
فدک دور صدیقیؓ میں
حضورﷺ جب سفر آخرت پر تشریف لے گئے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ آپﷺ کے جانشین ہوئے تو یہ زمینیں حضرت ابوبکرؓ کی تحویل میں آگئی اور آپؓ نے اس کی آمدنی کو انہی مصارف(حق داروں) میں خرچ کیا جو آپﷺ کا طریقہ رہا تھا اور اس دوران حضرت فاطمہؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس ایک قاصد بھیجا (صحیح مسلم جلد 2 صفحہ 91. صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 609. جلد 1 صفحہ 526) اور کہا کہ فدک نامی علاقے کی جائیداد یا باغ جس کی آمدنی سے ہمیں بھی حصہ ملتا تھا چونکہ حضورﷺ کی وفات ہو چکی ہے اس لیے وہ ہمیں دے دیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بتایا کہ اگر ہم یہ آپؓ کو دے دیں تو یہ وراثت کی شکل بن جائے گی جبکہ پیغمبر کی وراثت جاری نہیں ہوتی، یہ بات حضورﷺ نے فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ پیغمبر جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں وہ سب کا سب صدقہ ہوتا ہے۔ البتہ میں اس بات کی پوری ذمہ داری لیتا ہوں کہ آپ کو خرچ کے لیے اس کی آمدنی سے برابر اسی طرح ملتا رہے گا جس طرح حضورﷺ زندگی میں آپؓ کو اور دوسرے گھر والوں کو دیا کرتے تھے حضورﷺ کی قرابت مجھے بہت عزیز ہے اور اس میں کوئی کمی کوتاہی نہیں ہوگی۔ تاہم میں وہ کام کبھی نہیں کروں گا جو حضورﷺ کے طریقے کے خلاف ہوگا اور اگر میں نے ایسا کیا تو میں راہ راست سے ہٹ جاؤں گا۔ حضرت فاطمہؓ نے جب یہ جواب سنا تو آپؓ خاموش ہوگئیں اور پھر آپؓ نے آئندہ اس موضوع پر کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ کچھ ماہ بعد آپ اللہ کو پیاری ہو گئیں۔
حضورﷺ کے انتقال کے بعد سے حضرت فاطمہؓ کی وفات تک (جو زیادہ نہ تھا) آپ کے گھر کا خرچہ اسی مال سے آتا رہا اور آپؓ اسی مال سے اپنے گھر کا خرچ چلاتی رہیں۔
شیعہ عالم ملا باقر مجلسی (1111ھ) لکھتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آپؓ سے کہا
“اموال واحوال خود را از تو مضائقۃ ندارم آنچہ خواہی بگیر تو بسیدہ امت پدر خودی وشجرۃ طیبہ از برائے فرزندان خود انکار فضل تو کسے نمی تواند کرد و حکم تو نافذ است درمال من اما در اموال مسلمانان مخالفت گفتہ پدر تو نمی توانم کرد”
✍️( حق الیقین صفحہ 127 باب پنجم )
ترجمہ: میں اپنے حالات اور اپنے مالوں کو تمہیں دینے میں کوئی تنگی محسوس نہیں کرتا آپؓ اس میں مختار ہیں جو چاہے لے سکتی ہیں، آپؓ اپنے والد کی امت کی سیدہ ہیں اور اپنے بچوں کے لیے شجرۂ طیبہ کی طرح ہیں، آپؓ کے فضل کا کوئی انکار نہیں کر سکتا، میرے مال پر آپؓ کا حکم نافذ ہے تاہم مسلمانوں کے مالوں سے متعلق میں آپؓ کے والد گرامیﷺ کے ارشاد کی مخالفت نہیں کر سکتا۔
حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ (256ھ) نقل کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرؓ نے حضرت سیدہ فاطمہؓ کی خدمت میں عرض کیا کہ
