

بینک سے گاڑی یا گھر لینے میں پاکستان میں یا باہر ملک میں اختلاف ہے اس کے اندر علمأ کا کہ بینک سے کسی قسم کا بھی کام کرنا جائز نہیں ہے اور دو صورتیں انہوں نے اس کی بتائی ہیں اور دونوں صورتیں جائز نہیں ہے اور کچھ علمأ فرماتے ہیں کے جائز ہے لیکن اس کی ایک صورت ہے
بہتر تو اس کے اندر یہی ہے کہ انسان بالکل بینک سے کام نہ کریں لیکن اگر کوئی بہت زیادہ مجبوری ہے تو پھر وہ جو ایک صورت جو اس میں بتلائی گئی ہے پھر اس کے اوپر عمل کرے اور وہی صورت اپنائیں
بینک سے گاڑی خریدنے میں درج ذیل دو شرعی قباحتیں ہیں، جن کی وجہ سے بینک سے قسطوں پر گاڑی لینا جائز نہیں:
1- پہلی قباحت یہ ہے کہ بینک سے خریدنے والے اور بینک کے درمیان معاہدہ کے تحت دو عقد ہوتے ہیں، ایک بیع (خریدوفروخت) اور دوسرا اجارہ (کرایہ داری) ، اور یہ طے پاتاہے کہ اقساط میں سے اگر کوئی قسط وقتِ مقررہ پر جمع نہیں کرائی گئی تو خریدار بینک کی جانب سے مقرر ہ جرمانہ ادا کرنے کا پابند ہوگا، جو کہ شرعاً جائز نہیں، جیساکہ فتاوی شامی میں ہے:
2- دوسری قباحت یہ ہے کہ بینک سے قسطوں پر خریدتے وقت دو عقد بیک وقت ہوتے ہیں، ایک بیع کا عقد ہوتا ہے جس کی بنا پر خریدار پر قسطوں کی ادائیگی واجب ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ ہی اجارہ ( کرائے ) کا عقد بھی ہوتا ہے، جس کی بنا پر بینک خریدار سے ہر ماہ کرایہ بھی وصول کرتا ہے، اور یہ دونوں عقد ایک ساتھ ہی کیے جاتے ہیں جو کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل فرمان کی وجہ سے ناجائز ہیں:
“عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: نهي رسول الله صلي الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة.رواه مالك و الترمذي و أبوداؤد و النسائي.و عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: نهی رسول الله صلي الله عليه وسلم عن بيعتين في صفقة واحدة. رواه في شرح السنة.”
پس مذکورہ بالا شرعی قباحتوں کی بنا پر بینک سے لیزنگ پر گاڑی لینا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم
بینک سے گاڑی یا گھر لینے کی جائز صورت
ادھار متعینہ قسطوں پر سامان بیچنا اور ادھار کی وجہ سے اصل قیمت میں کچھ فیصد اضافہ کردینا شرعی اعتبار سے بلاشبہ جائز ہے ؛ البتہ مجلس عقد میں نقد یا ادھار میں سے کسی ایک پر اتفاق ضروری ہے ، ادھار کی صورت میں نقد کے مقابل جو اضافی رقم گاہک ادا کررہا ہے وہ شرعاً سود نہیں؛ بلکہ قیمت ہی کا حصہ ہے
البیع مع تأجیل الثمن وتقسیطہ صحیح، یلزم أن تکون المدّة معلومة فی البیع بالتأجیل والتقسیط (شرح المجلة، رقم المادة: ۲۴۵، ۲۴۶) والثمن ما تراضی علیہ المتعاقدان سواء زاد علی القیمة أو نقص (رد المحتار علی الدر المختار: /۷ ۱۲۲، مطلب فی الفرق بین القیمة والثمن، ط: زکریا)
اگر بینک یہی صورت اختیار کرے کہ پہلے بینک خود گاڑی خریدے اور پھر نفع لے کر زائد قیمت میں فروخت کردے اور خریدار قسطوں پر رقم کی ادائیگی کردے تو اس طور پر معاملہ کرنا جائز ہوگا؛لیکن بینک والے اس طور پر معاملہ نہیں کرتے ؛بلکہ خریدار کی طرف سے یکمشت رقم اداکرکے خود خریدار سے سود کے ساتھ رقم وصول کرتے ہیں جوشرعاً سودی معاملہ ہے اورحرام ہے ،اگر ۵۵/لاکھ کی گاڑی کو آپ ۶۸/لاکھ میں کمپنی یا کسی شخص سے خریدیں تویہ معاملہ جائز ہوگا بشرطیکہ مدت اور قسط کی وضاحت کردی جائے ؛لیکن بینک سے مذکورہ بالا طریقے کے مطابق معاملہ کرنا جائز نہ ہوگا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
WhatsApp us