

سرزمین عرب میں طلوع اسلام کے بعد جن خوش نصیبوں کو دولت ایمان نصیب ہوئی ان میں ایک خوبرو ہستی وہ بھی ہیں جن کو سید الشہداء ، خیر الشہداء ، اسد اللہ واسد الرسول ، کاشف الکربات، فاعل الخیرات حضرت سیدنا حمرہ بن عبد المطلب کہتے ہیں۔امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اہل عرب کے جوانمرد، بہادر، نڈر شہوار تھے ، آپ کا پسندیدہ مشغلہ سیر وسیاحت اور شکار کرنا تھا۔ اعلان نبوت کے چھٹے سال خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے تین دن پہلے دولت ایمان سے مالامال ہوئےاورآپ کے ایمان لانے کا سبب آپ کی اپنے بھتیجے سے والہانہ محبت وعقیدت تھی۔
مؤرخین کے مطابق آپ کی ولادت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سے دو سال پہلے ہوئی ،آپ خاندان نبو ہاشم اور اولاد عبد المطلب میں سب سے زیادہ بہادر اور ظاہری شکل وصورت میں انتہائی خوبصورت ،درمیانی قدوقامت ، چمکتی پیشانی،دبلابدن، چوڑی کلائی والے تھے۔عہد طفولیت سے ہی کُشتی یعنی پہلوانی اور تیر اندازی کا شوق تھا۔
تفسیر صراط الجنان جلد تین سور ہ انعام کی آیت 122:’’ اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَاؕ-كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۲۲) ‘‘
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کیا وہ جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کردیا اور ہم نے اس کے لیے ایک نور بنا دیا جس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے (کیا) وہ اس جیسا ہوجائے گا جو اندھیروں میں (پڑا ہوا) ہے(اور) ان سے نکلنے والا بھی نہیں۔ یونہی کافروں کے لئے ان کے اعمال آراستہ کردئیے گئے۔‘‘ کا شان نزول حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنھما کے حوالے سے بیان کیاگیا ہے کہ مذکورہ آیت امیر حمزہ کے ایمان لانے پر نازل ہوئی۔ آپ کے ایمان لانےکا سبب کچھ یوں ہوا کہ ’’ ابوجہل نے ایک روز سیّدِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر کوئی نجس چیز پھینکی ۔ اس دن حضرت امیر حمزہ رضیَ اللہ تعالٰی عنہ شکار کو گئے ہوئے تھے، جس وقت وہ ہاتھ میں کمان لئے ہوئے شکار سے واپس آئے تو انہیں اِس واقعہ کی خبر دی گئی، گو ابھی تک وہ دولتِ ایمان سے مشرف نہ ہوئے تھے لیکن یہ خبر سنتے ہی طیش میں آگئے اور ابوجہل کے پاس پہنچ کر اسے کمان سے مارنے لگے ۔ ابوجہل عاجزی اور خوشامد کرتے ہوئے کہنے لگا: اے ابویعلیٰ! کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) کیسا دین لائے اور اُنہوں نے ہمارے معبودوں کو برا کہا اور ہمارے باپ دادا کی مخالفت کی اور ہمیں بدعقل بتایا ہے۔ اس پر حضرت امیر حمزہ رضیَ اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا’’تم جیسا بدعقل کون ہے کہ تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کو چھوڑ کر پتھروں کو پوجتے پھر رہے ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد مصطفٰے (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) اللہ کے رسول ہیں۔اسی وقت حضرت امیر حمزہ رضیَ اللہ تعالٰی عنہ اسلام لے آئے اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔(تفسیر صراط الجنان ،جلد 3 ،ص ۱۹۸)
اسلام لانے کے بعد فی البدیہ یہ اشعار کہے:
حَمِدْتُّ اللہ حِیْنَ ھَدٰی فُؤَادِیْ اِلَی الْاِسْلَامِ وَالدِّیْنِ الْحَنِیْفٖ
میںاﷲ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں جس وقت کہ اس نے میرے دل کو اسلام اور دین حنیف کی طرف ہدایت دی۔
اِذَا تُلِیَتْ رَسَائِلُہٗ عَلَیْنَا! تَحَدَّرَ دَمْعُ ذِی الْلُبِّ الْحَصِیْفِ
جب احکام اسلام کی ہمارے سامنے تلاوت کی جاتی ہے تو با کمال عقل والوں کے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔
