
نماز کے درود میں جو آلِ محمد کا لفظ ہے، شیعہ اس کے صحیح معنیٰ نہیں بیان کرتے اور اس سے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں، اس کے ضمن میں شیعہ کی کئی ایک باتیں بے اصل ہوتی ہیں، جو حسب ذیل ہیں:
الف: آل بمعنیٰ اولاد نہیں ہے بلکہ اس کے معنیٰ پیروی کرنے والے کے ہیں، اولاد کو بھی آل اس وجہ سے کہ دیتے ہیں کہ غالباً اولاد اپنے باپ دادا کی پیروکار ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں حق تعالیٰ نے بے تعلق لوگوں کو جو پیروی کرنے والے ہوں آل فرمایا ہے اور خاص صلبی بیٹے کو جو پیروی کرنے والا نہ ہو آل سے خارج کیا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں فرمایا:
وَاَغۡرَقۡنَآ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ (سورة البقرۃ: آیت 50)
ترجمہ: یعنی ہم نے آل فرعون کو غرق کر دیا۔
اس آیت میں آل فرعون سے صرف فرعون کے پیروکار مراد ہیں، کیونکہ فرعون کی اولاد نہیں تھی، اس کے علاوہ واقعہ بھی یوں ہی ہے کہ اس کے تمام فرمانبردار غرق کر دیے گئے تھے، مزید یہ دیکھیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کا خاص صلبی بیٹا جو ان کا پیروکار نہیں تھا اس کے متعلق فرمایا:
يٰـنُوۡحُ اِنَّهٗ لَـيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ (سورۃ هود: آیت 46)
ترجمہ: یعنی اے نوح وہ تمہارے آل میں سے نہیں ہے۔
حضرت علیؓ کی زبان مبارک سے بھی کتب شیعہ میں یہ مضمون منقول ہے کہ انبیاء علیہم السلام سے تعلق نسب کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ ان سے تعلق کی بنیاد علم اور عمل ہے۔ نہج البلاغہ جلد دوم صفحہ 163 میں ہے:
وَقالَ عَلَيهِ السَّلامُ: إِنَّ أَوْلىَ النَّاسِ بِالأَنْبِيَاءِ أَعْلَمُهُم بِما جَاءُوا بِهِ.تَلا: إِنَّ أَوْلىَ النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا.ثُمَّ قالَ: إِنَّ وَلِيَّ مُحَمَّدٍ مَن أَطَاعَ اللَّهَ وَإِن بَعُدَتْ لُحْمَتُهُ، وَإِنَّ عَدُوَّ مُحَمَّدٍ مَن عَصَى اللَّهَ وَإِن قَرُبَتْ قَرَابَتُهُ
ترجمہ: امیر علیہ السلام نے فرمایا کہ بے شک انبیاء علیہم السلام سے زیادہ قرابت رکھنے والا وہ ہے جو ان کی شریعت کا زیادہ علم رکھتا ہو پھر یہ آیت تلاوت کی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ قرابت رکھنے والے وہ تھے جنہوں نے ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کی (اگرچہ ان کو نسبی تعلق ابراہیم سے نہ ہو) اور یہ نبی اور جو لوگ (اس نبی پر) ایمان لائے، پھر جناب امیر نے فرمایا محمدﷺ کا قرابت والا وہ ہے، جو اللہ کی اطاعت کرے اگرچہ اس کا نسب جدا ہو اور محمدﷺ کا دشمن وہ ہے جو اللہ کی نافرمانی کرے اگرچہ اس کی قرابت قریب ہو۔
لہٰذا ثابت ہو گیا کہ نماز کے درود میں آلِ محمدﷺ سے آپﷺ کے پیروکار مراد ہیں اور درود کے معنیٰ یہ ہوئے کہ یا اللہ رحمت نازل کر محمدﷺ پر اور محمدﷺ کے پیروکاروں پر۔
