھیل گئی۔‘‘
ایک دوسری صحیح روایت میں وارد ہے کہ عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہا: عمار(رضی اللہ عنہ) قتل کر دیے گئے، جب کہ ان کے بارے میں قولِ رسول ہے: ’’تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘‘چنانچہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ گھبرائے، إنا للّٰه و إنا إلیہ راجعون پڑھتے ہوئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے کہا: عمار(رضی اللہ عنہ) قتل کر دیے گئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو کیا ہوا؟ عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: ’’تَقْتُلُکَ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘‘ ان سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں رائے کی پختگی نہیں ہے، کیا ہم نے انھیں قتل کیا ہے؟ انھیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب نے قتل کیا ہے، انھیں لے کر آئے اور ہمارے نیزوں یا دوسرے قول کے مطابق تلواروں کے درمیان ڈال دیا۔
(مصنف عبدالرزاق: جلد 11 صفحہ 240 بسند صحیح)
ایک دوسری صحیح روایت میں ہے: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے سر کے بارے میں دو آدمی جھگڑا کرتے ہوئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، دونوں میں سے ہر ایک کہتا تھا: انھیں میں نے قتل کیا ہے، اس پر عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا: ان کے بارے میں تم میں سے ایک دوسرے سے راضی ہوجائے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: ’’تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘‘ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارے ساتھ تمھارا کیا معاملہ ہوگا؟ جواب دیا: میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم زندگی بھر اپنے والد کی اطاعت کرو، اسی لیے میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں، جنگ نہیں کروں گا۔
(مسند أحمد: جلد 11 صفحہ 138، 139)
سابقہ روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ فقیہ صحابی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما حق بات اور خیرخواہی کے حریص تھے، ان کا خیال تھا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کی فوج باغی گروہ ہے، مختلف موقعوں پر عبداللہ بن عمروؓ نے اس خیال کا اظہار کیا، بلاشبہ اس حدیث کے باعث عمار رضی اللہ عنہ کا قتل اہل شام میں کافی اثر انداز ہوا مگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حدیث کی نامناسب تاویل کردی، یہ بات درست نہیں ہے کہ جو لوگ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو میدانِ جنگ میں لائے تھے وہی ان کے قاتل ہیں۔
(خلافۃعلي بن أبي طالب: عبدالحمید علی: صفحہ 325)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی تاویل کا الزامی جواب دیتے ہوئے کہا: اس طرح تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل ہیں، اس لیے کہ آپ ہی ان کو جنگ احد میں لے گئے تھے، یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے ایسا الزامی جواب اور دلیل ہے جس پر کسی طرح کا کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔
(التذکرۃ: جلد 2 صفحہ 223)
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا قتل عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ پر بھی اثر انداز ہوا، بلکہ اسی بنا پر وہ جنگ ختم کرانے کی کوشش کرنے لگے،
(معاویۃ بن أبيسفیان: الغضبان: صفحہ 215)
اور کہا: کاش میں بیس سال پہلے مر گیا ہوتا۔
(أسباب الأشراف: جلد 1 صفحہ 170، عمرو بن العاص: الغضبان: صفحہ 603)
صحیح بخاری میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: ہم ایک ایک اینٹ اٹھاتے تھے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دیکھا تو ان کی دھول جھاڑنے لگے اور کہا:
وَیْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ یَدْعُوْہُمْ إِلَی الْجَنَّۃِ وَ یَدْعُوْنَہٗ إِلَی النَّارِ، قَالَ عَمَّارٌ: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْفِتَنِ۔
(صحیح البخاری: رقم: 447)
’’سیدنا عمار رضی اللہ عنہ پر افسوس ہے انھیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا، وہ انھیں جنت کی جانب بلائیں گے، اور وہ سب انھیں جہنم کی جانب بلائیں گے، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں فتنوں سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔‘‘
ابن عبدالبر رحمہ اللہ کا قول ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول تَقْتُلُ عَمَّارَانِ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ بہ تواتر ثابت ہے، یہ مستقبل کی خبر اور آپ کے نبی ہونے کی دلیل ہے اور یہ صحیح ترین حدیثوں میں سے ہے۔
(الإستیعاب: جلد 3 صفحہ 1140)
حدیث کو ذکر کرنے کے بعد امام ذہبیؒ کہتے ہیں: اس سلسلے کی حدیث متعدد صحابیوں سے مروی ہے اس لیے وہ متواتر ہے۔
(سیر ٔاعلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 421)
4۔ علماء کے نزدیک سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں حدیثِ رسول ’’تَقْتُلُکَ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘
(صحیح مسلم: رقم: 5916) کا مفہوم:
ا: ابن حجر رحمہ اللہ کا قول ہے: یہ حدیث نبوت کی دلیل، سیدنا علی و عمار رضی اللہ عنہما کی واضح فضیلت اور ان نواصب کی تردید پر مشتمل ہے جو یہ خیال رکھتے ہیں کہ جنگوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر نہیں تھے۔
(فتح الباری: جلد 1 صفحہ 646)