وَاَحْمَدُ مُصْطَفًی فِیْنَا مُطَاعٌ فَلاَ تَغْشَوْہُ بِالْقَوْلِ الْعَنِیْفٖ
اور خدا کے برگزیدہ احمد صلیاﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہمارے مقتدیٰ ہیں تو(اے کافرو) اپنی باطل بکواس سے ان پر غلبہ مت حاصل کرو۔
فَلاَ وَﷲ نُسْلِمُہٗ لِقَوْمٍ! وَلَمَّا نَقْضِ فِیْھِمْ بِالسُّیُوْفٖ
تو خدا کی قسم !ہم انہیں قوم کفار کے سپرد نہیں کریں گے۔ حالانکہ ابھی تک ہم نے ان کافروں کے ساتھ تلواروں سے فیصلہ نہیں کیا ہے۔
(1)(زرقانی ج1 ص256،سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ،ص ۱۳۳،۱۳۴)
حضرت امیر حمزہ بن عبد المطلب کے ایمان لانے کے واقعہ میں جو چیز سب سے زیادہ غور طلب ہے وہ آپ کا اپنے بھائی کے بیٹے سے پیار اور محبت تھی ۔قبل از اسلام بھی امیر حمزہ حضور نبی رحمت دو عالم کی تائید ونصرت اور آپ کی حمایت میں پیش پیش رہا کرتے تھےاور بعد از اسلام تادام واپسی حضور کے جان نثار ساتھی رہے۔پھر سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی آپ سے بےحد پیار تھا،آپ علیہ الصلا ۃ والسلام فرمایا کرتے تھےکہ ’’ میرے چچاؤں میں سب سے بہتر حضرتِ حمزہ(رضیَ اللہ تعالٰی عنہ) ہیں‘‘۔
(معرفۃ الصحابۃ،ج 2ص،)
آقا دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے چچان جان سے محبت کا تعلق اتنا گہرا تھاکہ آپ کی بارگاہ میں ایک صحابی تشریف لائے اور عرض کی :’’یارسول اللہ ! میرے گھر لڑکے کی پیدائش ہوئی ہے میں اس کا کیا نام رکھوں ؟‘‘حضور علیہ الصلا ۃ والسلام نے فرمایا: لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ اپنے چچاسے محبت ہے لہذا انہی کے نام پر اپنے بچے کا نام رکھو‘‘۔
(معرفۃ الصحابۃ، ج2ص، )
امیر حمزہ کے اسلام لانے سے اہل ایمان کو مکۃ المکرمہ کے پرآشوب ماحول میں سکھ کا سانس ملا ،کفار مکہ کی روز کی ایذارسانی میں کچھ کمی آئی، پھر آپ کے تین دن بعد جب سیدنا فاروق اعظم بھی دولت ایمان سے مشرف ہوئے تو آپ دونوں ہستیوں کی وجہ سے مسلمانوں کو سکون کی دولت نصیب ہوئی، ان کے جاہ وجلال میں اضافہ ہوا، عبادت کے لئے سازگار ماحول ملا، دھڑلے سے پھر مسلمانوں نے طواف کعبہ کیا ۔حضرت سیدناامیر حمزہ بن عبد المطلب ہمیشہ اپنے بھتیجے اللہ کے رسول کی حمایت میں پیش پیش رہے ،آ پ ہی پہلے شخص تھے جنہوں نے سب سے پہلے عَلَم اسلام اٹھایا چنانچہ ہجرت کے پہلے سال رمضان المبارک میں 30 سواروں کی قیادت میں کفار کی سرکوبی کےلئے نکلے اگرچہ اس سریہ میں کوئی جنگ کا واقعہ پیش نہیں آیا لیکن تاریخ نے’’ سریہ حمزہ‘‘ کےنام سے اس واقعہ کو رقم کیا۔
(طبقات ابن سعد،ج3ص)
سید نا حمزہ بن عبد المطلب کاشمار حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان خاص اصحاب میں سے ہوتا ہے جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری یعنی مددگار، جانثار ہونا کا شرف ملا۔حضور علیہ الصلاۃ والتسلیم کے بارے حواریوں کے نام درجہ ذیل ہیں:
(۱)حضرت ابوبکر (۲)حضرت عمر (۳)حضرت عثمان (۴)حضرت علی (۵)حضرت حمزہ (۶)حضرت جعفر (۷) حضرت ابوعبیدہ بن الجراح (۸)حضرت عثمان بن مظعون (۹)حضرت عبدالرحمن بن عوف (۱۰)حضرت سعد بن ابی وقاص (۱۱)حضرت طلحہ بن عبیداللہ (۱۲)حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ کہ ان مخلص جاں نثاروں نے ہر موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت و حمایت کا بے مثال ریکارڈ قائم کردیا۔
ہجرت کے دو سرے سال معرکہ حق وباطل غزوہ بدر میں امیر حمزہ کی شجاعت اور بہادری دیدنی تھی،سر پر شتر مرغ کی کلغی سجائے دونوں ہاتھو ں میں تلوار لئے کفار سے نبرد آزما ہونے کےلئے میدان میں نکلے اور ہر آنے والے مد مقابل کو پچھاڑ ا کئی دشمنان اسلام رؤسائے مکہ کو واصل جہنم کیا ،آپ دوران جنگ اعلان کرتے تھے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کا شیر ہوں۔