لہٰذا لفظ آل میں بدرجہ اوّل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شامل ہیں، کیونکہ نبی کریمﷺ کی پیروی میں وہ سب سے اوّل اور سب سے افضل ہیں۔ نماز کے درود میں آل سے اولاد مراد لینا یوں بھی نا جائز ہے کیونکہ اگر اولاد مراد ہو تو قیامت تک جتنی اولاد آپﷺ کی ہے سب مراد ہونا چاہیے کیونکہ درود میں کوئی زمانے کی حد بندی نہیں ہے۔ حالانکہ آپﷺ کی اولاد میں کچھ دنوں کے بعد بہت سے وہ لوگ ہوئے جو فریقین (سنی و شیعہ) کے نزدیک بد مذہب ہیں اور بہت سے وہ لوگ ہوئے ہیں جو کسی ایک فریق کے نزدیک بد مذہب ہیں حتیٰ کہ خود شیعہ کہتے ہیں: کہ اولادِ رسولﷺ میں جس قدر لوگ بھی ہمارے طریقے کے خلاف ہے ان پر ہم تبراء بھیجتے ہیں اور ان سے عداوت رکھتے ہیں اور ان کو ہم رسول اللہﷺ کی قرابت والوں میں شمار نہیں کرتے۔
(شیعہ کتاب احتجاج طبرسی مطبوعہ ایران: صفحہ 258 یعنی کتاب مذکور کا آخری صفحہ)
اہلِ سنّت اگر اپنے خلافِ مذہب حضرات پر تبرا نہیں بھیجتے تو ان کو درود اور بالخصوص نماز کے درود میں شامل کرنا بھی جائز نہیں جانتے۔
رہا یہ شبہ کہ جب لفظ عام صحابہؓ کو بھی شامل ہے تو بعض درودوں میں آل کے بعد اصحاب کا ذکر کیوں ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ عربی زبان میں تخصیص بعد التعمیم کا قاعدہ بکثرت جاری ہے یعنی پہلے ایک عام لفظ بولتے ہیں پھر اس عام کے بعد بعض خاص عظیم الشان افراد کا بھی ذکر کر دیتے ہیں۔
مثلاً قرآن شریف میں ہے:
مَنۡ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰٓئِکَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَجِبۡرِيۡلَ وَمِيۡكٰٮلَ (سورۃ البقرة: آیت 98)
ترجمہ: یعنی جو شخص اللہ کا دشمن ہو اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور جبرائیل کا اور میکائیل کا۔
دیکھیں! جبرائیل و میکائیل فرشتوں میں داخل ہیں، مگر چونکہ جبرائیل و میکائیل کا رتبہ زیادہ ہے اس لیے ملائکہ کے بعد ان کا بھی ذکر فرمایا، اسی طرح اگرچہ صحابہؓ آل میں داخل ہیں مگر چونکہ صحابہؓ کا رتبہ بنسبت دوسرے پیروی کرنے والوں سے زائد ہے اس لیے بعض درودوں میں آل کے بعد صحابہؓ کا ذکر کیا گیا۔
اکثر شیعہ عوام کو دھوکہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم اس آل کی اولاد میں سے ہیں، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شیعہ خود بھی آل کو بمعنیٰ اولاد لیتے ہوئے کھٹکتے ہیں، ورنہ اپنے کو آل کہتے، آل کی اولاد کہنا کیا معنیٰ؟ قیامت تک جتنی بھی اولاد رسولﷺ کی ہو ان سب کو آلِ رسولﷺ کہنا چاہیے اور اگر آل بلا واسطہ اولاد کو کہتے ہیں، معاذ اللہ حضرات حسنینؓ بھی آل سے خارج ہو جائیں گے، شیعہ کو چاہیے کہ آل کے معنیٰ اپنے مجتہدین سے پوچھے، اگر وہ لوگ لغتِ عرب اور قرآنی محاورات سے ثابت کر دیں کہ آل بمعنیٰ اولاد ہے تو پھر یہ بھی ازروئے لغت ثابت کریں کہ تمام آنے والی نسلوں کو آل کہتے ہیں یا بعض نسلوں کو دوسری صورت میں یہ بھی ازروئے لغت محاورات معین کریں کہ کتنی پشت تک کی نسل کو آل کہتے ہیں۔
ب: شیعہ نے یہ جو لکھا ہے کہ درود میں آل کا لفظ نہ کہا جائے تو نماز باطل ہے، اگر یہ مسئلہ صحیح ہوتا تو اہل سنت کے مخالفین کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا بلکہ سراسر نقصان ہی ہے کیونکہ آل کے اولین مصداق صحابہ کرامؓ ہی ہیں مگر افسوس کہ مسئلہ بالکل غلط ہے۔ اہلسنت کے مذہب میں نماز کے اندر درود پڑھنا سنت ہے وہ واجب اور فرض نہیں (تشہد میں درود موجود ہے کہ: السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه لہٰذا اب اس کے بعد درود کے واجب یا فرض ہونے کی ضرورت بھی نہیں) لہٰذا درود کے چھوڑنے سے نماز باطل نہیں ہوتی، چہ جائیکہ درود پڑھا جائے مگر آل کا ذکر نہ کیا جائے تو نماز باطل ہو جائے۔ مجتہدینِ اہلِ حق میں سے صرف امام شافعی رحمۃ اللہ درود کے واجب ہونے کے قائل ہیں وہ بھی اس صرف اس مقدار میں” اللهم صل على محمد ” چنانچہ فقہ کی مشہور کتاب در مختار میں جہاں نماز کی سنتوں کا بیان شروع کیا ہے لکھتے ہیں:
وسنتها ترك السنه لا يوجد فسادًا ولا سهوًا بل اساءةً لو عامدًا غير مستحب وقالوا الاساة ادون من الكراهه
ترجمہ: نماز کی سنتوں کا بیان! ترکِ سنت سے نہ نماز فاسد ہوتی ہے اور نہ سجدہ سہو ہی کرنا پڑتا ہے بلکہ اگر عمداً درود نہ پڑھے بغیر نیت توہین کے تو اساءت ہوتی ہے اور فقہاء نے بیان کیا ہے کہ اساءت کراہت سے کم درجے کی چیز ہے۔
پھر سنتوں کے سلسلے میں لکھتے ہیں:
الصلاه على النبي في القعده الاخيره وفرض الشافعي: قول اللهم صل على محمد ونسبوه الى الشذوذ ومخالفه الاجماع
ترجمہ: اور درود نبی کریمﷺ پر قعدہ اخیر میں سنت ہے اور امام شافعیؒ نے اللہم صلی علی محمد کہنا فرض قرار دیا ہے مگر فقہاء نے اس قول کو شاذ اور خلافِ اجماع کہا ہے۔
علامہ شامیؒ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
اي نسبه قوم من الاعيان منهم الطحاوي وابوبكر الرازي وابن المنذر و الخطابي والبغوی وابن جرير الطبري لكن نقل عن الصحابه والتابعين ما يوافق الشافعي
ترجمہ: بڑے بڑے اکابر کی ایک جماعت نے امام شافعیؒ کے اس قول کو شاذ و خلافِ اجماع کہا ہے، از انجملہ امام طحاویؒ، ابوبکر رازیؒ، ابن المنذرؒ، امام خطابیؒ، امام بغویؒ، ابن جریر طبری ہیں، لیکن بعض صحابہؓ اور تابعین سے امام شافعیؒ کے موافق منقول ہے)
ج: شیعہ نے لکھا ہے کہ ہر جگہ محمد کے ساتھ آلِ محمد شامل ہےﷺ اصحابِ محمدﷺ کس حدیث یا قرآن یا نماز میں ہے؟ یہ بھی شیعہ کا مغالطہ ہے۔
حدیثیں تو بہت ہیں، میں اس وقت قرآن اور نماز میں دکھاتا ہوں دیکھیں! ایک جگہ تو نبیﷺ کے ساتھ ان کو درود میں شامل کیا ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے:
لَـقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِىِّ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ فِىۡ سَاعَةِ الۡعُسۡرَةِ (سورۃ التوبہ: آیت 117)
ترجمہ: بہ تحقیق اللہ نے رحمت نازل کی نبیﷺ پر اور مہاجرین و انصار پر جنہوں نے نبیﷺ کا ساتھ دیا سختی کے وقت میں۔
پھر دوسری جگہ خاص صحابہ کرامؓ پر درود بھیجنے کا ذکر فرمایا اور عنوان وہ اختیار فرمایا جو ایک آیت میں اپنے حبیب نبی کریمﷺ کے لیے ذکر فرمایا ہے:
هُوَ الَّذِىۡ يُصَلِّىۡ عَلَيۡكُمۡ وَمَلٰٓئِكَتُهٗ لِيُخۡرِجَكُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ (سورۃالأحزاب: آیت 43)
ترجمہ: وہی اللہ ہے جو درود (یعنی رحمت) بھیجتا ہے تم لوگوں پر اور اس کے فرشتے (بھی درود بھیجتے ہیں) تاکہ نکالے تم کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف۔
اب نماز میں دیکھو درود تو صرف قعدہ اخیرہ میں ہے اور سنت ہے تشہد واجب ہے اور ہر قعدے میں پڑھا جاتا ہے اسی تشہد ماثور میں ہے: وعلى عباد اللہ الصالحين کون کہہ سکتا ہے کہ عباد الصالحین (نیک بندوں میں صحابہ کرامؓ شامل نہیں ہیں؟
WhatsApp us