نیز انھی کا قول ہے: تَقْتُلُ عَمَّارَانِ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ والی حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان جنگوں میں حق پر تھے اس لیے کہ اصحاب معاویہ نے انھیں قتل کیا۔
(فتح الباری: جلد 13، صفحہ 92)
ب: امام نووی رحمہ اللہ کا قول ہے: صفین کے دن وہ جہاں جاتے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کے پیچھے ہوتے اس لیے کہ اس حدیث کے باعث انھیں علم تھا کہ وہ صحیح گروہ کے ساتھ ہوں گے۔
( فتح الباری: جلد 13، صفحہ 92)
ت: ابن کثیر رحمہ اللہ کا قول ہے: سیدنا علی و اصحابِ علی رضی اللہ عنہم اصحابِ معاویہ رضی اللہ عنہم کے مقابلے میں حق سے زیادہ قریب تھے، اصحابِ معاویہ باغی گروہ تھے جیسا کہ صحیح مسلم میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی صحیح روایت ہے کہتے ہیں کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: ’’تَقْتُلُکَ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘‘ باغی گروہ تمھیں قتل کرے گا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 220)
نیز انھی کا قول ہے: امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہتے ہوئے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو اہل شام نے قتل کردیا اسی سے قولِ رسول ’’تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘‘ کا راز کھلا، اور یہ بات واضح ہوگئی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بغاوت کرنے والے تھے، نیز نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی بھی واضح ہوگئی۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 277)
ث: امام ذہبی رحمہ اللہ کا قول ہے: وہ مؤمنوں کا ایک گروہ ہے جس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی، جیسا کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں قولِ رسول ’’تَقْتُلُکَ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘‘ اس بات پر صراحت سے دلالت کرتا ہے۔ (سیر أعلام النبلاء: جلد 8 صفحہ 209)
ج: قاضی ابوبکر ابن العربی رحمہ اللہ اس آیت {وَ إِنْ طَائِفَتَانِ} کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں: یہ آیت مسلمانوں سے جنگ کرنے اور تاویل کرنے والوں سے لڑنے میں اصل و بنیاد ہے اسی پر صحابہ کرامؓ کا اعتماد تھا، اس امت کے اعیان نے اسی کا سہارا لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول: ’’تَقْتُلُ عَمَّارَانِ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ ‘‘ میں اسی آیت کو مراد لیا ہے۔
(أحکام القرآن: جلد 4 صفحہ 1717)
ح: ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول ہے: یہ حدیث سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی صحت اور آپ کی اطاعت کے وجوب کی دلیل ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی اطاعت کی دعوت دینے والا جنت کی دعوت دینے والا ہے اور آپ سے جنگ کی دعوت دینے والا اگرچہ تاویل کرنے والا ہو جہنم کی دعوت دینے والا ہے، وہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ جائز نہ تھی، اسی بنا پر تاویل کرتے ہوئے ان سے جنگ کرنے والا حق پر نہیں تھا، اور بلا تاویل جنگ کرنے والا باغی تھا، اس لیے ہمارے نزدیک صحیح ترین بات یہی ہے کہ جنھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی وہ حق پر نہیں تھے، یہی ہمارے ائمہ کا مذہب ہے، اور ان فقہاء کا مذہب ہے جنھوں نے اس کی بناء پر تاویل کرنے والے باغیوں سے لڑنے کو جائز قرار دیا ہے۔
(مجموع الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 437)
نیز انھی کا قول ہے: یہ جانتے ہوئے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے، اور یہ کہ حدیث کے مطابق سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو باغی گروہ نے قتل کیا ہے، ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم منجانب اللہ آنے والی تمام باتوں پر ایمان رکھیں، پورے پورے حق کا اقرار کریں، ہماری خواہش نفس کا کوئی دخل نہ ہو، بغیر علم کے ہم بات نہ کریں، بلکہ علم و عدل کا راستہ اپنائیں یہی اتباع کتاب و سنت ہے۔ بعض حق کو تھام لینا اور بعض کو چھوڑ دینا ہی اختلاف و انتشار کی جڑ ہے۔
(مجموع الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 449، 450)
خ: عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ حدیث عمار ’’تَقْتُلُ عَمَّارَانِ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ ‘‘ کے بارے میں کہتے ہیں: انھیں معاویہ و اصحابِ معاویہ رضی اللہ عنہم نے جنگ صفین میں قتل کردیا اس لیے وہ لوگ باغی ہیں، لیکن مجتہد ہیں، ان کا خیال تھا کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کے مطالبے میں حق پر ہیں۔
(فتاویٰ و مقالات متنوعۃ: جلد 6 صفحہ 87)
د: سعید حوی کا قول ہے: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ جن کے بارے میں نصوص صراحت سے وارد ہیں کہ انھیں باغی گروہ قتل کرے گا، ان کے قتل کے بعد باغیوں کو پتہ چل گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے اور ان کے ساتھ مل کر جنگ کرنا واجب تھا، اسی لیے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پیچھے رہ جانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ باغیوں کے خلاف خلیفہ برحق کی مدد نہ کرسکے۔ یہی فقہاء کا فتویٰ ہے۔
(الأساس فی السنۃ: جلد 4 صفحہ 1710)
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو پختہ یقین تھا کہ ان کے والد حق پر تھے۔
Credit : Difa e Islam
WhatsApp us