غزوہ بد میں شکست فاش کے بعد کفار مکہ ایک بار پھر پہلے سے زیادہ کی تعداد میں اہل ایمان سے اپنے مقتولوں کا بدلنے لینے کےلئے میدان احد میں اترے۔لشکر کفار کی تعداد تین ہزار جن میں سات سو زرہ پوش، دوسو گھوڑے سوار ،تین ہزار اونٹ اور پندرہ عورتیں تھیں جو مقتولین بد ر کی یاد دلاکر لڑائی پر ابھارتی تھیں۔جبیر بن مطعم نے اپنے حبشی غلام وحشی کو یہ کہہ کر بھیجا تھاکہ اگر تم محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کے چچا حمزہ کو میرے چچا طعیمہ بن عدی کے بدلے قتل کردو تو میں تم کا آزاد کردوں گا۔
( سیرت رسول عربی،ص ۵۴)
چنانچہ ہجرت کے تیسرے سال ماہ شوال میں مسلما نوں اور کفارکے درمیان ایک بار پھر فیصلہ کن معرکہ عزوہ احد رونما ہوا۔ کفار مکہ کی طرف سے طلحہ نے جنگ کی ابتدا کی جس کو شیر خدا امیر المؤمنین حضرت علی ایک ہی وار میں واصل جہنم کیا پھر جب اس کا بھائی عثمان بن ابی طلحہ کروفر سے نکلا تو اس کے مقابلے میں حضرت حمزہ بن عبد المُطَّلِب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نکلے اور عثمان کے دو شانوں کے درمیان اس زور سے تلوار ماری کہ ایک بازو اور شانے کوکاٹ کر سرین تک جاپہنچی۔ حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ واپس آئے اور زبان پر یہ الفاظ تھے : اَنَا ابْنُ سَاقِی الحَجِیْج۔ میں ساقی حجاج (عبدالمُطَّلِب) کا بیٹا ہوں ۔
حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ انتہائی جوش جہاد میں دو دستی تلوار مارتے ہوئے آگے بڑھتے جا رہے تھے۔ اسی حالت میں ”سباع غبشانی” سامنے آ گیا آپ نے تڑپ کر فرمایا کہ اے عورتوں کاختنہ کرنے والی عورت کے بچے! ٹھہر، کہاں جاتا ہے؟ تواﷲ و رسول سے جنگ کرنے چلا آیا ہے۔یہ کہہ کر اس پر تلوار چلا دی،اور وہ دو ٹکڑے ہو کر زمین پر ڈھیر ہو گیا۔
وحشی” جو ایک حبشی غلام تھااور اس کا آقا جبیر بن مطعم اس سے وعدہ کر چکا تھا کہ تو اگر حضرت حمزہ رضیاﷲ تعالیٰ عنہ کو قتل کر دے تومیں تجھ کو آزاد کر دوں گا۔ وحشی ایک چٹان کے پیچھے چھپا ہوا تھااور حضرت حمزہ رضیاﷲ تعالیٰ عنہ کی تاک میں تھاجوں ہی آپ اس کے قریب پہنچے اس نے دور سے اپنا نیزہ پھینک کر مارا جو آپ کی ناف میں لگا۔ اور پشت کے پار ہو گیا۔ اس حال میں بھی حضرت حمزہ رضیاﷲ تعالیٰ عنہ تلوار لے کر اس کی طرف بڑھے مگر زخم کی تاب نہ لا کر گر پڑے اور شہادت سے سرفراز ہوگئے۔
(صحیح البخاری، کتاب المغازی ، ،الحدیث: ۴۰۷۲، ج۳،ص۴۱، سیرت مصطفی ،ص ۲۶۱،۲۶۲)
حضور صلیاﷲ تعالیٰ علیہ وسلم شہداء اُحد کی قبروں کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتے تھے ا ور آپ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کا بھی یہی عمل رہا۔ ایک مرتبہ حضور صلیاﷲ تعالیٰ علیہ وسلم شہداء احد کی قبروں پر تشریف لے گئے تو ارشاد فرمایا کہ اﷲ ! تیرا رسول گواہ ہے کہ اس جماعت نے تیری رضا کی طلب میں جان دی ہے، پھر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قیامت تک جو مسلمان بھی ان شہیدوں کی قبروں پر زیارت کے لئے آئے گا اور ان کو سلام کریگا تو یہ شہداء کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس کے سلام کا جواب دیں گے۔
چنانچہ حضرت فاطمہ خزاعیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ میں ایک دن اُحد کے میدان سے گزر رہی تھی حضرت حمزہ رضیاﷲ تعالیٰ عنہ کی قبر کے پاس پہنچ کر میں نے عرض کیا کہ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَاعَمَّ رَسُوْلِ اللہ (اے رسولاﷲ عزوجل و صلیاﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا !آپ پر سلام ہو) تو میرے کان میں یہ آواز آئی کہ وَعَلَیْکِ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُاﷲ وَبَرَکَاتُہ۔