لست تارکا شیئا کان رسول اللہ ﷺ یعمل بہ الا انی عملت بہ فانی اخشی ان ترکت شیئا من امرہ ان ازیغ ✍️(صحیح بخاری ج 1 صفحہ 435)
میں کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑ سکتا جس پر حضورﷺ عمل پیرا تھے میں تو ضرور اسی عمل کو جاری رکھوں گا کیونکہ میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے کوئی چیز آپﷺ کے عمل سے ترک کر دی تو میں راہ راست سے ہٹ جاؤں گا
ولم اترک امرا رأیت رسول اللہ ﷺ یصنعہ فیھا الا صنعتہ(صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 609)
اعمل فیھا بما عمل رسول اللہﷺ
✍️(صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 996)
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت فاطمہؓ کو کہا کہ میں حضورﷺ کے خلاف کچھ نہ کروں گا یہ اموال(مال کی جمع) مسلمانوں کے معاملات میں خرچ ہوں گے، مسلمان اس سے سامان جنگ بھی خریدیں گے اور کافروں کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔ پھر آپؓ نے کہا:
واین را باتفاق مسلماناں کردہ أم وردیں أمر منفرد وتنھا نبودہ ام
✍️(حق الیقین صفحہ 126)
یہ فیصلہ میں نے تنہا نہیں کیا، مسلمانوں کے اتفاق سے کیا ہے
♦️ یہاں یہ بات لائق غور ہے کہ حضورﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں اپنے گھر والوں میں سے کیا کسی کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرا دیا تھا کہ وہ باغ فدک کا یہ نظام اپنے ہاتھ میں لے لیں کہ یہ زمین یا باغ اب ان کی ملکیت ہے ؟ کیا آپﷺ نے کبھی حضرت علی المرتضیٰؓ کو یہ بات کہی کہ وہ اس کے ذمہ دار بن جائیں ؟ نہیں۔ حضورﷺ نے قرآنی ہدایات کے مطابق اس کی آمدنی ان مصارف میں خرچ کی مگر اپنے گھر والوں میں سے کسی کو بھی اس کا مالک نہیں بنایا اور نہ کسی کو اس کا حصہ دار قرار دیا اور نہ اسے کسی کی ملکیت میں دیا
🔹شیعہ علماء لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہؓ نے حضورﷺ سے عرض کی کہ آپﷺ میرے دو بچوں کے لیے کچھ دے جائیں حضورﷺ نے اس وقت بھی کسی مال و جائیداد کا ذکر نہیں کیا بلکہ آپﷺ نے فرمایا کہ حضرت حسنؓ کو تو میرا رعب ودبدبہ اور حضرت حسینؓ کو میری بہادری اور سخاوت ملے گی ابن بابویہ قمی شیعی نے یہ بات خصال میں لکھی ہے
اماالحسنؓ فان لہ ھیبتی واما الحسینؓ فان لہ جرأتی و جودی
✍️(دیکھئے صفحہ 39 طبع ایران )
حضرت مغیرہؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہؓ نے باغ فدک کے بارے میں حضورﷺ سے گفتگو کی تھی مگر حضورﷺ نے انہیں بتا دیا کہ یہ کسی کی تملیک(ملکیت) میں نہیں دی جا سکتی۔
وان فاطمۃ سأئلتہ أن یجعلھا لھا فأبی
✍️(سنن ابی داؤد جلد 2 صفحہ 59)
حضورﷺ اپنی زندگی میں اس کی آمدنی ان قرآنی مصارف میں خرچ کرتے تھے اور آپﷺ کے انتقال کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ نے بھی اپنے اپنے زمانے میں اسی سنتِ نبوی کے مطابق عمل کیا۔
