

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے…
شہید کے آنگن میں آج پھر ایک لاش خون میں نہائی ہوئی رکھی ہے۔ شیخ حسن جان شہیدؒ کے داماد بھی شہید کر دیئے گئے۔ شیخ ادریس بھی اپنے اسلاف کے قافلۂ شہدا میں شامل۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
چارسدہ بلکہ پورے صوبے کی فضا سوگوار ہے۔ زبانیں گنگ۔ لب خاموش اور دل یقین کرنے سے قاصر کہ یہ سانحۂ جاں گداز حقیقت بن چکا ہے کہ سفید داڑھی پر سرخی، رنگِ حنا نہیں، لہو سے وضو ہے۔ یہ اک عہد کی جدائی ہے۔ اک زمانے کا نوحہ۔ اک ایسی ہستی کی رخصتی جس کی زندگی علم و عمل، صبر و حلم، درس و تدریس اور وعظ و بیان کی روشن مثال تھی۔
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس۔ یہ صرف ایک نام نہیں تھا، بلکہ ایک زندہ روایت، ایک متحرک مکتبِ فکر اور ہزاروں دلوں کی دھڑکن تھا۔ ملعون قاتل کی سفاک گولی نے پورے خطے کو اندھیرے میں دھکیل دیا۔ علم و دانش کی ایک روشن قندیل گل ہو گئی۔ وہ جنہوں نے عمر بھر حدیثِ نبویؐ کے نور سے دلوں کو منور کیا، آج اسی ظلمت کدے میں خود چراغِ راہ بن کر بجھ گئے۔
ان کے لہجے میں نہ شدت تھی، نہ نفرت، نہ تعصب، نہ فرقہ واریت، بلکہ نرمی، حکمت اور دل نشینی کا وہ سوز تھا جو دلوں کو جیت لیتا تھا۔ ہر ایک دل و جان سے ان کا احترام کرتا تھا۔
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ
وہ صرف ایک مدرس نہ تھے، بلکہ مصلح بھی تھے، صرف عالم نہیں، بلکہ عوام کے دلوں میں بسنے والے ایک درد مند واعظ و مربی بھی تھے۔
چند روز قبل انہوں نے قومی مفاد اور امن کی تمنا میں چند جملے کیا کہے کہ جہالت کے سوداگروں نے نفرت کا طوفان برپا کر دیا۔ سوشل میڈیا کی بے مہار دنیا نے کردار کشی، گالم گلوچ اور تضحیک کے ایسے تیر برسائے کہ انسانیت بھی شرمسار ہو جائے۔ مگر انہوں نے جواب میں خاموشی اختیار کی اور آج وہی خاموشی ان کی شہادت کی گواہی بن گئی۔ یہ خاموشی محض سکوت نہ تھی، بلکہ ایک باوقار احتجاج تھا، ایک اعلان کہ اہلِ حق تنہا تو ہو سکتے ہیں، مگر سرنگوں نہیں ہوتے۔ خاموش تو رہ سکتے ہیں، مگر شائستگی کا دامن کبھی ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیتے۔
شیخ صاحب کا یہ مظلومانہ قتل ہمارے معاشرے کی بیمار روح کا آئینہ دار ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں اختلافِ رائے برداشت کرنے کا حوصلہ دم توڑ چکا ہے، جہاں دلیل کی جگہ گولی نے لے لی ہے اور جہاں نہ عالم محفوظ ہے نہ عامی۔ سوال یہ نہیں کہ قاتل کون ہے، سوال یہ ہے کہ وہ فکر کون سی ہے جو اختلاف کو دشمنی اور دشمنی کو قتل تک لے جاتی ہے؟
وہ ایک ایسے خانوادے کے چشم و چراغ تھے جس کی بنیادیں علم میں پیوست تھیں۔ ان کے اسلاف علم و دین کے مینار تھے۔ دادا علامہ جمال الدین افغانی کے استاذ۔ انہوں نے بھی اس روایت کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسے نئی وسعتوں سے ہمکنار کیا۔ ہزاروں طلبہ ان کے حلقۂ درس سے فیض یاب ہوئے، لاکھوں لوگوں نے ان کے مواعظ سے رہنمائی پائی۔ وہ صرف کتابوں کے عالم نہیں تھے، بلکہ دلوں کے طبیب تھے۔ ان کا خلا محض ایک کمی نہیں، ایک ایسا زخم ہے جو مدتوں نہیں بھرے گا۔
جگرؔ کے الفاظ آج حقیقت کا نوحہ بن کر گونج رہے ہیں:
جان کر من جملۂ خاصانِ مے خانہ مجھے
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے
اللہ تعالیٰ اس شہیدِ علم کو قربِ خاص کے اعلیٰ مراتب عطا فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل نصیب کرے اور اس خونِ ناحق کا حساب لینے والا خود بنے۔ آمین۔
WhatsApp us