چھیالیس برس کے بعد شہداء اُحد کی بعض قبریں کھل گئیں تو ان کے کفن سلامت اور بدن تروتازہ تھے اور تمام اہل مدینہ اور دوسرے لوگوں نے دیکھا کہ شہداء کرام اپنے زخموں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں اور جب زخم سے ہاتھ اٹھایا تو تازہ خون نکل کر بہنے لگا۔
) مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب چہارم ،ج۲،ص۱۳۵، سیرت مصطفی ، ص ۲۸۲،۲۸۳)
حدیث نمبر: 4072
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا حِمْصَ قَالَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي وَحْشِيٍّ نَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ قُلْتُ نَعَمْ. وَكَانَ وَحْشِيٌّ يَسْكُنُ حِمْصَ فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَقِيلَ لَنَا هُوَ ذَاكَ فِي ظِلِّ قَصْرِهِ، كَأَنَّهُ حَمِيتٌ. قَالَ فَجِئْنَا حَتَّى وَقَفْنَا عَلَيْهِ بِيَسِيرٍ، فَسَلَّمْنَا، فَرَدَّ السَّلاَمَ، قَالَ وَعُبَيْدُ اللَّهِ مُعْتَجِرٌ بِعِمَامَتِهِ، مَا يَرَى وَحْشِيٌّ إِلاَّ عَيْنَيْهِ وَرِجْلَيْهِ، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ يَا وَحْشِيُّ أَتَعْرِفُنِي قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لاَ وَاللَّهِ إِلاَّ أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّ عَدِيَّ بْنَ الْخِيَارِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً يُقَالُ لَهَا أُمُّ قِتَالٍ بِنْتُ أَبِي الْعِيصِ، فَوَلَدَتْ لَهُ غُلاَمًا بِمَكَّةَ، فَكُنْتُ أَسْتَرْضِعُ لَهُ، فَحَمَلْتُ ذَلِكَ الْغُلاَمَ مَعَ أُمِّهِ، فَنَاوَلْتُهَا إِيَّاهُ، فَلَكَأَنِّي نَظَرْتُ إِلَى قَدَمَيْكَ. قَالَ فَكَشَفَ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ أَلاَ تُخْبِرُنَا بِقَتْلِ حَمْزَةَ قَالَ نَعَمْ، إِنَّ حَمْزَةَ قَتَلَ طُعَيْمَةَ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ بِبَدْرٍ، فَقَالَ لِي مَوْلاَيَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ إِنْ قَتَلْتَ حَمْزَةَ بِعَمِّي فَأَنْتَ حُرٌّ، قَالَ فَلَمَّا أَنْ خَرَجَ النَّاسُ عَامَ عَيْنَيْنِ- وَعَيْنَيْنِ جَبَلٌ بِحِيَالِ أُحُدٍ، بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ وَادٍ- خَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ إِلَى الْقِتَالِ، فَلَمَّا اصْطَفُّوا لِلْقِتَالِ خَرَجَ سِبَاعٌ فَقَالَ هَلْ مِنْ مُبَارِزٍ قَالَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ يَا سِبَاعُ يَا ابْنَ أُمِّ أَنْمَارٍ مُقَطِّعَةِ الْبُظُورِ، أَتُحَادُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ شَدَّ عَلَيْهِ فَكَانَ كَأَمْسِ الذَّاهِبِ- قَالَ- وَكَمَنْتُ لِحَمْزَةَ تَحْتَ صَخْرَةٍ فَلَمَّا دَنَا مِنِّي رَمَيْتُهُ بِحَرْبَتِي، فَأَضَعُهَا فِي ثُنَّتِهِ حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ وَرِكَيْهِ- قَالَ- فَكَانَ ذَاكَ الْعَهْدَ بِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ النَّاسُ رَجَعْتُ مَعَهُمْ فَأَقَمْتُ بِمَكَّةَ، حَتَّى فَشَا فِيهَا الإِسْلاَمُ، ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى الطَّائِفِ، فَأَرْسَلُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولاً، فَقِيلَ لِي إِنَّهُ لاَ يَهِيجُ الرُّسُلَ- قَالَ- فَخَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: «آنْتَ وَحْشِيٌّ» . قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ: «أَنْتَ قَتَلْتَ حَمْزَةَ» . قُلْتُ قَدْ كَانَ مِنَ الأَمْرِ مَا بَلَغَكَ. قَالَ: «فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُغَيِّبَ وَجْهَكَ عَنِّي» . قَالَ فَخَرَجْتُ، فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ قُلْتُ لأَخْرُجَنَّ إِلَى مُسَيْلِمَةَ لَعَلِّي أَقْتُلُهُ فَأُكَافِئَ بِهِ حَمْزَةَ- قَالَ- فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ- قَالَ- فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي ثَلْمَةِ جِدَارٍ، كَأَنَّهُ جَمَلٌ أَوْرَقُ ثَائِرُ الرَّأْسِ- قَالَ- فَرَمَيْتُهُ بِحَرْبَتِي، فَأَضَعُهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ كَتِفَيْهِ- قَالَ- وَوَثَبَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ عَلَى هَامَتِهِ. قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ فَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ فَقَالَتْ جَارِيَةٌ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ وَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَتَلَهُ الْعَبْدُ الأَسْوَدُ.
مجھ سے ابو جعفر محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حجین بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن فضل نے، ان سے سلیمان بن یسار نے، ان سے جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوا۔ جب حمص پہنچے تو مجھ سے عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا، آپ کو وحشی (ابن حرب حبشی جس نے غزوہ احد میں حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا اور ہندہ زوجہ ابوسفیان نے ان کی لاش کا مثلہ کیا تھا) سے تعارف ہے۔ ہم چل کے ان سے حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں معلوم کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے ضرور چلو۔ وحشی حمص میں موجود تھے۔ چنانچہ ہم نے لوگوں سے ان کے بارے میں معلوم کیا تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ اپنے مکان کے سائے میں بیٹھے ہوئے ہیں، جیسے کوئی بڑا سا کپا ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم ان کے پاس آئے اور تھوڑی دیر ان کے پاس کھڑے رہے۔ پھر سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ بیان کیا کہ عبیداللہ نے اپنے عمامہ کو جسم پر اس طرح لپیٹ رکھا تھا کہ وحشی صرف ان کی آنکھیں اور پاؤں دیکھ سکتے تھے۔ عبیداللہ نے پوچھا: اے وحشی! کیا تم نے مجھے پہچانا؟ راوی نے بیان کیا کہ پھر اس نے عبیداللہ کو دیکھا اور کہا کہ نہیں، اللہ کی قسم! البتہ میں اتنا جانتا ہوں کہ عدی بن خیار نے ایک عورت سے نکاح کیا تھا۔ اسے ام قتال بنت ابی العیص کہا جاتا تھا پھر مکہ میں اس کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا اور میں اس کے لیے کسی دایا کی تلاش کے لیے گیا تھا۔ پھر میں اس بچے کو اس کی (رضاعی) ماں کے پاس لے گیا اور اس کی والدہ بھی ساتھ تھی۔ غالباً میں نے تمہارے پاؤں دیکھے تھے۔ بیان کیا کہ اس پر عبیداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹا لیا اور کہا، ہمیں تم حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعات بتا سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، بات یہ ہوئی کہ بدر کی لڑائی میں حمزہ رضی اللہ عنہ نے طعیمہ بن عدی بن خیار کو قتل کیا تھا۔ میرے آقا جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا کہ اگر تم نے حمزہ رضی اللہ عنہ کو میرے چچا (طعیمہ) کے بدلے میں قتل کر دیا تو تم آزاد ہو جاؤ گے۔ انہوں نے بتایا کہ پھر جب قریش عینین کی جنگ کے لیے نکلے۔ عینین احد کی ایک پہاڑی ہے اور اس کے اور احد کے درمیان ایک وادی حائل ہے۔ تو میں بھی ان کے ساتھ جنگ کے ارادہ سے ہو لیا۔ جب (دونوں فوجیں آمنے سامنے) لڑنے کے لیے صف آراء ہو گئیں تو (قریش کی صف میں سے) سباع بن عبدالعزیٰ نکلا اور اس نے آواز دی، ہے کوئی لڑنے والا؟ بیان کیا کہ (اس کی اس دعوت مبازرت پر) امیر حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نکل کر آئے اور فرمایا، اے سباع! اے ام انمار کے بیٹے! جو عورتوں کے ختنے کیا کرتی تھی، تو اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے آیا ہے؟ بیان کیا کہ پھر حمزہ رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کیا (اور اسے قتل کر دیا) اب وہ واقعہ گزرے ہوئے دن کی طرح ہو چکا تھا۔ وحشی نے بیان کیا کہ ادھر میں ایک چٹان کے نیچے حمزہ رضی اللہ عنہ کی تاک میں تھا اور جوں ہی وہ مجھ سے قریب ہوئے، میں نے ان پر اپنا چھوٹا نیزہ پھینک کر مارا، نیزہ ان کی ناف کے نیچے جا کر لگا اور ان کی سرین کے پار ہو گیا۔ بیان کیا کہ یہی ان کی شہادت کا سبب بنا، پھر جب قریش واپس ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ واپس آ گیا اور مکہ میں مقیم رہا۔ لیکن جب مکہ بھی اسلامی سلطنت کے تحت آ گیا تو میں طائف چلا گیا۔ طائف والوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک قاصد بھیجا تو مجھ سے وہاں کے لوگوں نے کہا کہ انبیاء کسی پر زیادتی نہیں کرتے (اس لیے تم مسلمان ہو جاؤ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد تمہاری پچھلی تمام غلطیاں معاف ہو جائیں گی) چنانچہ میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہوا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور آپ نے مجھے دیکھا تو دریافت فرمایا، کیا تمہارا ہی نام وحشی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ہی نے حمزہ کو قتل کیا تھا؟ میں نے عرض کیا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملے میں معلوم ہے وہی صحیح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: کیا تم ایسا کر سکتے ہو کہ اپنی صورت مجھے کبھی نہ دکھاؤ؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں وہاں سے نکل گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جب وفات ہوئی تو مسیلمہ کذاب نے خروج کیا۔ اب میں نے سوچا کہ مجھے مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں ضرور شرکت کرنی چاہیے۔ ممکن ہے میں اسے قتل کر دوں اور اس طرح حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا بدل ہو سکے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں بھی اس کے خلاف جنگ کے لیے مسلمانوں کے ساتھ نکلا۔ اس سے جنگ کے واقعات سب کو معلوم ہیں۔ بیان کیا کہ (میدان جنگ میں) میں نے دیکھا کہ ایک شخص (مسیلمہ) ایک دیوار کی دراز سے لگا کھڑا ہے۔ جیسے گندمی رنگ کا کوئی اونٹ ہو۔ سر کے بال منتشر تھے۔ بیان کیا کہ میں نے اس پر بھی اپنا چھوٹا نیزہ پھینک کر مارا۔ نیزہ اس کے سینے پر لگا اور شانوں کو پار کر گیا۔ بیان کیا کہ اتنے میں ایک صحابی انصاری جھپٹے اور تلوار سے اس کی کھوپڑی پر مارا۔ انہوں (عبدالعزیز بن عبداللہ) نے کہا، ان سے عبداللہ بن فضل نے بیان کیا کہ پھر مجھے سلیمان بن یسار نے خبر دی اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ (مسیلمہ کے قتل کے بعد) ایک لڑکی نے چھت پر کھڑی ہو کر اعلان کیا کہ امیرالمؤمنین کو ایک کالے غلام (یعنی وحشی) نے قتل کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4072]
WhatsApp us