فلما أن ولی ابوبکر عمل فیھا بما عمل النبیﷺ فی حیاتہ حتیٰ مضی لسبیلہ فلما أن ولی عمر عمل فیھا بمثل ما عملاً حتیٰ مضی لسبیلہ (ایضاً)
چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اس مال کو اسی طرح خرچ کیا جس طرح حضورﷺ خرچ فرماتے تھے، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ امہات المؤمنینؓ میں سے کسی نے یا حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ نے یا بنی ہاشم کے کسی فرد نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے یہ کہا ہو کہ حضورﷺ ہمیں اتنا دیتے تھے آپؓ نے ہمیں اس سے کم کیوں دیا۔ حضرت ابوبکرؓ کے بارے میں ایک شکایت بھی شیعہ کی کسی کتاب میں نہیں ملتی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ خود فرماتے ہیں کہ میں ٹھیک ٹھیک اسی پر عمل کروں گا جو حضور اکرمﷺ کا طریقہ رہا تھا۔
انا ولی رسول اللہ ﷺ فقبضتھا فعمل بما عمل بہ رسول اللہ ﷺ
✍️(صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 996)
⭕ مشہور محقق مناظر حضرت العلام مولانا اللہ یار خاں رحمتہ اللہ اپنی کتاب تحذیر المسلمین میں مذکورہ حدیث مبارکہ کے ضمن میں تحریر فرماتے ہیں کہ
“یعنی حضور اکرمﷺ کے فیصلے کو تہِ دل سے تسلیم کرنا اور اسکی مخالفت کا خیال بھی دل میں نہ لانا۔ حضرت ابوبکرؓ کے متعلق تو ایک سچے مومن کا رویہ ریکارڈ پر آگیا۔ مگر دوسری طرف حضرت فاطمہؓ کے متعلق غلط فہمیاں پیدا کرنے اور پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ دیکھنا یہ ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے قرآن حکیم کی یہ آیات یا اسی مضمون کی دوسری آیات پڑھی ہوں گی یا نہیں؟ اگر پڑھی ہوں گی تو ان کا مفہوم بھی سمجھا ہوگا یا نہیں؟ اگر سمجھا ہوگا تو اس حکم کی تعمیل کی ہوگی یا نہیں؟ اگر کہیں کہ تعمیل نہیں کی تو یہ حضرت فاطمہؓ کے مقام سے ناواقفیت بلکہ ان کی توہین ہے۔ اگر کہیں کہ تعمیل کی تو اس کی صورت کیا ہوسکتی ہے۔ آدمی جتنا غور کرے اس کے بغیر کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ جب ان کے مطالبہ کے جواب میں سیدنا ابوبکرؓ نے اپنا کوئی فیصلہ نہیں سنایا بلکہ حضور اکرمﷺ کی حدیث سنا دی اور اپنی طرف سے صرف اتنا کہا کہ مجھے اس حدیث پر عمل کرنا ہے۔ اور فاطمہؓ اس جواب ایسی مطمئن ہوگئیں کہ عمر بھر اس مسئلہ کا ذکر تک نہیں کیا”
♦️حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بعد حضرت عمرؓ نے بھی یہی بات کہی تاہم کسی ایک نے بھی حضرت ابوبکر صدیقؓ کو چیلنج نہیں کیا کہ آپؓ یہ بات غلط کہتے ہیں یہ آواز صحابہؓ کے مجمع میں سے آئی نہ ہی اہل بیت نبوتﷺ میں سے کسی نے اس وقت سیدنا ابوبکرؓ کو آپؓ کے اس فیصلے پر چیلنج کیا تھا اور نہ ہی بعد میں کسی نے حضرت ابوبکرؓ کے اس بیان سے اختلاف کیا اختلاف تو دور کی بات ہے انہوں نے آپؓ کے اس فیصلے کی بھرپور تائید و توثیق کی ہے
سید علی نقوی شیعہ کہتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اناج غلہ اور دیگر آمدنی لے کر حضورﷺ کے گھر والوں (ازواجؓ اور حضرت فاطمہؓ وغیرہ) کو پورے خرچ کی مقدار دیا کرتے تھے
ابوبکر غلہ وسود آنرا گرفتہ بقدر کفایت باھلبیت علیھم السلام مے داد وخلفاء بعد از وھم برآں اسلوب رفتار نموند تازمان معاویہ
✍️(فیض الاسلام شرح نہج البلاغہ جلد 2 صفحہ 960)
♦️اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضورﷺ کے طریقے سے سر مو انحراف نہ کیا تھا نہ کسی حقدار کا مال روکا اور نہ کسی کو غلہ اناج دینے سے منع کیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے اس طرز عمل سے حضورﷺ کا سارا گھرانہ خوش تھا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جو بات پہلے دن کہی تھی اس پر آپؓ نے پورا پورا عمل کر کے دکھایا ہے۔ حضرت سیدہ فاطمہؓ سے بھی آپؓ نے جب یہ بات کہی تھی انہوں نے بھی اس پر کسی ناپسندیدگی کا اظہار نہ کیا
✍️نہج البلاغہ کا شارح میثم بن علی بن میثم بحرانی (679ھ) لکھتا ہے
کان رسول اللہ یأخذ من فدک قوتکم ویقسم الباقی ویحمل منہ فی سبیل اللہ ولک علی اللہ ان اصنع بھا کما یصنع فرضیت بذلک وأخذت العھد علیہ بہ وأن یأخذ غلتھا فیدفع الیھم منھا ما یکفیھم ثم فعلت الخلفاء بعدہ کذلک الی أن ولی معاویہ
✍️ (محجاج السالکین ماخوذ از فتاوی عزیزی صفحہ 83 شرح نہج البلاغہ صفحہ 432)
🔴 فدک دور فاروقیؓ اور دور عثمانیؓ میں 🔴
حضرت ابوبکرؓ کے بعد حضرت عمر فاروقؓ ان کے بعد حضرت عثمانؓ اور ان کے بعد حضرت علیؓ کا دور خلافت آیا اور یہ سب حضور ﷺ کے طریقے کے مطابق اس آمدنی کو خرچ کرتے رہے۔
شیعہ عالم ابن ابی الحدید عبدالحمید بن بہاؤ الدین مدائنی(656ھ) لکھتا ہے۔
کان ابوبکرؓ یأخذ غلتھا فیدفع الیھم منھا ما یکفیھم ویقسم الباقی وکان عمرؓ کذالک ثم کان عثمانؓ کذالک ثم کان علیؓ کذالک۔
✍️(شرح نہج البلاغہ جلد 2 صفحہ 296)
حضرت علیؓ کے بعد حضرت حسنؓ کا دور آیا، پھر حضرت حسینؓ بھی مدینہ منورہ میں رہے مگر ان میں سے کسی ایک نے بھی نہ تو کسی قسم کا مطالبہ کیا اور نہ انہوں نے اس آمدنی کو لینے سے انکار کیا حتیٰ کہ جو کچھ ان خلفائے کرامؓ کی جانب سے ملتا رہا برابر لیتے رہے اور کبھی یہ نہ کہا کہ آپؓ ہمیں اتنا کیوں دیتے ہیں، سب پر ہمارا حق ہے سب کچھ ہمیں دے دیں۔
♦️ان حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ فدک کی زمین اور اس کی آمدنی خود حضور ﷺ نے بھی اپنی کسی اولاد و ازواج اور عزیزوں کو نہ دی تھی البتہ ان کا تصرف(استعمال) آپ کے ہاتھ میں تھا اور آپ ﷺ قرآن کی روشنی میں اسے ان کے حق داروں میں خرچ کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس سے تجاوز نہیں کیا اگر آپؓ سیدہ فاطمہؓ کی بات سن کر انہیں یہ سب کچھ دے دیتے تو آپ ہی بتائیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کیا حضور ﷺ کے طریقے پر رہتے؟ کیا آپؓ ان لوگوں کا سامان روک کر ظلم نہ کرتے جنہیں حضورﷺ عطا فرمایا کرتے تھے؟
🔴 فدک دور علویؓ میں 🔴
سوال: سیدنا حضرت علی المرتضیٰؓ کا اس باب میں مؤقف کیا رہا؟ کیا آپ نے اپنے دور خلافت میں خلفائے ثلاثہؓ کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا تھا اور فدک کو وراثت سمجھتے ہوئے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کے حوالے کر دیا تھا؟
جواب: نہیں حضرت علی المرتضیؓ نے بھی اپنے دور میں وہی مؤقف اختیار کیا جو حضرات شیخینؓ کا تھا، اگر یہ حق صرف حضرت فاطمہؓ کا ہوتا تو حضرت علی المرتضیٰؓ اپنے دور خلافت میں ضرور بالضرور اس پر قبضہ کر لیتے حضرت فاطمہؓ کی اولاد کو دے کر ہمیشہ کیلۓ یہ قضیہ ختم کر دیتے مگر تاریخ گواہ ہے کہ آپؓ نے ایسا نہیں کیا اور آسانی سے حل ہو جانے والے معاملے کی طرف توجہ تک نہ فرمائی اور اسے اس طرح رہنے دیا جس طرح پہلے سے چلا آ رہا تھا، آپ نے حضرات شیخین کریمینؓ کے اس فیصلے کی مخالفت نہیں کی جو انہوں نے اپنے دور خلافت میں کیا تھا۔
مفسر قرآن علامہ محمد ابن احمد انصاری قرطبی رحمہ اللہ (271ھ) لکھتے ہیں۔
لما ولی علی لم یغیر ہذا الصدقۃ مما کانت فی ایام شیخینؓ ثم کانت بعدہ بیدہ الحسنؓ ثم بید الحسینؓ ثم بید علی ابن الحسینؓ ثم بید الحسن بن الحسنؓ ثم بید عبداللہ بن الحسینؓ ثم ولیھا بنو العباس علی ما ذکرہ الا مام البرقانی فی صحیح ولم یرد عن احد من ھؤلاء انہ تملکھا ولا ورثھا ولاورثت عنہ
✍️( تفسیر قرطبی منقول از عمدۃ القاری جلد 7 صفحہ 173 فیض الباری جلد 4 صفحہ 46)
جب حضرت علیؓ خلیفہ ہوئے تو فدک کے معاملے میں جو نظام حضرات شیخینؓ کے دور میں تھا اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی پھر یہ معاملہ حضرت حسنؓ کے پاس آیا پھر حضرت حسینؓ کے پاس پھر حضرت زین العابدین رحمہ اللّٰہ کے پاس پھر حضرت حسن بن حسنؓ پھر زید بن حسنؓ پھر عبداللہ بن حسینؓ پھر بنو عباس اس کے متولی ہوئے جیسا کہ امام برقانی نے اپنی صحیح میں اس کا ذکر کیا ہے اور یہ بات کسی نے نہیں لکھی کہ یہ حضرات فدک کے مالک بن گئے تھے یا یہ انہیں وراثت میں ملا تھا۔
⭕ شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) لکھتے ہیں کہ:
“اگر حضرت علیؓ یہ سمجھتے کہ فدک حضرت فاطمہؓ کا حق تھا تو آپؓ کے لیے یہ بات کوئی مشکل نہ تھی کہ آپؓ اسے حضرت فاطمہؓ کی اولاد کو لوٹا دیتے مگر دنیا جانتی ہے کہ آپؓ نے ایسا نہیں کیا کیونکہ آپؓ جانتے تھے کہ حقیقت حال کیا ہے۔”
وقد تولی علیؓ بعد ذلک وصار فدک وغیرھا تحت حکمہ ولم یعطھا لأولاد فاطمۃؓ ولا من زوجات النبی ولا ولد العباس شیئا من میراثہ فلو کان ذلک ظلما وقدر علیؓ ازالتہ لکان ھذا أھون علیہ من قتال معاویۃؓ و جیوشہ ۔✍️(منہاج السنۃ جلد 6 صفحہ 347)
ان حضرات (یعنی خلفائے ثلاثہؓ)کے بعد حضرت علی المرتضیٰؓ خلیفہ بنے اور آپؓ کے دور خلافت میں فدک اور دوسرے اموال آپؓ کے زیر تصرف رہے مگر آپؓ نے فدک حضرت فاطمہؓ کی اولاد کو واپس نہیں دیا اور نہ حضور اکرم ﷺ کی میراث کو ورثہ میں تقسیم کیا اگر (خلفائے ثلاثہ کا اپنے عہد خلافت میں) ایسا کرنا ظلم تھا تو حضرت علیؓ نے اپنے دور خلافت میں اس کا ازالہ کیوں نہ فرمایا حالانکہ اس ظلم کا ازالہ کرنا حضرت معاویہؓ اور ان کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی بنسبت بہت آسان تھا۔
اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ فدک کا معاملہ جس طرح شیخینؓ کے دور میں رہا حضرت علیؓ اور ان کے بعد جن حضرات نے بھی یہ ذمہ داری سنبھالی ان سب نے شیخین کریمینؓ کے طریقے پر ہی اسے باقی رکھا، سب اس کے متولی تو ہوئے مگر کسی کو بھی اس کا مالک نہیں بنایا گیا اور نہ اسے میراث میں دیا گیا اس حقیقت کے ہوتے ہوئے بھی اگر کوئی شیعہ عالم حضرت ابوبکر صدیقؓ پر ظلم کی تہمت لگاتا ہے تو وہ اپنے اس تہمت میں حضرت علی المرتضیٰؓ کو شریک کرتا ہے کہ معاذ اللہ آپؓ نے بھی زیادتی کا ارتکاب کیا تھا۔
⭕ علامہ قاضی عیاض رحمہ اللہ(454 ھ) لکھتے ہیں کہ:
“حضرت فاطمہؓ کو جب حضور اکرم ﷺ کی حدیث کا پتہ چل گیا تو آپ اپنی رائے سے پیچھے ہٹ گئیں اور آپؓ نے اور نہ ہی آپؓ کی اولاد نے آئندہ کبھی اس کا مطالبہ کیا جب حضرت علی المرتضیٰؓ خلیفہ ہوئے تو آپؓ نے بھی وہی مؤقف اختیار کیا جو حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا رہا تھا۔”
ثم لم یکن منھا ولا من أحد من زریتھا بعد ذلک طلب المیراث ثم ولی علی الخلافۃ فلم یعدل بھا عما فعلہ أبوبکرؓ وعمرؓ
✍️(شرح مسلم للنووی جلد 2 صفحہ 90)
اس سلسلے کا ایک واقعہ ملاحظہ کیجیے
⭕ محدث العصر علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ ( 1352 ھ) فرماتے ہیں:
والحال ان علیاؓ وعثمانؓ ایضاً یمشیا علی ما فعلہ الشیخانؓ وحکی ان رافضیا ذھب عند السفاح الخلافۃ العباسی فقال انی مظلوم فأجرنی قال الخلیفۃ عند من الفدک بعد ھما قال عند عثمانؓ قال ثم عند من ؟ قال عند علیؓ وھکذا قال الخلیفۃ فأی خصوصیۃ ابیبکرؓ وعمرؓ فسکت الرافضی الملعون۔
✍️(العرف الشذی بشرح الترمذی صفحہ 485)
حقیقت حال یہ ہے کہ حضرت علیؓ حضرت عثمانؓ بھی حضرات شیخینؓ کے طریقے پر ہی چلے ہیں اس بارے میں ایک حکایت نقل کی گئی ہے کہ عباسی خلیفہ سفاح کے سامنے ایک شیعہ اپنی فریاد لے کر آیا اور کہا کہ میں مظلوم ہوں میری مدد کی جائے، خلیفہ نے پوچھا کہ بتا تجھ پر کس نے ظلم کیا ہے اس نے کہا ابوبکرؓ و عمرؓ نے میراث کے معاملے میں مجھ پر ظلم کیا ہے خلیفہ نے کہا اچھا یہ بتا کہ ابوبکرؓ اور عمرؓ کے بعد فدک کس کے پاس آیا اس نے کہا عثمانؓ کے پاس۔خلیفہ نے پوچھا اس کے بعد؟ اس نے کہا علیؓ کے پاس۔ علی ھذا القیاس۔
خلیفہ نے کہا بتا پھر اس ظلم میں ابوبکرؓ اور عمرؓ کی کون سی خصوصیت رہی اس میں تو حضرت علیؓ بھی شریک ہوگئے چنانچہ وہ رافضی چپ ہو گیا اور اس سے کوئی جواب نہ بن پڑا
⭕علامہ عبدالرحمن بن جوزی رحمہ اللہ (596 ھ) اس واقعے کے ذیل میں لکھتے ہیں۔
قال ابن عقیل الظاہر ان من وضع مذھب الرافضۃ قصد الطعن فی اصل الدین والنبوۃ۔۔۔۔الخ
✍️( تلبیس ابلیس صفحہ98 طبع دمشق)
ابن عقیل کہتے ہیں کہ یہ بات ظاہر ہے کہ جس نے رافضی مذہب بنایا اس کا اصل مقصد دین اسلام اور نبوت محمدی میں طعن کرنا تھا اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ جو اعتقاد حق لائے وہ ہماری نظر سے غائب چیز ہے (اور ہم نے آپﷺ کی زبان سے کچھ بھی نہیں سنا) بلکہ ہمارا اعتماد فقط سلف صالحین یعنی صحابۂ کرامؓ و تابعین عظام رحمہم اللّٰہ کے نقل کرنے اور دیکھنے والوں کی جودت نظر پر ہے یعنی ان بزرگوں نے اپنی خوبی نظر سے ان کو بزرگ پیغمبر پایا تھا تو ان کی جودت نظر پر بھی ہمارا بھروسہ ہے ان دونوں باتوں سے ہمارا یہ حال ہے کہ گویا ہم خود وہ دیکھتے ہیں جب کہ ہمارے لیے ایسے اکابر نے دیکھ لیا تھا جن کی بزرگی دین و کمال عقل وجودت نظر پر ہمارا کامل اعتماد ہے پس رافضی مذہب کے بانی نے یہ پروپگینڈا کیا کہ جن پر تم یہ اعتماد کرتے ہو انہوں نے پیغمبر کی وفات کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ ان کے خاندان پر خلافت کا ظلم کیا (یعنی خلافت ان سے چھین لی) اور ان کی صاحبزادی پر میراث کا ظلم کیا (فدک چھین لیا )تو یہ بات جب ہی ہو سکتی ہے کہ جس کے حین حیات میں اس کی نبوت کے متعلق یہ اعتقاد تھا وہ ان کی نظر میں ٹھیک شخص نہ تھا۔ (معاذ اللہ)
اول ما بدأوا بعد موتہ بظلم اھل بیتہ فی الخلافۃ وابنتہ فی ارثھا وما ھذا الا لسوء اعتقاد فی المتوفی (ایضا ص98)
خصوصاً انبیاء کے بارے میں تو یہ واجب کرتا ہے کہ ان کے انتقال کے بعد ان کے قوانین مقررہ کی حفاظت لازم سمجھی جائے خصوصاً ان کے اہل و عیال کے حق میں اس کے قواعد کے موافق احترام ضروری ہوتا ہے
پس جب رافضی گروہ نے یہ عقیدہ رکھا کہ صحابۂ کرامؓ نے حضور اکرمﷺ کے بعد یہ سب کام (ظلم) جائز سمجھے تو اس گروہ نے صاف صاف یہ اقرار کیا کہ ہم تک جو شریعت پہنچی ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے اس لیے کہ حضور اکرمﷺ کی جانب سے ہم تک پہنچنے میں سوائے منقول طریقہ کے اور کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے(یعنی صحابہ کرامؓ نے ہم تک یہ بات نقل کی اور ہم نے ان کی اس نقل پر اعتماد کیا )اب جب صحابۂ کرامؓ پر ہی اعتماد ختم ہو گیا تو ان کی جانب سے منقول اعتقادات و شریعت پر کس طرح اعتبار کر سکتے ہیں اور جن کے اتباع پر اعتماد کرتے ہوئے شریعت پر جزم کیا گیا تھا اس سے بد اعتقادی پیدا ہو جائے گی اور یقین ختم ہو جائے گا اور ہمیشہ یہ وسوسہ رہے گا کہ جن کے اعتماد پر شریعت کا انحصار ہے انہوں نے ایسی کوئی بات نہ دیکھی جس سے اتباع اور ایمان فرض ہو اور انہوں نے یہ مصلحت اس پیغمبر کی زندگی تک رعایت رکھی اور اس کے فوت ہوتے ہی اسکی شریعت سے منحرف ہو گئے اور ان لوگوں میں سے سوائے ان کے چند گھر والوں کے اور کوئی بھی اس کے دین پر باقی نہ رہا ۔(معاذ اللہ)
ولم نأمن ان یکون القوم لم یروا ما یوجب اتباعہ فراعوہ مدۃ الحیاۃ وانقلبوا عن شریعتہ بعد الوفاۃ ۔ولم یبق علی دینہ الا الاقل من اھلہ (ایضاً صفحہ99)
پس رافضی گروہ کے اس مکرو فریب کا مقصد اس کے سوا اور کیا ہے کہ اصل اعتقاد مٹ جائے اور ان عقائد و اعمال کو قبول کرنے میں ہمارا دل سست ہو جائے جو ہمیں صحابہؓ سے ملے ہیں۔
✍️(دیکھیے تلبیس ابلیس اردو ترجمہ صفحہ130)
⭕ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ (1362 ھ) فرماتے ہیں کہ:
“ایک صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ “عام سنی سے ایک شیعہ کی گفتگو ہوئی سنی نے کہا کہ جب فدک پر جھگڑا تھا تو حضرت علیؓ نے اپنے زمانۂ خلافت میں اس کو کیوں نہ لے لیا؟ شیعہ نے جواب دیا کہ جو چیز غصب کر لی جاتی ہے پھر ہم لوگ اس کو نہیں لیتے سنی نے جواب دیاکہ خلافت بھی تو غصب کر لی گئی تھی پھر اس کو کیوں لیا تھا (یعنی آپؓ چوتھے خلیفہ کیوں بنے) اس جواب پر شیعہ دم بخود رہ گیا۔”
✍️(الافاضات جلد 4 صفحہ 89)
⭕ حضرت العلام مولانا اللہ یار خاں رحمتہ اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ:
“اس سلسلے میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کو متہم کرتے وقت دیکھ لینا چاہیے کہ حضرت علیؓ نے اپنے دور اقتدار میں کیا فرمایا اور کیا رویہ اختیار کیا۔ (تحذیر المسلمین عن کید الکاذبین: صفحہ 255)
فلما وصل الامر الی على بن ابی طالب کم فی امر فدک فقال انی لا ستحیی من اللّٰہ ان ارد شیا منع عنہ ابوبکرؓ واقضاہ عمر ؓ (شیعہ کتاب الشافی: شریف مرتضیٰ صفحہ 231)
“جب حضرت علیؓ خلیفہ ہوئے تو فدک کے بارے میں بات کی گئی تو فرمایا مجھے اللّٰه سے حیا آتی ہے کہ میں اس حکم کو رد کروں جس کا فیصلہ ابوبکرؓ نے کیا اور عمرؓ نے برقرار رکھا”
فائدہ: اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے فیصلہ اور عمرؓ کے اس پر قائم رہنے کو اللّٰه اور رسولﷺ کے حکم کے عین مطابق سمجھا ورنہ خدا سے حیا محسوس کرنے کا کیا مطلب اور حضرت علیؓ کے متعلق وضاحت ہو چکی ہے کہ آپ نے فدک کے بارے میں اپنے دور اقتدار میـں وہی طریقہ اختيار کیا جسے وہ حکم خدا کے مطابق سمجھتے تھے جو طریقہ حضرت ابوبکرؓ نے اتباعِ نبوی کے تحت احتیار کیا تھا”
دوسری جگہ تحریر فرمایا:
“اگر آلِ محمدﷺ میں دنیا کی محبت اس درجے کی ہو کہ حضورﷺ کی حدیث سننے کے باوجود چند کجھوروں کی خاطر جانشین رسولﷺ سے ناراض ہو جائیں اور پھر عمر بھر راضی ہونے کو نہ آئیں تو مندرجہ بالا حدیث رسولﷺ بے معنیٰ ہو کر رہ جاۓ گی۔ کیا آلِ مُحَمَّدﷺ میں سے صرف حضرت فاطمہؓ ہی کو آپ اتنا بڑا دنیا دار ثابت کرنا چاہتے ہیں تو یہ آلِ مُحَمَّدﷺ کی عزت نہیں بلکہ توہین ہے۔”
جاری ہے
WhatsApp us